Code : 4080 12 Hit

بیروت دھماکے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں:عراقی پارلیمنٹ ممبر

عراقی پارلیمانی اتحاد فتح کے نمائندے کا کہنا ہےکہ بیروت میں ہونے والے دھماکے کے پیچھے صیہونی حکومت کا ہاتھ ہونا بعیدنہیں ہے۔

ولایت پورٹل:بغداد الیوم کی رپورٹ کے مطابق عراقی پارلیمانی  اتحاد فتح کے رکن سعد السعداوی نے بدھ کے روز کہا کہ بیروت میں ہونے والے دھماکے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہے لیکن اس واقعے میں اسرائیلی حکومت کے ملوث ہونے کا امکان کم نہیں ہے، سعد السعداوی کا کہنا ہے کہ  بیروت واقعہ کی اصل وجہ اور تفصیلات پوری طرح سے ابھی منظر عام پر نہیں آئی ہیں  اور تحقیقات جاری ہیں لیکن یہ سوال باقی ہے کہ کیا بیروت کا واقعہ عراق میں الحشد الشعبی کے فوجی اڈوں پر ہوئے دھماکوں سے  مربوط  ہے یا نہیں؟ ۔
انہوں نے مزید کہاکہ ابھی تک ہمارے  پاس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ بیروت کے واقعے کا اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے  الحشد الشعبی اڈوں پر کیے جانے والےحملوں سے تعلق ہے یا نہیں لیکن بیروت دھماکے کے پیچھے اسرائیل کی موجودگی کا امکان کم نہیں ہےکیونکہ اسرائیلی غاصبوں کی لبنان ، شام یا عراق میں اس طرح کی کارروائیوں کی تاریخ ہے ۔
عراقی پارلیمنٹ میں صادقون اتحاد کے ایک رکن  محمد البلداوی نے آج کہا کہ بیروت کی بندرگاہ پر  ہونے والاخوفناک دھماکہ کوئی حادثہ نہیں تھا اور اس کے پیچھے متعد ہاتھ تھے ،کچھ ایسے شواہد موجود ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ اس کارروائی کے پیچھے صیہونی حکومت کا ہاتھ تھا۔
یادرہے کہ منگل کی شام بیروت کی بندرگاہ میں خوفناک دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں تازہ شائع اعدادوشمار کے مطابق  اس دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 137 اور زخمیوں کی تعداد 5 ہزار کے قریب افراد تک پہنچ چکی ہے جس کے بعد لبنان میں تین کے عام سوگ کا اعلان کیا گیا ہے،تاہم لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ نہیں تھا لیکن دھماکہ اتنا خوفناک تھا کہ کئی کلو میٹر دور واقع صعدہ شہر تک اس کی آواز سنائی دی گئی۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین