Code : 2434 89 Hit

اسرائیل کی آخری سانسیں(ایک تجزیہ)

لبنانی قلمکار کا کہنا ہے اب تو اسرائیلیوں کو بھی اس بات کا یقین ہوگیا ہے کہ انھیں نہ اب اپنی فوج بچا سکتی ہے اور نہ ہی امریکی فوج بچا سکتی ہے۔

ولایت پورٹل:لبنانی اخبار البناء کے کالم نگار محمد صادق الحسینی نے اسرائیل ختم ہونے والا ہے کے عنوان سے اپنے کالم میں لکھا ہے ہمیں بہت ساری ایسی علامتیں دکھائی دے رہی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے یہ غاصب اور غیرقانونی ریاست اپنی آخری سانس سے لے رہی ہے۔
الحسینی نے ان علامتوں میں سے ایک علامت یہ لکھی ہے کہ خود صہیونیوں کو بھی یقین ہوچکا ہے کہ اسرائیل کمزور ہوگیا ہے اس لیے کہ عبری زبان میں شائع ہونے والے اخبار ہارٹز کے نامہ نگار روگل آلورنے دو دن پہلے ایران اور اسرائیل کی جنگ کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ امریکا میں سابق اسرائیلی سفیر مایکل اورن نے امریکی ایٹلانٹک ریسرچ سینٹر کی ویب سائیٹ کو دیئے جانے والے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اسرائیلیوں کو ڈرنے کا حق ہے اس لئے کہ 1973 سر کی جنگ حزب اللہ اور ایران کے ساتھ ہونے والی ممکنہ جنگ کے مقابلے میں ایک کھیل ثابت ہوگی، صہیونی سابق سفیر نے مزید کہا کہ ایران نے اسرائیل کو کھلی دھمکی دی ہے ہے کہ وہ خطہ میں ایران کے مفادات کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش  بھی نہ کرے ورنہ ایسی جنگ ہوگی جو اسرائیل سمیت پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔
الحسینی نے دوسری علامت یہ لکھی  کہ اسرائیل کی سلامتی اب امریکہ کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے ہے جس کے لیے انہوں نے دلیل یہ دی ہے کہ جب نیتن یاہو نے ٹرمپ سے کئی بار اپیل کی کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے بجٹ میں اضافہ کریں تاکہ وہ اسرائیل کے ساتھ کام جاری رکھے اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا اگر یہ اتنا ہی ضروری ہے تو خود ہی  ان کو پیسے دو و اس کا مطلب یہ ہے کہ اب امریکہ کے لیے اسرائیل کی سلامتی اہم نہیں ہے اور اس نے عملی طور پر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اسرائیل سے منھ پھیر چکا ہے ۔
 تیسری علامت قلمکار نے یہ ذکر کی کہ خود صہیونی خفیہ ایجنسیز نہایت ہی کمزور ہو چکی ہیں جس کی دلیل یہ ہے کہ جب انہیں مزاحمتی تحریک کے میزائلوں کی اطلاع ملتی ہیں تو وہ ہکا بکا رہ جاتے ہیں ۔
چوتھی  علامت  یہ ہے کہ مزاحمتی تحریک دن بدن مضبوط ہوتی چلی جا رہی ہے اس کی دلیل اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ کی وہ تقریر ہے جس میں انہوں نے کہا کہ لبنان کی اقتصادی حالت کتنی بھی خراب کیوں نہ ہوجائے حزب اللہ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہونے والا اور وہ فوجیوں کو پہلے ہی کی طرح تنخواہیں  دیتے  رہیں گے ۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम