Code : 2603 52 Hit

مقبوضہ جولان کی نوعیت کو تبدیل کرنے کی اسرائیلی کوششیں غیر قانونی ہیں: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے ذریعہ جولان کی نوعیت کو تبدیل کرنے کے لئے غاصب صیہونی حکومت کی جانب سے استعمال ہونے والے تمام انتظامی اور قانون سازی اقدامات باطل اور کالعدم ہیں۔

ولایت پورٹل:شامی نیوز ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک بار پھر صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جولان سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے ، خاص طور پر1981میں پاس ہونے والی قرارداد نمبر497پر،قرارداد 407 کے مطابق ، صہیونی حکومت کے مقبوضہ جولان پر اپنے قوانین اور اپنی انتظامی و عدالتی انتظامیہ کو مسلط کرنے کا فیصلہ کالعدم ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کل "شام  کا مقبوضہ جولان" کے عنوان سے ایک قرار داد منظور کی ، جس میں 157 ممالک نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیے جبکہ 20ووٹ بے طرف رہے اور  صرف صیہونی حکومت اور امریکہ نے ہی اپنے دوووٹوں کے ذریعہ اس کی مخالفت کی،شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنی قرارداد میں اس بات پر بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت بین الاقوامی قانون نے زمینوں کو لوٹنے کے لئے طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دی،جنرل اسمبلی نے صیہونی حکومت اقبض قرار دیتے ہوئے اس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ  جولان آبادیاتی تناسب میں تبدیلی اور وہاں  ہاؤسنگ سیاق و سباق میں تبدیلی لانے نیز شام سے اس خطے کے لئے قانون بنانا خصوصا بستیوں کی تعمیر کو ترک کرے،جنرل اسمبلی نے اپنی قرارداد میں ، اس بات پر زور دیا کہ صیہونی حکومت کےجولان کی نوعیت کو تبدیل کرنے کے لئے بطور قبضہ کار انتظامی اور قانون سازی کے اقدامات  کالعدم ہیں ،صیہونی حکومت نے عدم تعمیل کی حمایت میں مجموعی بین الاقوامی قانون اور جنیوا معاہدہ  کی  کھلی خلاف ورزی کی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین