Code : 3338 25 Hit

برطانیہ میں کورونا کے بہانے اسلام ہراسی

رمضان المبارک کے دوران کورونا کے پھیلاؤ میں اضافے کے بارے میں برطانوی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے بے بنیاد دعووں کے بعد ، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے دعووں سے صحت عامہ کو خطرہ ہے۔

ولایت پورٹل:برطانوی اخبارڈیلی میل کے نامہ نگار اینڈریو پیرس نے ایک ٹویٹ میں لکھا  ہے کہ اگر رمضان کے دوران لوگ مساجدجمع ہوجاتے ہیں تو کوویڈ 19 کا پھیلاؤ بڑھ جائے گاجس کی وجہ سے ڈاکٹر پریشان ہیں۔
اسی طرح ایک اور برطانوی اخبار سان میں ایک مضمون شائع ہوا ہے  جس میں کورونا کے بہانے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مضمون میں یہ کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں مسلمانوں کے اجتماعات کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔
تاہم ایک برطانوی مسلمان مقداد ورسی نے الجزیرہ  کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ان بے بنیاد اظہارات خیال کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ برطانوی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی اس طرح کی بے بنیاد بیان بازی جو مسلمانوں کو معاشرے کے دوسرے طبقات کے لئے خطرہ بناتی ہے ، کا مقابلہ کرنا بہت ضروری ہے۔
ورسی نے مزید کہا کہ  اس وائرس کے پھیلاؤ کے ابتدائی دنوں سے ہی اس طرح  کے پروپگنڈے شروع ہوگئے تھے،اس وقت یہ افواہیں پھیلائی گئی تھیں کہ مسجدیں کھلی ہوئی ہیں،مسلمان خفیہ طور پر اکٹھے ہوتے ہیں یامسلمان حکومتی تدابیر کے خلاف رمضان میں اجتماعات منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
انھوں نے  اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ برطانیہ میں طبی عملہ کے سب سے پہلے مرنے والوں پانچ مسلمان تھے،مزید کہا کہ وہ لوگ جو اس طرح کی کہانیاں گڑھ رہے ہیں وہ کرونا کے ساتھ محاذ آرائی کے پیش نظر ان لوگوں کے ایثار اورقربانی کو مٹانا چاہتے ہیں۔










0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین