Code : 3561 6 Hit

اسرائیلی فوج حزب اللہ کے ساتھ زمینی جنگ کو ایک ڈراؤنا خواب سمجھتی ہے: صیہونی تجزیہ کار

ایک اسرائیلی فوجی تجزیہ کار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صیہونی فوج حزب اللہ کے جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے سے شدید خوف وہراس میں مبتلا ہے۔

ولایت پورٹل:صہیونی اخبار ہارٹز کے فوجی تجزیہ کار  اموس ہرییل نے صیہونی زمینی فوج کی نا اہلی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے  کہ "اسرائیل کی زمینی افواج متعدد مسائل سے دوچار ہیں جو کسی بھی تصادم کو ہلاکتوں کے خوف سے خوفناک خواب بنادیتے ہیں۔
انہوں نے صیہونی حکومت کے قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کے خلاف سنہ 2014 کی جنگ نے اسرائیلی زمینی فوج کی طاقت کا تجربہ کیا اور 2006 کی جنگ (33 روزہ جنگ) کی آخری مایوس کن کڑی تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ 33 روزہ جنگ جنگ میں شکست کے بعد اسرائیلی فوج نے بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اعلان کیا  اور یونٹوں نے مزید سنجیدہ تربیت حاصل کی ، اور  فوج نے نیا گولہ بارود حاصل کیا لیکن پھر بھی کئی تبدیلی نہیں آئی۔
دوسری جانب تل ابیب کے سکیورٹی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ صہیونی افسران بہت پریشانی اور گھبراہٹ کا شکار ہیں  کیونکہ وہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کی طاقت اور تجربے کو اپنی کمان کے ماتحت فوج سے کہیں زیادہ دیکھ رہے ہیں۔
مذکورہ ذرائع کا کہنا ہے کہ گہری تشویش یہ ہے کہ اسرائیلی زمینی فوج کو لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ ایک مکمل پیمانے پر جنگ میں جانے کو کہا جائے گا جس میں فتح کا کوئی امکان نہیں ہےاور بکتر بند یونٹوں کو خونی جنگ کی طرف راغب کیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی میڈیا رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنانی اور فلسطینی مزاحمتی جنگجوؤں سے زمینی تصادم سے بچنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کیونکہ وہ اس کے انجام سے گھبراتی ہے۔
 


 

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین