Code : 1523 39 Hit

انہدام جنت البقیع ایک تاریخی المیہ(1)

بقیع پر احتجاجات کا سلسلہ پوری دنیا میں جاری ہے اور رہے گا۔اس موقع پر اس کتاب کی اشاعت کے ساتھ اس احتجاج میں حصہ لینے والے، اس کا انتظام کرنے والے اور اس طرح کے کسی طرح کا احتجاج کرنے والے پوری دنیا کے افراد کا شکریہ کے مستحق ہیں امید ہے کہ ایک دن یہ احتجاجات ضرور رنگ لائیں گے اور سعودی حکومت کے خاتمہ کے ساتھ جنت البقیع پر عالیشان روضے تعمیر ہوںگے جو پوری دنیا کی علمی، دینی، سماجی، اقتصادی، سیاسی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے رحمت، مغفرت، برکت، عزت اور سربلندی کا سامان فراہم کریں گے۔پروردگار عالم وہ دن ہم سب کو دیکھنا نصیب ہو جس دن دشمنان اسلام سرنگوں ہوں۔پرچم اسلام سربلند ہو ۔

ولایت پورٹل: تمام تعریفیں خدائے وحدہ لا شریک کے لئے جو ہر قسم کے عیب و نقص سے منزہ اور ہر صفت کمال و جمال سے آراستہ ہے۔ وہ قدیم، قادر، حی، ازلی ، ابدی، صاحب ارادہ اور سچا ہے۔ وہ جسم و جسمانیات سے مبرا زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے وہ ہر جگہ اور ہر زمانے میں موجود ہے، وہ کسی چیز میں سماتا نہیں اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اس کی توحید کا اقرار علامت ایمان اور اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا کفر و شرک اور اعمال کی تباہی ہے۔
درود و سلام علمبردار وحدانیت، معلم انسانیت فخر کائنات زینت موجودات، حبیب کبریا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جنہوں نے کفر و بت پرستی میں ڈوبی ہوئی ظلم وستم کا شکار، بشریت کو ذلت و پستی سے نجات دیکر صرف ایک مالک حقیقی کا بندہ بنانے کا بیڑا اٹھایا اور اس راہ میں اپنے قبیلہ کے افراد سے لیکر غیروں تک کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے اپنا عزیز وطن چھوڑا اور سراپا رحمت ہوتے ہوئے زندگی کا اہم ترین حصہ میدان جنگ میں گذارنا پڑا سب کچھ قربان کردیا لیکن پرچم توحید سرنگوں نہ ہونے دیا۔
درود و تحیت آپ کی پاکیزہ نسل خاص طور پر ولی خدا عزیز مصطفیٰ حضرت علی مرتضیٰ پر جنہوں نے آنکھ کھولی تو آغوش رسول میں پرورش پائی تو نبی(ص) کی گود میں بچپنا گذرا تو نبی اکرم(ص) کے زیر تربیت اور نوجوانی و جوانی غرض کہ پوری کی پوری حیات رسول اللہ(ص) کے سایہ میں بسر کی۔ آپ کے بعد آپ کی تجہیز و تکفین کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ آپ کے پیغام توحید و رسالت کی حفاظت اور اسے آگے بڑھانے کا بیڑا اٹھایا اور اس سلسلہ میں  حق خلافت کے غصب سے لیکر اپنی شریک حیات بنت رسول(ص) کی ملکیت فدک کے غصب کئے جانے تک  ہر طرح کے مناظر دیکھے۔ یہی نہیں اپنے دروازہ پر آگ اور لکڑیاں ، جلتا ہوا دروازہ، محسن کی شہادت، پہلوئے سیدہ(س) کی شکستگی اور نہ جانے کیا کیا مصائب برداشت کئے، لیکن عظمت اسلام پر آنچ آجائے اسے برداشت نہیں کیا اور نبی اکرم(ص) کے مختصر سے صالح اصحاب کے ساتھ دین و دیانت کا پرچم بلند کئے رہے۔اسلامی تاریخ میں نبی اکرم(ص) کی حیات اور آپ کی وفات کے بعد کے تاریخی واقعات کو چشم بصیرت سے دیکھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ یہ سمجھ سکے کہ سیاستوں کے پیش نظر کس طرح حقائق میں انحراف کیا جاتا ہے اور کس طرح اپنی من مانی کے لئے غلط نظریات قائم کئے جاتے ہیں اور پھر ان کے لئے جھوٹی دلیلیں تیار کی جاتی ہیں۔
پیغمبر اسلام(ص) نے انسانیت کے سامنے کلام الٰہی کی صورت میں وہ زندہ اور لافانی معجزہ پیش کیا جو ہر دور کے لئے ہدایت کا ذریعہ اور رہنما ہے اس کی صحیح تفسیر اور وضاحت کے لئے اہل بیت اطہار علیہم السلام جیسی ذوات مقدسہ پیش کیں جن میں سر فہرست امیر کائنات تلمیذ رسول حضرت امام علی علیہ السلام ہیں جنہوں نے نبی اکرم(ص) سے اس طرح علم حاصل کیا ہے جیسے چڑیا کا بچہ اپنی ماں سے دانہ لیتا ہے۔پروردۂ آغوش نبوت کے علاوہ قرآن مجید اور نبی اکرم(ص)کے اقوال و ارشادات کی نشاندہی اور ان کی وضاحت بھلا اور کون کر سکتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے منصب خلافت پر فائز اصحاب سے لیکر پوری امت اسلامیہ آپ کے علم و حکمت سے بہرہ مند ہو رہی تھی۔
اور اس طرح نبی اکرم(ص) کی حیات سے لیکر آپ کے بعد آپ کے ظاہری اور حقیقی جانشینوں کے درمیان ایک عرصہ تک صرف اور صرف آپ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی کوششیں جاری رہیں جس سے صاحبان مطالعہ بخوبی واقف ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ درپردہ کچھ ناپاک عناصر قرآن مجید کی غلط تفسیر کرکے اپنے ناحق کو حق ثابت کرنے کی فکر میں تھے اس سلسلہ میں حدیثوں پر پابندی لگانے سے لیکر حدیثیں گڑھنے تک کے تاریخی شواہد موجود ہیں۔ سیاسی مفاد پرستی کے اس دور سے حقیقی اسلام کا صحیح چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اس لئے کہ اس دور میں اسلامی دنیا نے اسلام کا ایک ایسا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جس نے اسلام سے نفرت کا ماحول فراہم کر دیا۔ وہابیت، طالبانیت، داعش اور نہ جانے کتنے اسلامی چہرے بنے ہوئے افراد صرف اور صرف اسلام کو بدنام کرنے کی فکر میں ہیں جو سب کے سب حقیقت میں استعماری طاقتوں کے اشارہ پر اسلام کی طرف رجحان نہ پیدا ہونے دینے کے منصوبہ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ماضی سے لیکر آج تک استعماری طاقتوں نے اپنے منحوس مقاصد کے لئے دین کا سہارا لیا ہے چاہے وہ ایران میں بہائیت کے نام پر ہو یا غیر منقسم ہندوستان میں قادیانیت کی صورت میں یا برطانوی سامراج کے اشارے پر پوری عرب دنیا میں وہابیت کی شکل میں۔ایسے حالات میں ایک حقیقی مسلمان وہ چاہے شیعہ ہو یا سنی۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ استعماری سازشوں کی طرف متوجہ رہے حق کو ناحق سے مشتبہ نہ کرے، اسلام کے نام پر غیر اسلامی طریقہ کار کا طرفدار نہ بنے۔اسلام کے چہرہ سے ناپسندیدگی کی نقاب ہٹا کر اسے ایک دلچسپ پر کشش دین کی طرح دنیا کے سامنے پیش کرے جہاں توحید پروردگار کے ساتھ ساتھ تمام مخلوقات عالم کے حقوق کی رعایت کی گئی ہو۔
قرآن مجید کے سورہ ملک میں اپنی حکومت و اقتدار کے تذکرہ کے بعد موت و حیات کی خلقت کا تذکرہ کیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ خلاق عالم نے جس طرح حیات کے لئے قوانین و ضوابط معین کئے ہیں بالکل اسی طرح موت کے لئے بھی جامع دستور العمل ہے۔ اور موت فنا کے بجائے ایک زندہ حقیقت ہے جو اعمال و آزمائش کے لئے ایک حقیقت کے طور پر مخلوق پروردگار ہے۔ موت کے بعد انسان پتھر، مٹی یا بت نہیں بن جاتا بلکہ اس کی دنیاوی حیات کی طرح ہی اس کی آخروی زندگی کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔مرنے والا اپنی دنیاوی حیات کی طرح اس اخروی زندگی میں بھی اسی عزت و احترام کا حامل رہتا ہے۔ چنانچہ پیغمبر اسلام(ص) کی تعلیمات کی روشنی میں قبروں کا احترام امت اسلامیہ کا طریقہ کار رہا ہے خود پیغمبر اسلام(ص) کی تدفین کے بعد آپ کے پہلو میں ابتدائی دونوں خلفاء کے دفن کی فرمائش یا تدبیر بعد وفات حرمت رسول(ص)  کی دلیل ہے لیکن افسوس ساتویں صدی ہجری میں ابن تیمیہ نامی ایک فریب خوردہ شخص کی طرف سے مقدس قبروں کے احترام کا انکار اور پھر اس کے شاگرد ابن قیم کی طرف سے قبروں پر تعمیر کو منہدم کرنے کا فتویٰ عالم اسلام کے لئے مصیبت بن گیا۔ اگرچہ اس جاہلانہ پر فریب فتویٰ پر صاحبان عقل و شعور نے کبھی توجہ نہیں دی چنانچہ بارہویں صدی ہجری تک بلا کسی اختلاف اور شبہہ کے پوری اسلامی  یہاں تک کہ مکہ اور مدینہ میں قبے تعمیر رہے اور مقدس مزارات امت مسلمہ کے لئے ہدایت، برکت اور احترام کا مرکز رہے لیکن تیرہوئیں صدی میں ترکی میں مرکزی اسلامی حکومت کے خاتمہ کے حالات میں اس کی جڑیں کمزور کرنے کے لئے برطانوی سامراج کو ایک متبادل اسلامی حکومت کی ضرورت کا احساس ہوا جو امت مسلمہ میں اختلافات کی آگ بھڑکا کر کسی بھی صورت میں امت کو ایک مرکز پر متحد نہ ہونے دے لہٰذا اس نے ابن تیمیہ کے سڑے ہوئے بدبودار نظریہ پر موجودہ ترقی یافتہ میکپ کے ذریعہ اسے بظاہر صاف ستھرا دکھاکر امت مسلمہ کو اس کی جانب متوجہ کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اس سلسلہ میں اس کی نظر حجاز مقدس کی سرزمین پر گئی جہاں محمد ابن عبد الوہاب جیسا کم پڑھا لکھا لیکن کچھ الگ کر دکھانے کے جذبہ سے سرشار جوان دکھائی دیا جس نے شہرت کی خاطر کچھ بھی کر گذرنے کے جذبہ کو بروئے کار لاتے ہوئے استعماری سازشوں کی حمایت کی حامی بھری اس کے لئے اقتدار چاہئے تھا لہٰذا درعیہ کے حاکم سعود کو اقتدار کی کمان دے کر حکومت کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور دین و سیاست کے نام پر ایک دوسرے سے الگ کرکے سیاسی فائدہ اٹھایا جاتا رہا۔ اس طرح ایک نئی فکر کے ساتھ اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا مرحلہ آیا جس میں ابتدا میں شدت دکھائی گئی تاکہ ساری دنیا اس نئے نظریہ کی طرف متوجہ ہو جائے۔ چنانچہ مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں تعمیر مقدس مزارات پر بنے ہوئے قبے منہدم کئے جانا اسی سازش کا نتیجہ تھے۔ جہاں اصحاب رسول اولاد رسول ازواج رسول(ص) اور شہدائے اسلام کے مزارات تھے۔ اس کے علاوہ اسلامی فتوحات کی یاگار مساجد اور نہ جانے کتنی اہم مقدس یادگاریں تھیں جنہیں مٹا کر اسلامی ثقافت کو نابود کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ یہی نہیں اس کے علاوہ نجف اشرف، کربلائے معلی تک پر چڑھائی کی گئی لیکن وہاں کی غیرت دار اقوام روضوں کو منہدم کرنے کی راہ میں حائل ہوگئیں اگرچہ اس سلسلہ میں بہت سا جانی و مالی نقصان ہوا اس طرح عالم اسلام میں وہابیت کے نام پر ایک نیا فتنہ وجود میں آیا جس نے تقریباً ڈیڑھ صدی میں طالبانیت اور داعش جیسی شکل اختیار کرلی۔دنیا شاہد ہے کہ اس وقت کی وحشیانہ دہشت گردی کو اسلام کے نام سے جوڑنے میں سب سے اہم کردار اس وہابیانہ طرز عمل کا ہے داعش کی طرف سے پوری دنیا میں دہشت گردانہ حملے جو عالمی استعمار اور اس کے غلام وہابی حکمرانوں کے اشاروں پر انجام دیئے جاتے ہیں تاکہ اسلام کو بد نام کرکے اس سے نفرت کا ماحول پیدا کر سکیں.وہابی حکمراں اور ان کے زر خرید درباری علماء اپنے ان وحشیانہ اعمال پر اسلام کی نقاب ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ پوری دنیا میں آباد برادران اہل سنت کے سامنے اپنے مذہب کو اہل سنت کے نام پر پیش کر سکیں۔ بظاہر صاف ستھرے لباس سے ڈھکی ہوئی یہ بدبودار فکر بہت جلدی دولت و شہرت کا سہارا لیکر مسلمان بستیوں کو اپنی چپیٹ میں لے لیتی ہے لہٰذا ضرورت ہے کہ اس کے مقابلے کے لئے ان کی کھوکھلی دلیلوں کی حقیقت واضح کی جائے اور صدر اسلام سے لیکر آج تک کے مسلمان۔ جن میں صحابہ تابعین آئمہ معصومین(ع)، علماء، فقہاء، اولیاء، خاصان خدا سب شامل ہیں۔ ان کے طرز عمل کا جائزہ لیکر قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے تاکہ وہابیت کے چہرہ پر پڑی ہوئی اسلام کی نقاب کو ہٹاکر اس کا اصل مکروہ چہرہ دنیا کو دکھایا جاسکے اور اس طرح حقیقی اسلام کی تصویر دنیا کے سامنے پیش ہوسکے جہاں توحید الٰہی کے سایہ میں تمام باحیات اور دنیا سے بظاہر کوچ کر جانے والی شخصیتوں کا یکساں احترام ملحوظ رہا ہے۔ بزرگان دین کے مزارات ان کی تعلیمات کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں عمارتوں سے ثقافتیں زندہ رہتی ہیں مسلمانوں کے جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کا سامان فراہم ہوتا ہے اور دین اسلام واقعی ایک امن و امان کا علمبردار بھائی چارے کا مذہب دکھائی دیتا ہے جس میں ہر مخلوق کے حقوق کی حفاظت اور اس کا  پورا پاس و لحاظ رکھا جاتا ہے۔
 اس مختصر سی تحریر میں جنت البقیع کی مختصر تاریخ قبروں پر تعمیر کا شرعی حکم۔ اس سلسلہ میں قرآن و سنت کے پیغامات کے علاوہ قبروں کی زیارت کے فائدے اور اس کی شرعی حیثیت پر بھی مختصر بحث کی جائے گی تاکہ قارئین کرام صحیح اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے عقائد و اعمال کا جائزہ لیں اور وہابیوں کے ان سیاہ کارناموں سے واقف ہوکر دھوکہ نہ کھائیں اور حقیقی اسلام سے دور نہ ہوں۔
بقیع پر احتجاجات کا سلسلہ پوری دنیا میں جاری ہے اور رہے گا۔اس موقع پر اس کتاب کی اشاعت کے ساتھ اس احتجاج میں حصہ لینے والے، اس کا انتظام کرنے والے اور اس طرح کے کسی طرح کا احتجاج کرنے والے پوری دنیا کے افراد کا شکریہ کے مستحق ہیں امید ہے کہ ایک دن یہ احتجاجات ضرور رنگ لائیں گے اور سعودی حکومت کے خاتمہ کے ساتھ جنت البقیع پر عالیشان روضے تعمیر ہوںگے جو پوری دنیا کی علمی، دینی، سماجی، اقتصادی، سیاسی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے رحمت، مغفرت، برکت، عزت اور سربلندی کا سامان فراہم کریں گے۔پروردگار عالم وہ دن ہم سب کو دیکھنا نصیب ہو جس دن دشمنان اسلام سرنگوں ہوں۔پرچم اسلام سربلند ہو اور پوری دنیا کے مستضعف اور کمزور افراد کو ان کا حق مل سکے۔ دنیا کو عدل و انصاف سے پُر کرنے والا زمانے کا معصوم امام(ص) نگاہوں کے سامنے ہو اور ہم سب ان کے دیدار کے جلوے سے بہرہ مند ہو رہے ہوں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: سید حمید الحسن زیدی
٣؍شوال المکرم ١۴۴۰ ہجری


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम