Code : 2958 34 Hit

اسلام بنام عالمی سامراج، فاتح کون؟

عالمی سامراج کی طرف سے مسئلہ فلسطین کو عرب قومیت سے جوڑدیاگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عرب و اسرائیل جنگ چھڑ گئی اور عربوں کی شرمناک شکست کو اسلام اور مسلمانوں کی شکست قراردیتے ہوئے عالم اسلام کو یہ پیغام دیاگیا کہ اسرائیل ایک ناقابل شکست طاقت بن چکا ہے۔ اب اس کا فوجی مقابلہ ناممکن ہے لہٰذا مسلمانوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہ گیا ہے کہ وہ اسرائیل حکومت سے صلح کرلیں اورغاصب صیہونی حکومت کو سرکاری طورپر ہمیشہ کے لئے تسلیم کرلیں۔۔

ولایت پورٹل: دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی سطح پر ایسے حوادث رونما ہوئے جن کی روشنی میں مشرقی دنیا کے دانشوروں کو یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی کہ جنگ کے دوران لاکھوں بے گناہوں کے قتل عام کی ذمہ دار عالمی سامراجیت نے مغربی دنیا کی قیادت و علمبرداری کا کاروبار شروع کردیا ہے اور اقوام متحدہ اورعالمی سلامتی کونسل جیسے اداروں کی تشکیل کی آڑ میں ایسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کا سلسلہ شروع کردیاگیا جس کے سایہ میں نہایت بے رحمی اورانسانیت سوزی کے ساتھ فلسطین پر صہیونی جلادوں کو مسلط کردیاگیا اور اس سرزمین کے اصلی باشندوں کو آوارہ وطن کردیا گیا۔ فقط اتنا ہی نہیں بلکہ دوسری جنگ عظیم میں خودکو فاتح سمجھنے والی طاقتوں نے دنیا کو مشرق ومغرب نامی دوٹکڑوں میں تقسیم کرتے ہوئے انہیں دوبڑی طاقتوں کے حوالہ کردیا اور تنظیم اقوام متحدہ سے وابستہ عالمی سلامتی کونسل پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی کہ دنیا میں امن و سلامتی کی تشکیل وحفاظت کا کام انجام دے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی طے پایا کہ مشرق ومغرب کی دونوں بڑی طاقتوں کو ’’ویٹوپاور‘‘ جیسے خصوصی اختیارات فراہم کردیئے جائیں کیونکہ ان ملکوں کے پاس دنیا میں غیرمعمولی تباہی و بربادی کو جنم اورفروغ دینے والی وہ ایٹمی طاقت موجود ہے جس کے استعمال کے ذریعہ پلک جھپکتے ہی دنیا کو نیستی ونابودی کے گڑھے میں ڈھکیلا جاسکتا ہے۔ اس اعلان کے بعد عالمی ماحول پر خوف و دہشت طاری ہوگئی اور دنیا کے کمزور و پسماندہ ملکوں نے ان طاقتوں کے سامنے سرتسلیم خم کرنا شروع کردیا اور ان کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے چھوٹے،بڑے اور بھولے حکمرانوں کی ایک لمبی صف تیارہوگئی۔ دوسری طرف دنیا کو بیوقوف بنانے کے لئے ’’سردجنگ‘‘ کے نام سے بڑی طاقتوں کے درمیان دھمکیوں اور نعرہ بازیوں کا لامتناہی سلسلہ چھڑگیا اور یہ مظاہرہ کیاجانے لگا کہ اگر مغربی سامراج کسی ملک یا انقلابی تحریک کو کچلنے کی کوشش کرتا ہے تو مشرقی سُپرپاور اس ملک کی بھرپور حمایت کرے گا۔ یہ اسی خام اورناعاقبت اندیشی کا نتیجہ تھا جس کی وجہ سے فلسطینی تحریک آزادی اور اس کے قائد یاسرعرفات گذشتہ نصف صدی کے دوران اپنے ملک اور اپنی قوم کو آزادی واستقلال فراہم نہ کرسکے۔ جدوجہد اورجنگ و خونریزی کا سلسلہ جاری رہا۔ اقوام متحدہ اورعالمی سلامتی کونسل میں فلسطین پر بحث و مباحثہ کا سلسلہ چلتارہا، سلامتی کونسل میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف قراردادیں پیش ہوتی رہیں اور امریکی ویٹوپاور کے سایہ میں صلح آمیز قراردادیں نامنظور ہوتی رہیں اور صہیونی درندے ان عالمی تنظیموں کی ناک کے نیچے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کرتے رہے۔ دوسری طرف انسانی حقوق کی حفاظت وبحالی میں سرگرم عالمی تنظیموں پر موت کا سناٹا طاری رہا اور ایسا محسوس کیاجانے لگا جیسے ان تنظیموں سے جڑے ہوئے انسانی حقوق کے علمبرداروں اور اعلیٰ حکمرانوں کی نظر میں یہ خالی ہاتھ ومظلوم و آوارہ وطن فلسطینی مسلمان معاذ اللہ انسان نہیں ہیں۔عالمی انسانی برادری اور مشرقی سپرپاور کی طرف سے شعلہ انگیز بیانات تو ضرورجاری ہوئے لیکن بے سود۔ یہ بیانات ظالم کی شناخت اور عالمی سطح پر سیاسی بیداری کی ایجاد میں معاون توہوئے لیکن دنیا کے اکثر حکمرانوں پر خوف ودہشت کا جمودطاری رہا ،جس کی وجہ سے فلسطین کی حمایت میں اٹھنے والی آواز صدابہ صحرا ہوکر رہ گئی اور اس حقیقت کا انکشاف تو بعد میں ہوا کہ مشرقی اور مغربی عظیم طاقتوں کے درمیان سردجنگ تو محض ایک دکھاوا ہے، کیونکہ مغربی سپرپاور فلسطینیوں کے قتل عام میں سرگرم ہے اور مشرقی سپرپاور کے ہوائی جہاز نہ صرف روسی یہودیوں کو بلکہ دنیا کے مختلف علاقوں میں آبادیہودیوں کے کھیپ درکھیپ پہنچارہے ہیں تاکہ برطانوی وزیرفورڈ نے دنیا کے نقشہ میں جس اسرائیل کی تشکیل کا خواب دیکھا ہے وہ پوراہوسکے اور اسلامی سرزمین کے قلب میں اسرائیلی ناسور کی تخلیق عمل میں آجائے۔
اسلام اورمسلمانوں کی نابودی پر مشتمل مغربی اورمشرقی طاقتوں کا یہ گٹھ جوڑ صرف فلسطینی مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام ہی تک محدودنہ رہا بلکہ عالم اسلام کو چھوٹے اورکمزورٹکڑوں میں تبدیل کرنے کے لئے خوفناک وخفیہ اورمہلک منصوبے پہلے ہی تیارکئے جاچکے تھے۔ عرب وعجم اورسنی وشیعہ کے نام پر امت اسلامیہ کے درمیان دوسری عالمی جنگ سے قبل ہی تفرقہ واختلاف کی آگ بھڑکائی جاچکی تھی اور تحریک بالکونائزیشن Balkonisation کے سایہ میں صرف سلطنت عثمانیہ ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام ملکوں کو مختلف چھوٹی اور کمزورحکومتوں میں تقسیم کیاجاچکاتھا۔پھر عرب قومیت کا راگ پورے اسلامی علاقے پر چھاگیا۔ Pan-Islamism کی تحریک اس کا خاطرخواہ مقابلہ نہ کرسکی اور عرب قومیت پروان چڑھتی رہی، یہاں تک کہ مسئلہ فلسطین کو عرب قومیت سے جوڑدیاگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عرب و اسرائیل جنگ چھڑ گئی اور عربوں کی شرمناک شکست کو اسلام اور مسلمانوں کی شکست قراردیتے ہوئے عالم اسلام کو یہ پیغام دیاگیا کہ اسرائیل ایک ناقابل شکست طاقت بن چکا ہے۔ اب اس کا فوجی مقابلہ ناممکن ہے لہٰذا مسلمانوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہ گیا ہے کہ وہ اسرائیل حکومت سے صلح کرلیں اورغاصب صیہونی حکومت کو سرکاری طورپر ہمیشہ کے لئے تسلیم کرلیں۔
واضح رہے کہ عرب و اسرائیل جنگ کے دوران تمام عرب ممالک بظاہرمتحدتھے اور ایرانی حکومت خفیہ طورپر اسرائیلی حکومت کاساتھ دے رہی تھی، چنانچہ۱۹۶۷ء کی جنگ کے دوران اسرائیلی بمبار جہاز ایران سے تیل لے کر اڑان بھرا کرتے تھے اور عرب مسلمانوں پر بمباری کرتے تھے۔ امام خمینی(رح) نے اپنی جلاوطنی کے دوران متعدد بیانات کے ذریعہ ایرانی شاہی حکومت کو غیرت دلانے کی کوشش بھی کی تھی اور اسلام پسندوں نے شاہی حکومت کی اس شرمناک حرکت کے خلاف چھوٹے بڑے مظاہرے بھی کئے تھے لیکن حکومت نے انہیں پوری طرح کچل دیا تھا۔
واضح رہے کہ اس زمانے میں ایران میں جاری بادشاہوں کی حکومت تھی اورعالمی سامراجیت کی قیادت و سربراہی امریکہ کررہا تھا۔ ساتھ ہی عالمی سامراج نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ باور کرادیاتھا کہ اسلام کا سیاست سے کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ یہ دین چند اعتقادات اور عبادات و رسوم کا مجموعہ ہے۔ اس میں بیسویں اوراکیسویں صدی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت موجودنہیں ہے۔ اس دین نے عورتوں کو گھر کی چہاردیواری میں قیدکردیاہے۔ یہ انسان کی انفرادی آزادی کو سلب کرلیتا ہے اور مختلف النوع اخلاقی ومذہبی پابندیوں کے ذریعہ انسانی زندگی کے لئے طرح طرح کی مشکلیں کھڑی کردیتا ہے۔ یہ مذہبی تعصبات اور تفرقہ انگیزی کو فروغ دیتاہے۔ اس مذہب میں اتنے فرقے ہیں کہ اصل اسلام کی شناخت ہی ناممکن ہے۔ اس دین میں خواتین کے حقوق کا کوئی نظام نہیں ہے اور اس میں موجودہ زمانے کے مسائل سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ یہ ایک اعتقاداتی اورعبادتی مذہب ہے جو مسلمانوں سے بے روح عبادتوں کا طلبگار ہے اور اس کے امام جماعت کو فقط نماز جماعت کی قیادت کا حق حاصل ہے جس کا دائرۂ اختیار مسجد کی چہاردیواری کے اندر ہی محدود ہے۔
مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایسے اسلام دشمن عالمی ماحول میں امت اسلامیہ،نہایت کسمپرسی کے عالم میں زندگی بسرکررہی تھی۔سیدجمال الدین افغانی،آیت اللہ بروجردی سیدمحمدقطب، آیت اللہ شیرازی، حسن البنا، مولانا مودودی اورعلامہ اقبال جیسے لوگوں نے اسلامی تعلیمات پر جمی ہوئی گرد کو صاف کرنے کی بھرپورکوشش کی۔ تقریب بین المذاہب کے ذریعہ مسلمانوں کو اسلامی اتحاد کی نعمتوں کی طرف متوجہ کرناچاہا اور یہ باورکراناچاہا کہ اسلام دین زندگی ہے۔ انسانی زندگی سے متعلق ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس کا حل اسلام نے نہ پیش کیاہو۔ سیاست، انسانی زندگی کا اٹوٹ حصہ ہے، لہٰذا اسلام سیاست سے علیٰحدگی اوردوری اختیارکرنے کا درس نہیں دیتا ہے۔ اسلام نے عبادت کا جو تصورپیش کیا ہے اس میں صرف مسجد کی چہاردیواری کے اندر بیٹھ کر ذکر الٰہی کرتے رہنا ہی عبادت نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا واحد دین ہے جو رزق حلال کی تلاش میں سرگرم رہنے اور کھیتوں، فیکٹریوں اورچھوٹی بڑی درسگاہوں میں مشغول رہنے کو ہی نہیں بلکہ گھروں کے اندر اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر امور خانہ داری میں سرگرم خواتین کے اعمال و افعال کو بھی عبادت قراردیتا ہے۔ دیگر مذاہب ومکاتب فکر کی تعلیمات سے الگ ہٹ کر اسلام انفرادیت اور اجتماعیت کے درمیان اٹوٹ رشتے کو پوری طرح نمایاں کردیتا ہے، چنانچہ ہر مسلمان کو بعض امورمیں ذاتی اعتبار سے موجود مسائل کے حل کے لئے ذمہ قراردیاگیاہے۔ انفرادی اورجماعتی نمازوں کے ثواب کے درمیان موجود فرق سے اسلام کی عظمت وفضیلت کا اندازہ کیاجاسکتاہے؟ وہ اسلام جو انفرادی نماز پر نمازجماعت کو ترجیح دینے کی بات کرتاہو اورخطبۂ نماز جمعہ کو دو اہم سیاسی اور عبادی حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے لوگوں کو عصری مسائل سے آگاہ رکھنے کی تأکیدکرتا ہو وہ دین کو سیاست اور حکومت سے علیٰحدہ رکھنے کی بات کیسے کہہ سکتا ہے۔ وہ اسلام جو ہرمسلمان کو اپنے نفس کے خلاف جہاد میں ہمہ تن سرگرم رہنے کی ہدایت کرتا ہو اور دشمن کے خلاف میدان جنگ میں کی جانے والی جنگ ونبردآزمائی اور اپنی ذات اور اپنے نفس کے خلاف کی جانے والی جنگ کو جہاد اکبر کے نام سے تعبیرکرتاہو  وہ دنیا کی دیگر اقوام کے خلاف دہشت گردانہ عمل کی تائید وحمایت کیسے کرسکتاہے؟ وہ اسلام جس کی مقدس کتاب قرآن مجید فقط مسلمانوں کی نہیں بلکہ اولاد آدم کی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل ہوئی ہو، جس کا پیغمبر، عالمین کی رحمت کے لئے بناکربھیجا گیاہو وہ کسی طرح کے تعصب اور امتیاز کو کیسے جائز قراردے سکتاہے؟ وہ اسلام جو جملہ بنی نوع انسان کو’’اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللہِ ‘‘ کا درجہ عطاکرتاہے اور مرد و عورت کا مشابہ نہیں بلکہ مساوی حقوق کا حامل قراردیتے ہوئے فقط تقویٰ و پرہیزگاری کو باعث شرف و بزرگی قراردیتا ہو وہ عورتوں کو مردوں سے کم تر کیسے کہہ سکتاہے؟وہ اسلام جو عورت کے پردہ کو اس کی حیثیت عرفی کا محافظ اور پاکیزہ نسل کی افزائش کا ذریعہ سمجھتا ہو وہ عورت کو مردوں کی جنسی خواہشات کا کوڑادان کیسے تسلیم کرسکتاہے؟ اور وہ اسلام جو اذان و اقامت نیز صداقت و خلوص کے ساتھ اداکی جانے والی پنچگانہ نمازوں کے دوران’’اللہ اکبر‘‘ کہتے ہوئے مسلمانوں سے خداوندعالم کی عظمت وکبریائی کا باربار اعلان کروا رہا ہو اور فقط اس کی ذات کو لازوال تسلیم کرتاہو، وہ دنیا کی نام نہاد مخرب طاقتوں کے سامنے سرتسلیم کیسے خم کرسکتاہے اور ان کو بڑی و عظیم کیسے تسلیم کرسکتا ہے؟
جی ہاں! مذہب اسلام میں یہ خوبیاں روز ازل سے پائی جاتی ہیں اورقیامت تک ان محاسن کو نابودنہیں کیاجاسکتا ہے، البتہ مسلسل پروپیگنڈہ اورنام نہاد بے عمل مسلمانوں کے غیراسلامی اورشرمناک اعمال اور ان کی خیانت آمیز حرکتوں کے ذریعہ اسلام سے انحراف کی زمین یقیناً ہموار ہو سکتی ہے اور اعلیٰ اسلامی تعلیمات پر سامراجی تڑک بھڑک اور رعنائیوں کا رنگ ضرور چڑھ سکتا ہے۔ چنانچہ بیسویں صدی کے اوائل تک پہنچتے پہنچتے عالمی سامراج نے خداوندعالم کے اس پسندیدہ دین کو ماضی کی داستان میں تبدیل کردیا اور مسلمانوں کو یہ یاد ہی نہیں رہ گیا کہ قرآن ان کا اصول و آئین زندگی اورپیغمبر(ص) کی ذات و سیرت لوگوں کے لئے ’’اسوۂ حسنہ‘‘ کا درجہ رکھتی ہے۔ جی ہاں! مسلمان عظیم اسلامی میراث کے وارث تو تھے مگر وراثت کی قیمت واہمیت سے بالکل ناواقف تھے۔ ان لوگوں کے درمیان قرآن تو موجود تھا لیکن اس کا عملی نمونہ (Model) موجود نہیں تھا۔ اسی وجہ سے عالمی سامراج کو اسلامی ملکوں میں غیراسلامی کام انجام دینے میں ذرہ برابر دشواری وہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی تھی اور اسلامی علاقوں میں غیر اسلامی انسانیت سوزحرکتوں اور بدعنوانیوں کا بازارگرم تھا۔
ایسے ناگفتہ بہ اور اسلام دشمن ماحول میں اسلامی ملک ایران میں۱۱؍ فروری۱۹۷۹ء کو ایک ایسے عوامی انقلاب نے عظیم الشأن کا میابی کی آخری سیڑھیاں طے کرلیں جس کے قائد نے اسے خالص اسلامی انقلاب قراردیا۔ واضح رہے کہ اسلامی انقلاب کے قائد امام خمینی(رح) اپنے ساتھ کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئے تھے بلکہ ان کے انقلاب کا مقصد اسلامی تعلیمات کا احیاء رہا ہے کہ جس پر سامراجیت کی گردجم گئی ہے۔ امام خمینی(رح) نے ٹھوس ارادہ کے ساتھ شریعت محمدی(ص) کے عملی نفاذ کا پروگرام شروع کردیا۔ خداوند عالم کی طاقت پر اٹوٹ اورٹھوس اعتقاد وایمان اوراپنے مثالی آہنی ارادہ کے ساتھ انہوں نے اعلان کیا کہ ایران میں فقط’’اسلامی جمہوری حکومت‘‘ قائم ہوگی اور اس’’اسلامی جمہوریت‘‘ جیسی نادر روزگار اصطلاح میں کسی دوسرے لفظ کے اضافہ یاکمی کی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے نہایت عالمانہ انداز میں استدلال بھی کیا کہ اسلام میں بندگان خدا پر حاکمیت مطلقہ کا حق صرف خداوند عالم کو حاصل ہے، لہٰذا ملک میں قائم ہونے والی حکومت الٰہی اصول و احکام کی پیروہوگی اور حکومت کے ہر شعبہ میں الہٰی قوانین ہی نافذ ہوں گے اور عصر حاضر کے تقاضوں کو نگاہ میں رکھتے ہوئے الٰہی قوانین کی توضیح وتفسیر کا کام ایک مشاورتی کونسل کے ذمہ ہوگا اور فلسفۂ ولایت فقیہ کے بموجب عوام اورحکومت کو الٰہی احکام وقوانین کی ڈگر پر باقی رکھنے کا کام ولی فقیہ یا فقہاء کونسل کے سپردہوگا۔
واضح رہے کہ اسلام کو داستان ماضی، دشمن علم و ترقی اور رجعت پسند اور خواتین مخالف و آزادی دشمن بتانے والی عالمی سامراجی طاقتوں نے جب امام خمینی(رح) کا یہ اعلان سنا تو ان کے ہوش اڑگئے لیکن اس سے قبل کہ وہ اسلامی جمہوریت کی نابودی کا منصوبہ بنائیں امام خمینی(رح) نے قرآن و حدیث پر مبنی آئین کی تدوین، استقلال وا ٓزادی کی داخلی اور لاشرقیہ ولاغربیہ کی خارجہ سیاست کی بنیاد پر صدر اسلام کے بعد دنیا میں پہلی بار اسلامی جمہوری حکومت قائم کردی اور تہران کی جس عمارت میں اسرائیلی سفارت خانہ ہوا کرتا تھا اس میں آزادی طلب فلسطینی عوام کا سفارتی مرکز قائم کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ،’’مسئلۂ فلسطین درحقیقت فقط عربوں کا مسئلہ نہیں بلکہ مسئلہ عالم اسلام ہے اوردنیا کے مختلف علاقوں میں آباد ملت اسلامیۂ عالم کو اپنے قبلۂ اول کی آزادی کی فکر کرنی چاہیۓ‘‘۔
امام خمینی(رح)کی اس دعوت سے خلوص وصداقت کی جھلک آرہی تھی ۔ عالمی سامراج کے ماہرین نے ان کی اس آواز کا گلا گھونٹنے کے لئے اپنے پرانے اور زنگ خوردہ تبلیغاتی اسلحوں کا استعمال کرتے ہوئے امام خمینی(رح) کی اس آواز کو سنی شیعہ تفرقہ اندازی اور عرب و عجم قومیت پرستی کے سیلاب میں غرق کردینا چاہا لیکن اس کے یہ اسلحے ناکام ہوکر رہ گئے۔ پھر سابق عراقی حکمراں صدّام کی مدد اور ایرانی صدرجمہوریہ بنی صدرکی خیانت پر بھروسہ کرتے ہوئے نوتشکیل شدہ ایرانی حکومت پر تباہ کن جنگ مسلط کردی جو’’دفاع مقدس‘‘ کی حیثیت سے آٹھ سال تک جاری رہی۔ اس دوران داخلی سطح پر عالمی سامراج کے موجودہ سرغنہ امریکہ نے ایران میں دہشت گردی کا بازار گرم رکھا۔ ایرانی پارلیمنٹ میں رونما ہونے والے خوفناک بم دھماکے میں ایرانی عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ بہشتی اور ان کے ۷۲ساتھی، دوسرے دھماکے میں صدر رجائی اور وزیرا عظم باہنر اور اس سے قبل مساجد و دینی اجتماعات میں ہونے والے دھماکوں میں آیت اللہ مطہری اور آیت اللہ دستغیب جیسے لوگ شہادت سے ہم آغوش ہوگئے ،لیکن امام خمینی(رح) اور ان کی اسلامی جمہوریت اپنے اسلامی موقف پر اٹل رہی اور اسلامی انقلاب کے الٰہی پیغام کو دنیا کے گوشہ گوشہ تک پھیلاتی رہی۔ اسی دوران امام خمینی(رح) اس دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن ان کی یہ آواز عالمی فضا میں گونجتی رہی کہ اسلامی انقلاب کامقصد اسلام محمدی(ص) کا احیاء ہے۔ چونکہ یہ مقصد عظیم ہے لہٰذا اس کی راہ میں بڑی اورگرانقدر قربانیاں بھی پیش کرنی ہوں گی۔ عالمی سامراج اورامریکہ کا یہ خیال تھا کہ امام خمینی(رح) کے بعد وہ اپنی ’’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘‘ والی سیاست میں کامیاب ہوجائے گا لیکن اسلامی انقلاب کے قائد کی حیثیت سے اپنی تقریرمیں آیت اللہ سید علی خامنہ ای مد ظلہ العالی نے اپنے اس اعلان کے ساتھ کی’’امام خمینی(رح) کے بغیر پوری دنیا میں اس انقلاب کی کوئی پہچان نہیں ہے‘‘ اسلام کی نابودی کا خواب دیکھنے والوں کی نیندحرام کردی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے سربراہوں پر حیرت انگیز دیوانگی طاری ہوگئی اور انہوں نے عراق و افغانستان پر اپنے وحشیانہ حملات کے ذریعہ اسلام اور اسلامی جمہوریت کو نابودکرنا چاہا لیکن ان حملوں نے سامراجی مقاصد کی پامالی کے ساتھ دنیا والوں پر حقیقت روشن کردی کہ امریکہ اسلام اور مسلمانوں کا جانی دشمن ہے اور وہ اپنے اس ناپاک مشن کی کامیابی کے لئے خود اپنے ملک میں اپنے ہی ایجنٹوں کے ذریعہ ۹/۱۱ جیسے عظیم انسانیت سوز حادثہ کو جنم دے سکتاہے تاکہ دنیا والوں کو یہ باور کراسکے کہ اسلام دہشت گردی کا مذہب ہے۔ اس کام کے لئے اس نے خودساختہ ’’القاعدہ اورطالبان‘‘ کا بھرپور استعمال کیا اور اپنے نمائشی جہادیوں کے ذریعہ اسلام کو عالمی سطح پر بدنام کرنے میں سرگرم رہا لیکن نمائشی جہاد اور عشق الٰہی کے متوالوں کے جہاد میں موجود بنیادی امتیاز سے پوری دنیا بخوبی واقف ہوگئی اور ایرانی جانبازوں نے اپنے عمل کے ذریعہ ماضی میں اسلام پر کئے گئے سطحی اعتراضات کا دنداں شکن جواب فراہم کردیا اور مشرقی یا مغربی پرچم کے سایہ میں انقلابی سرگرمیوں سے جڑے ہوئے لبنانی و فلسطینی مسلمان پرچم توحید کے سایہ میں اسلامی مرکز پر متحد اور جمع ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس علاقہ میں حزب اللہ کی تشکیل بھی عمل میں آگئی ۔ اس کے علاوہ گذشتہ برسوں کے دوران ایران اور دیگر اسلامی علاقوں میں رونما ہونے والے حوادث نے یہ ثابت کردیا کہ اسلام فقط بیسویں اور اکیسویں صدی ہی نہیں بلکہ آئندہ صدیوں کے عصری اور بشری تقاضوں کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو مہلک اقتصادی ناکہ بندیوں اورخوفناک بم دھماکوں اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے باوجود اسلامی احکام پر اٹل اسلامی جمہوریہ ایران نے پرچم توحید کے سایہ میں ایسی حیرت انگیز کامیابیاں نہ حاصل کی ہوتیں۔ اسلام کے خلاف تفرقہ انگیز اور فرسودہ ہتھکنڈوں کی شرمناک ناکامی اورحزب اللہ کے متوالوں کی بلند حوصلگی و کامیابی کو نگاہ میں رکھتے ہوئے امریکی سامراج نے ایران ، فلسطین اور لبنان کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔
اس نے ایک طرف ایران کو دہشت گردی کا مرکز ثابت کرنے کے لئے یہ تبلیغاتی جنگ چھیڑ دی کہ ایران جوہری بم بنارہاہے، لہٰذا اس کے خلاف فوجی کارروائی کے ذریعہ اس کے جوہری ٹھکانوں کو تباہ کردیناچاہیۓ۔ دوسری طرف امریکی قیادت نیز عالمی سامراج کی بھرپور حمایت کے سایہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے لبنان اور فلسطینی علاقوں پر خوفناک بمباری شروع کردی اور پوری دنیا اس بمباری کے دوران شہادت سے ہم آغوش ہونے والے مظلوموں کا درد انگیزمنظر خاموش تماشائی کی حیثیت سے دیکھتی رہی اور امریکی خوف کی وجہ سے ہرجگہ موت کا سناٹا چھایارہا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے علاوہ دنیا کا کوئی بھی ملک لبنانی مجاہدوں کے ساتھ اپنی حمایت وہمدردی کا مظاہرہ نہ کرسکا، لیکن لبنانی مجاہدوں نے اس بمباری کا بھرپورمقابلہ کرتے ہوئے نہ صرف اسرائیلی لڑاکوں کے چھکے چھڑادیئے بلکہ ۳۳دن کے شاندار مقابلے کے ذریعہ اسرائیلی حملہ آوروں کو جنگ بندی کی آڑ میں پناہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا اور دنیا کو اس حقیقت کا اندازہ ہوگیا کہ اسرائیل کو ناقابل تسخیر و ناقابل فتح طاقت قراردینا جھوٹ ہے اور اگر پرچم توحید کے سایہ میں دشمن کامقابلہ کیاجائے تو اسلام اور مسلمانوں کی فتح یقینی ہے کیونکہ مذہب اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید چودہ سوب رس قبل یہ اعلان کرچکی ہے کہ غلبہ و تسلط اور فتح و کامرانی حزب اللہ کا مقدر ہے جس کی زمین ہموار ہوتی جارہی ہے اور دوسری طرف ہر روز نئی قسم کی دھمکیوں اور تجاوز کارانہ سرگرمیوں کے باوجود ایرانی حکومت اور مسلمان عوام اپنے الٰہی مشن میں ہمہ تن سرگرم ہیں اور البرادعی کے حالیہ بیان سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ ایران اسلامی جمہوری اصولوں کا پیرو ہے، جیسا کہ پیغمبر(ص) نے صلح حدیبیہ کے ذریعہ صلح وآشتی کاپیغام دیتے ہوئے دنیا والوں پر یہ واضح کردیاتھا کہ اسلام صلح وآشتی کا دین ہے اور الٰہی مشن کو عملی رنگ و روپ عطا کرنے کے لئے صلح آمیز ماحول زیادہ بہتر ہوا کرتا ہے اور البرادعی کے حالیہ بیان سے اس امر کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ ایران جوہری اسلحوں کی تیاری میں قطعی سرگرم نہیں ہے اور اسلام واسلامی جمہوریۂ ایران کے خلاف دہشت گردی کا پروپیگنڈہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ اسلام کی عظمت وفضیلت اور جاذبیت و مقبولیت کا اندازہ لگانے کے لئے سابق ایرانی صدر احمدی نژاد کے سفر امریکہ کے بعد اسلام کی فتح و کامرانی کو انصاف پسند امریکیوں کے قلب کی گہرائی میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کیونکہ اسلام جغرافیائی سرحدوں پر نہیں بلکہ انسانی قلوب پر فتح وکامرانی کو عظمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس کی نظر میں انسان خداوندعالم کی عظیم ترین مخلوق ہے جس کا احترام لازم ہے کیونکہ خداوند عالم نے اپنی گرانقدر امانت کے نزول کے لئے انسانی قلب کا انتخاب کیا ہے۔ پس حق وب اطل اور اسلام و سامراج کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں اصل فاتح اسلام ہے۔



1
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम