Code : 2316 72 Hit

عرب میں تیل کے کنوؤں اور سیاستدانوں کی حفاظت میں مصروف ہیں اسرائیلی کمپنیاں

اب ترکی فیصل کے دعوے کی حقیقت کو سمجھنا آسان ہوگیا ہے کہ آج ان کی بیان کردہ اصطلاح تبدیل ہوچکی ہے اب عربوں کی عقل نہیں بلکہ ان کا پیسہ اور اسرائیلی ذہن ایک ساتھ مل کر کام کررہے ہیں اور اس کا انجام ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ہر طرف آگ برس رہی ہے اور مسلمانون کے ہاتھوں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے!

ولایت پورٹل: رأی الیوم انٹرنیٹ سروسز کی رپورٹ کے مطابق یہ سن 2016 کی بات ہے جب سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ترکی فیصل نے اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل یعقوب عمیدر کے ساتھ واشنگٹن میں ملاقات کی تھی۔جسے امریکی تھنک ٹینک دی واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ آف نیر ایسٹ پالیسی نے کروائی تھی۔
ترکی فیصل نے اس ملاقات میں یہ بات کہی تھی کہ اگر عربوں کی عقل اور یہودیوں کا پیسہ ایک ساتھ مل جائے تو دنیا کی حالت ہی بدل جائے گی۔
لیکن آج سب کچھ اس کے برخلاف ہورہا ہے یہاں یہودی دماغ اور عربوں کا پیسہ سیاسی دنیا میں ایک اصطلاح بن گئی ہے اور جس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ آئے دن عربوں کو اپنی توہین، حقارت اور ذلت کے علاوہ کوئی اور چیز دیکھنے کو نہیں ملتی۔
صہیونی اخبار یدیھوت اہارونوٹ نے تل ابیب میں کچھ ماہرین کے حوالہ سے نقل کیا تھا کہ عرب حکومتیں اسرائیلی خفیہ ادارے کے سائبر پروگرامنگ ماہرین کی مدد لے رہی ہیں۔ اس اخبار کے مطابق بہت سے اسرائیلی انجینئر جنہوں نے اپنی ملٹری سروس کے دوران انٹلی جینس شعبہ سے سائیبر پروگرامنگ کی ٹرینگ لی ہے وہ اس وقت بہت موٹی رقم حاسل کرکے عربی ممالک کے لئے اپنی خدمات دے رہے ہیں۔
اس سے پہلے بھی اسرائیل میں اقتصادی خبر نشر کرنے والے ایک اخبار ’’دی مارکر‘‘ نے ڈارک نامی کمپنی کے بارے میں یہ رپورٹ شائع کی تھی کہ اس کمپنی کا تعلق اسرائیلی خفیہ ایجنسی سے ہے اور یہ خلیج فارس کے کسی عربی ملک میں کام کرتی ہے۔
اسرائیل انٹلی جینس کے اعلی افسر ریٹائرڈ ہوجانے کے بعد اپنی اپنی کمپناں بنا لیتے ہیں اور یہ کمپنیاں اسرائیل سے باہر دیگر ممالک میں خفیہ اطلاعات کا کام سنبھالتی ہیں۔
سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے وقت بھی میڈیا میں یہ خبر آئی تھیں کہ سعودی عرب سمیت کئی دیگر عربی ممالک اپنے صحافیوں اور میڈیا سے متعلق افراد کی نگرانی کرانے کے لئے اسرائیلی خفیہ اداروں کی مدد لے رہے ہیں۔
اب سابقہ بیان کی روشنی میں ترکی فیصل کے دعوے کی حقیقت کو سمجھنا آسان ہوگیا ہے کہ آج ان کی بیان کردہ اصطلاح تبدیل ہوچکی  ہے اب عربوں کی عقل نہیں بلکہ ان کا پیسہ اور اسرائیلی ذہن ایک ساتھ مل کر کام کررہے ہیں اور اس کا انجام ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ہر طرف آگ برس رہی ہے اور مسلمانون کے ہاتھوں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے!



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम