Code : 1721 6 Hit

حج کے سیاسی پہلو پرعمل کرنا شرعی فریضہ ہے: رہبر معظم

رہبر معظم نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ادارہ حج کے عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:حج کے سیاسی پہلو پرعمل کرنا شرعی فریضہ اور عبادت ہے۔

ولایت پورٹل:رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ادارہ حج کے عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کے دوران فرمایا کہ فریضہ حج ایک ایسی غیر معمولی اور ممتاز اہمیت کی حامل عبادت ہے جس پر اسلام نے خاص توجہ دی ہے،امام خامنہ ای نے حج کو عظیم اور برتر اسلامی معاشرے اور نئی اسلامی تہذیب کا ایک چھوٹا سا نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ حج میں مادی زندگی کی پیشرفت کے ساتھ ساتھ اخلاقی، معنوی اور روحانی عروج نیز تضرع و خشیت الہی کا شاندار مظاہرہ ہوتا ہے،رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ حاجیوں کی سکیورٹی اور حفاظت کی سنگین ذمہ داری سعودی حکومت پر ہے اور سعودی حکومت کو چاہئے کہ وہ خوف وہراس سے عاری ماحول بناکر حاجیوں کی عزت و وقار کا تحفظ کرے،آپ نے اتحاد بین مسلمین، مظلوموں کی حمایت اور مشرکین سے برائت و بیزاری جیسے حج کے سیاسی مفاہیم کو عملی جامہ پہنانے کو ضروری قرار دیا،رہبر نے فرمایا کہ حج میں معنوی جلوؤں کے ساتھ ساتھ اسلام کی اجتماعی اور سماجی حیات کا جلوہ بھی سامنے آتا ہے جن میں اتحاد و اخوت اور رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر یکسانیت کا عنصر سب سے اہم ہے،آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نےفرمایا کہ حج کا سیاسی پہلو اس اہم فریضے کی اہم ترین خصوصیت ہے آپ نے فرمایا کہ بعض افراد یہ کہتے ہیں کہ حج کو سیاسی نہ بنایا جائے جبکہ یہ غلط ہے کیونکہ حج کے سیاسی پہلو اسلام کے احکام اور تعلیمات سے ہی عبارت ہیں،رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ مسلمانوں کے مابین اتحاد اور فلسطین و یمن جیسے مظلوموں کی حمایت یا مشرکین سے نفرت و بیزاری کا اعلان یہ سب سیاسی امور ہیں جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں بنابریںحج کے سیاسی پہلو پر عمل کرنا شرعی فریضہ اور عبادت ہے آپ نے فرمایا کہ حج کے دوران دینی سیاست کے دوران غیر دینی سیاسی اور شیطانی اقدامات بھی انجام دینے کی کوشش کی جاتی ہے چنانچہ کہا جاتا ہے کہ حج کے دوران امریکہ پر اعتراض نہ کیا جائے یا مشرکین سے برائت و بیزاری کا اعلان نہیں ہونا چاہئے،رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ مشرکین سے برائت ایک اسلامی فریضہ اور ایک ضروری عمل ہے اسی لئے ہم اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ مشرکین سے برائت کا پروگرام ہر سال بہت ہی اچھے اور موثرانداز میں منعقد کیا جائے،رہبرمعظم نے فرمایا ہے کہ حاجیوں کی سیکورٹی اور حفاظت کی سنگین ذمہ داری سعودی حکومت پر ہے اور سعودی حکومت کو چاہئے کہ وہ ہرطرح کے خوف وہراس سے عاری ماحول بناکر حاجیوں کی عزت و وقار کا تحفظ کرے،آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسلامی حقائق سے امریکا اور دیگر سامراجی طاقتوں کی دشمنی و عداوت کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ مسلم اقوام پر عالمی منہ زور طاقتوں کی وحشیانہ سیاسی، سماجی، ثقافتی اقتصادی اور سیکورٹی یلغار اسلامی تعلیمات سے ان کی گہری دشمنی کو ظاہر کرتی ہے،رہبرمعظم نے فرمایا کہ اسلامی حقائق و معارف سامراجی طاقتوں کی ظالمانہ سرشت و ماہیت کی مخالف ہیں، آپ نے فرمایا کہ اسلامی شریعت اور شریعت کے بنیادی اصولوں پر اسلامی معاشروں کے کار بند رہنے اور منہ زور طاقتوں کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنے سے ہی امت اسلامیہ ترقی وپیشرفت کی منزلیں طے کرے گی اور سعادت و فلاح حاصل کرے گی،آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایاکہ باہمی تعاون اور مجاہدت کے ذریعے ہی مسلمان ترقی و پیشرفت کرکے ایک اچھا مستقبل سنوار سکتے ہیں اور خدا کے فضل سے ایرانی عوام اور امت اسلامیہ کے وحشی اور درندہ دشمن سرانجام اسلام کے مقابلے میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور اور ذلیل و رسوا ہوں گے۔
تسنیم


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम