Code : 1336 102 Hit

رمضان المبارک میں شیطان کا زنجیروں میں جکڑ دیا جانا کیا حقیقت ہے؟

بعض روایات کے مطابق شیطان کے قیدی بن جانے کا اصلی سبب روزہ ہے۔یعنی یہ روزہ ہے جو شیطان کو قیدی بناتا ہے اورانسان گمراہی سے بچ جاتا ہے جس کے نتیجے میں گناہ نہیں کرتا۔شاید اسی لئے روزہ کو جہنم سے بچنے کی سپر کہا گیا ہے۔اللہ کے رسول(ص)فرماتے ہیں: شیطان خون کی طرح انسان کے وجود میں سرایت کرتا ہے،اس لئے بھوک کے ذریعہ اس کے سرایت کرنے کی جگہ کو بند کردو۔ شیطان اسی حد تک ایک انسان سے دور ہوتا ہے جتنا اس کے روزے کا اس پر اثر ہوتا ہے۔اب اگر ایک انسان روزہ رکھتا ہی نہیں ہے یا حقیقی روزہ کے آداب کی رعایت نہیں کرتا تو شیطان اس سے دور نہیں ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کو وہی انسان اپنے ارادے سے قید کرتے ہیں جو خدا کے احکام پر عمل کرنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں۔

ولایت پورٹل: ماہ رمضان کے آغاز سے پہلے یا اس مہینے کی ابتدا ہی میں شیطان کے زنجیروں میں جکڑے جانے اور اس کے قیدی بنائے جانے کی بات متعدد روایات میں معصومین(ع) سے نقل ہوئی ہے۔حضرت علی(ع) نبی کریم(ص) کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:جب رمضان المبارک کا مہینہ آیا تو اللہ کے رسول(ص) خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور آپ(ص) نے خدا کی حمد و ثنا کرتے ہوے فرمایا:خدا نے جن و انس میں موجود تمہارے دشمنوں سے تمہیں محفوظ رکھا اور فرمایا کہ مجھے پکارو تاکہ میں تمہاری پکار کو سنوں  اور اس نے تمہیں دعاؤوں کی قبولیت کا وعدہ دیا  اور فرمایا:جان لو کہ خدا نے ہر سرکش شیطان پر سات سات فرشتوں کو مقرر فرما دیا ہے اور جب تک یہ مبارک مہینہ گزر نہیں جاتا  وہ آزاد نہیں ہوسکتا  اور فرار نہیں کرسکتا۔(وسائل الشیعہ،ج10،ص304)
ج: ایک اہم سوال
یہاں ایک سوال پیش آتا ہے جو بسا اوقات پوچھا بھی جاتا ہے کہ جب شیطان کو قید کرلیا جاتا ہے تو پھر بھی کچھ لوگ کیسے اس ماہ میں شیطانی امور انجام دیتے ہیں؟
اسے سمجھنے کے لئے کچھ نکات کی  طرف اشارہ ضروری ہے:
1۔بعض روایات کے مطابق شیطان کے قیدی بن جانے  کا اصلی سبب روزہ ہے۔یعنی یہ روزہ ہے جو شیطان کو قیدی بناتا ہے اورانسان گمراہی سے بچ جاتا ہے جس کے نتیجے میں گناہ نہیں کرتا۔شاید اسی لئے روزہ کو جہنم سے بچنے کی سپر کہا گیا ہے۔اللہ کے رسول(ص)فرماتے ہیں: شیطان خون کی طرح انسان کے وجود میں سرایت کرتا ہے،اس لئے بھوک کے ذریعہ اس کے سرایت کرنے کی جگہ کو بند کردو۔(مستدرک الوسائل،ج16،ص220) شیطان اسی حد تک ایک انسان سے دور ہوتا ہے جتنا اس کے روزے کا اس پر اثر ہوتا ہے۔اب اگر ایک انسان روزہ رکھتا ہی نہیں ہے یا حقیقی روزہ کے آداب کی رعایت نہیں  کرتا  تو شیطان اس سے دور نہیں ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کو وہی انسان اپنے ارادے سے قید کرتے ہیں جو خدا کے احکام پر عمل کرنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں۔
2۔یا اگر یہ مان لیا جائے کہ شیطان کو سب کے لئے قید کردیا جاتا ہے لیکن اسے پورے مہینے قید رکھنا یا رہا کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔جیسے روایت میں ہے کہ اس مہینے میں جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے اور جہنم کے دروازوں کو بند کردیا جاتا ہے لیکن جنت کے دروازوں کو کھولے رکھنا اور جہنم کے دروازوں کو بند رکھنا انسان کے اختیار میں ہے ۔جیسا کہ اللہ کے رسول ؐ فرماتے ہیں:اے لوگو! اس  مہینے میں جنت کے دروازے کھلے ہیں،خدا سے دعا کرو کہ انہیں تم پر بند نہ کرے،جہنم کے دروازوں کوبند کر دیا گیا ہے خدا سے تقاضا کرو کہ انہیں تم پر کھول نہ دے،شیطانوں کو قید کردیا گیا ہے تو تم  خدا سے چاہو کہ انہیں تم پر مسلط نہ ہونے دے۔(امالی الصدوق ،ص95)
3۔ایک قابل غور نکتہ یہ بھی ہے کہ شیطانوں کو تو اس مہینے میں قید کرلیا گیا ہے لیکن اس سے  پہلے مہینوں میں ہمارے اعمال و کردار کا بھی ایک اثر ہے جو اب بھی جاری ہے اور بہت سے گناہ ان اثرات کی بنیاد پر ہم سے سرزد ہوجاتے ہیں جن کا ممکن ہے کہ فی الوقت شیطان کے وسوسوں سے کوئی تعلق نہ ہو۔جیسے موبائل کو جب چارج کرنے کے لئے بجلی کے ساتھ متصل کیا جاتا ہے اس وقت بجلی اس پر اثر کرتی ہے اور موبائل کام کرتا رہتا ہے لیکن  اگر لائٹ چلی جائے یا اسے بجلی سے الگ کرلیا جائے تو اس کے بعد بھی موبائل کام کرتا رہتا ہے کیونکہ اس کی بیٹری چارج ہوچکی ہے اور جب تک وہ چارج ہے تب تک کام کرتی رہے گی۔بعض گناہوں کی وجہ سے ہماری روح اتنا منفی طور پر چارج ہوجاتی ہے کہ رمضان جیسا مقدس مہینے اور روزوں کے پاک ماحول میں بھی وہ گناہ اپنا اثر دکھاتے ہیں اور شیطان قید ہونے کے باوجود انسان سے شیطانی اعمال سر زد ہوتے ہیں۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम