Code : 2458 121 Hit

رسول اللہ(ص) کی سیرت کے تناظر میں اسلامی اتحاد

ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت کو اپنائے اور انہیں آئیڈیل کی حیثیت سے اپنی زندگی میں جگہ دے اور سوشل میڈیا سمیت ہر پلیٹ فارم ان کی حدیث فارورڈ کرنے سے زیادہ آپ کی سیرت اپنانے کی کوشش کرے۔ صرف یہی وہ کام ہے جس سے ہم با آسانی رسول اللہ(ص) کی پیروی بھی کرسکتے ہیں اور ہمارے درمیان اتحاد و اتفاق بھی قائم رہے گا اور پوری دنیا ہمارے عمل کو دیکھ کر پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت اور ان کی زندگی کے بارے میں جان سکے گی۔

ولایت پورٹل: تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی یا زوال ،اچھے یا برے حالات میں اتحاد ،آپسی بھائی چارے یا آپسی نفرت اور تعصب کا اہم کردار ہوتا ہے ، قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں جب تک آپسی محبت ، بھائی چارہ اور اتحاد باقی رہا تب تک کامیابی اور ترقی ان کے قدم چومتی رہی اور جیسے ہی انہوں نے اتحاد ، آپسی محبت اور بھائی چارے کا دامن چھوڑ کر نفرت ،فتنے اور آپسی دشمنی کا دامن تھاما انہیں شدید ہار کا سامنا کرنا پڑا اور چونکہ اتحاد اور آپسی بھائی چارے کو انہوں نے چھوڑ دیا تھا اس لئے وہ قومیں اپنا وجود اور نام تک نہیں بچا سکیں۔
کسی بھی قوم اور معاشرے کے لئے اپنے وجود کی بقا کے لئے سب سے ضروری چیز آپسی اتحاد ہے اگر سارے مسلمان ایک صف میں کھڑے ہوجائیں اور ان میں آپسی اتحاد اور بھائی چارہ پیدا ہوجائے تو سامراجی طاقتوں کا اسلامی دنیا کو مٹانے کی بات کرنا تو دور ان کی طرف ٹیڑھی نظروں سے دیکھنے کی ہمت بھی نہیں ہوگی۔
دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ اسلامی دانشوروں کے درمیان پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت ہمیشہ سے ایک خاص موضوع رہا ہے۔مختلف حادثات اور پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت اور اسلامی تاریخ میں پیغمبر اکرم(ص) کا اہم کردار ،یہ وہ موضوع ہے جن کا یہ دانشور ہر دن سامنا کرتے ہیں، رسول اللہ(ص) کی سیرت کو پیش کرتے وقت ان کا اسلامی اتحاد کی تأکید کرنا  اور اس کی نشر و اشاعت اور تبلیغ میں جو کردار رہا ہے اس کا یہ لوگ مطالعہ کرتے اور اپنے مضامین اور کتابوں میں تحریر کرتے ہیں۔ بے شک اس سلسلہ میں پیغمبر اکرم(ص) کی نصیحتیں مسلمانوں کے لئے بہت قیمتی ثابت ہونگی کیونکہ اللہ کا سورہ احزاب کی آیت 21 میں ارشاد ہے کہ:’’ لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا ‘‘۔
مسلمانو! تم میں سے اس کے لئے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل ہے جو شخص بھی اللہ اور آخرت سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہے۔
اس آیت میں ’’اسوہ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب رہبر، رہنما، آئیڈیل اور پیروی کرنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی زندگی کے لئے کسی کو آئیڈیل بنائیں۔
اس لئے وہ سارے واقعات جو رسول خدا(ص) کی زندگی سے متعلق ہیں انہیں خاص اہمیت حاصل ہے اور انہیں دلیل کے طور پر جانا جاتا ہے اور مسلمانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پیغمبر اکرم(ص) کی زندگی اور ان کی سیرت میں غور کریں اور انہیں اپنی زندگی میں جگہ دینے اور بسانے کی کوشش کریں۔
علامہ طباطبائی تحریر فرماتے ہیں کہ اسوہ کا مطلب پیروی کرنا اور ان کی سیرت کو اپنانا ہے۔
مگر افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ایک طرف اللہ کی جانب سے ہمارے لئے اتنا محکم اور مکمل نمونہ اور آئیڈیل اور دوسری طرف آج پوری دنیا ہمارے کردار پر شک کررہی ہے۔۔۔
ظاہر ہے اس سے بڑی مصیبت خیز اور افسوس ناک بات کوئی اور نہیں ہوسکتی۔
آج کچھ بے عمل اور سکوں کی کھنک میں بک جانے والے کمزور ایمان کے حامل مسلمانوں کے عمل کی وجہ سے خود سرکار ختمی مرتبت(ص) کی پاک اور مقدس ہستی پر طرح طرح کے گھناؤنے الزام لگائے جارہے ہیں ، کچھ مٹھی بھر جاہلوں کے عمل کو دیکھ کر اللہ کے نبی کے خلاف ٹویٹر پر 3 دن تک ٹرینڈ چلایا جاتا ہے اور نہ جانے کیسے کیسے گھٹیا الزام اور بے بنیاد باتوں کو پیغمبر اکرم(ص) سے جوڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بے شک! ایسا کرنے والے نرے جاہل ہیں اور قصوروار بھی، لیکن کیا اس میں کہیں نہ کہیں ہماری کوتاہی نہیں ہے؟ کیا ہم نے پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت اپنائی؟ کیا ہم نے قرآن کریم کے حکم کے بعد آپ کو اپنا آئیڈیل بنایا؟ کیا صرف سمینار، کانفرنسیں اور جلوس کرکے ہمیں خود کو پیغمبر اکرم(ص) کا حقیقی امتی کہلانے کا حق ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو ہمیں ہمارے ایمان اور ہماری پیغمبر اکرم(ص) کی پیروی کرنے پر سوال کھڑا کرتے ہیں۔
ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت کو اپنائے اور انہیں آئیڈیل کی حیثیت سے اپنی زندگی میں جگہ دے اور سوشل میڈیا سمیت ہر پلیٹ فارم ان کی حدیث فارورڈ کرنے سے زیادہ آپ کی سیرت اپنانے کی کوشش کرے۔ صرف یہی وہ کام ہے جس سے ہم با آسانی رسول اللہ(ص) کی پیروی بھی کرسکتے ہیں اور ہمارے درمیان اتحاد و اتفاق بھی قائم رہے گا اور پوری دنیا ہمارے عمل کو دیکھ کر پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت اور ان کی زندگی کے بارے میں جان سکے گی۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम