Code : 2406 50 Hit

کیا مشرق وسطی میں پھر سے عربی بہار آرہی ہے؟(ایک تجزیہ)

مشرق وسطی میں گرمی کا موسم ناپید ہوچکا ہے، کیا اس خطہ میں پھر سے عربی بہار آرہی ہے؟

ولایت پورٹل:عراق میں مظاہرین کوا ن کے اندر سے ہی گولی مار دی جاتی ہے،لبنان میں مظاہرین ملک کو چنے چبوا رہے ہیں ،لگتا ہے سعد الحریری کی حکومت کا تختہ الٹ جائے گا۔
عراق،لبنان اور مصر میں بہت فرق ہے لیکن مظاہرین کی مانگیں ایک جیسی ہیں،ان مانگوں کی لسٹ مشرق وسطی کے لاکھوں عربوں خاص طور پر جوانوں کے درمیان تقسیم کی جاتی ہے۔
عراق کی ایک افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ وہاں کے معاشرہ میں انتہاپسندی سما چکی ہے، جب وہاں مظاہرین بے روز گاری اور حکومتی اداروں میں بد عنوانیوں کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر آئے تو منٹوں میں ان کے خلاف اسلحہ کا استعمال شروع ہوگیا۔
دیکھنے میں ایسا لگتا ہے کہ عراق میں ہونے والے مظاہرے ابھی تک بغیر کسی کی رہنمائی کے ہو رہے ہیں لیکن  جانی نقصان میں اضافہ ہونے کا ڈر ہے اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ مظاہرے خاص منصوبہ بندی کے تحت نہ ہوجائیں۔
کیا یہ عربی بہار ہے؟
جی ہاں؛ان میں  2011 کی بچی ہوئی کاروائیوں کی علامتیں زیادہ دیکھنے کو ملتی ہیں۔
آٹھ سال پہلے پورے مشرق وسطی میں کئی انقلاب آئے اور عوام حکومتوں کے تختے الٹ دیے  ان تحریکوں میں  عوام کو ظالم وجابر حکمرانوں سے تونجات حاصل نہیں ہوسکی لیکن ان کے  نتائج  ابھی تک محسوس ہورہے ہیں جن میں شام،یمن اور لیبیا کی جنگ یا مصر میں پہلے سے بھی ظالم حکومت کا برسر اقتدار آنا،اس کے علاوہ  جن چیزوں سے ناراض ہو کر اس وقت لوگوں نے قیام کیا ہے ان میں کچھ آج اس سے بھی کئی گنا زیادہ موجود ہیں۔
ادھر بد عنوان حکام اور سسٹم جوانوں کے اس امڈتے ہوئے سیلاب کی مانگیں پوری نہیں سکے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مظاہروں کے پیچھے پایاجانی والی غم وغصہ کی لہر اتنی جلدی ختم ہونے والی نہیں ہیں۔
مشرق وسطی میں نئے سرے سے مظاہرے کیوں ہورہے ہیں؟
آج کل عرب دنیا میں ہونے والے مظاہروں میں 2011 کی عربی بہار کی بو آرہی ہے ، بہت ساروں کا کہنا تھا کہ لبنان،عراق،الجزائر یہاں تک کہ سوڈان جہاں اس سال قدیم حاکم سے کرسی لے لی گئی ہے،ان ممالک میں برسوں تک رہنے والی افراتفری،آشوب اور مسلحانہ جھڑپوں کے پیش نظراب ان میں کئی سال تک مزید تبدیلی لانے کے دباؤ ڈالنے سکت اور ہمت نہیں ہے لیکن یہ تجزیہ وتحلیل غلط تھی۔
بروکنگز فاؤنڈیشن میں مشرق وسطی کے ماہر کا کہنا ہے کہ 2011 کی عربی بہار میں اتنا ہوا کہ لوگوں کے دلوں سے ڈر اور یہ نظریہ ختم ہوگیا کہ اعتراض اور مظاہرے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تاہم تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالنے والے بنیادی اسباب ختم نہیں ہوئے ہیں ،خطہ کے بہت کم ممالک نے دباؤ کے اسباب کو ختم کرنے کے اقدامات انجام دیے ہیں ۔
عوامی ناراضگی کا پوری دنیامیں ایک نیا دور چلا ہے، ایتھوپیا ، گیانا ، چلی اور ہانگ کانگ میں بھی  وسیع پیمانہ پر حکومتوں کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں   جن میں حالات کو بدلنے کی مانگ کی گئی ہے،یہ سب جوانوں میں اعتراض کے جذبہ کی عکاسی کرتے ہیں۔
پورے خطہ میں مظاہرین پورے سسٹم اور نظام کو بدلنے کی مانگ کر رہے ہیں ،وہ  ایک یا چند شخصیتوں  میدان سے باہر کرنے یاسابق حکام کے ملک کے مستقبل میں کوئی رول ادا نہ کرنے کی مانگ نہیں کر رہے ہیں کیونکہ مصر کے ناکام قیام سے سبق حاصل ہوچکاہے۔
محترمہ ویٹس کا کہنا ہے کہ نیہ نسل  نام کی ایک چیز کا بھی وجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ عرب کی نئی نسل جو پڑھی لکھی ہے اور دینا کے ساتھ رابطہ میں ہے اب وہ میدان میں آرہی ہے،یہ اپنا مستقبل خود رقم کرنا چاہتی ہے،اپنے فیصلے خود کرنا چاہتی ہے اور یہ اکثریت میں ہےنیز سیاست اور معاشرہ میں تبدیلی کی خواہاں ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम