Code : 4049 7 Hit

صیہونی معاشہرہ شدید انتشار کا شکار ہوچکا ہے:صہیونی پولیس کا اعتراف

اسرائیلی پولیس کے ایک سینئر عہدہ دار جو کئی ہفتوں سے مسلسل صیہونی وزیر اعظم کے خلاف احتجاج کا سامناکر رہے ہیں ، نے ایک خفیہ میٹنگ کہا ہے کہ اسرائیل معاشرتی انتشار کی کیفیت میں ہے۔

ولایت پورٹل:یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس اور تل ابیب میں ہفتے کی شام کو بھی گذشتہ دنوں کی طرح اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا ، اسرائیل کے چینل 12 ٹیلی ویژن نے اتوار کی صبح خبر دی کہ اسرائیلی پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی ایک  خفیہ میٹنگ میں اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل معاشرتی بدامنی کا شکار ہوچکا ہے، صہیونی میڈیا نے مقبوضہ بیت المقدس میں 300 مقامات پر مظاہرے ہونے کی خبر دیتے ہوئے نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے سامنے مظاہرین کی تعداد کے بارے میں مختلف اعدادوشمار کی اطلاع دی ، اور کچھ کا تخمینہ 30000 تک ہے۔
یروشلم پوسٹ نے اسرائیلی پولیس میڈیا کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے سامنے بالفور اسٹریٹ پر مظاہرین کی تعداد 10000 سے 13000 کے درمیان بتائی گئی ہے،واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی بدعنوانی اور کارکردگی کے خلاف مقبوضہ بیت المقدس کا یہ سب سے بڑا مظاہرہ ہے۔
اگرچہ صہیونی پولیس نے ابتدائی طور پر یہ وعدہ کیا تھا کہ پچھلی راتوں کے برعکس ، وہ مظاہرین کے ساتھ پرتشدد سلوک نہیں کریں گے اور وہ انھیں پرامن مظاہرے جاری رکھنے کی اجازت دیں گے لیکن اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریلی کے اتوار کی صبح کے تک جاری رہنے کی وجہ سے سکیورٹی فورسز نے دوبارہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا نیز اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے قریب پیرس اسکوائر سے کم از کم آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین