Code : 2416 64 Hit

عراقی آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے:عراقی وزیر اعظم

عراق کے وزیر اعظم مظاہرین کی مانگوں کو قانونی قرار دیتے ہوئے کہاکہ حفاظتی اہلکاروں کو پرامن مظاہرین اور فتنہ گھروں کے درمیان فرق رکھنا چاہئے۔

ولایت پورٹل:عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران پرامن مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرے پر امن طریقہ سے ہو رہے تھے کہ ان سے وہی غلطیاں ہوئیں جو 2003 میں ہوئی تھیں،عبد المہدی  نے اس ملک کے آئین کا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے کچھ سیاستداں مظاہرین کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے آئین کی تبدیلی کے خواہاں ہیں جبکہ ہمارا آئین ایسا پرچم ہے جس کے تلے ہم سب ہیں اور یہ سب کے فائدہ میں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں ترمیم ہونا چاہئے اور اس کی ضرورت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس کو کیسے لاگو کیا جاۓ، انہوں نے مزید کہا عراق میں انتخابات کا قانون اور احزاب یا مختلف پارٹیوں کا قانون ہے جس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان فاصلہ ہو گیا ہے یہی وجہ تھی کہ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں لوگوں نے کم حصہ لیا ،ہمیں اس خلا کو پورا کرنے کے لیے انتخابات کے سلسلے میں نیا قانون بنانا ہوگا،عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ پرامن مظاہروں کی حمایت کی ہے اور انہیں قانونی سمجھتے ہیں لیکن کچھ عناصر تخریب کاریاں کرنے کے لئے ان مظاہرین کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ، عبدالمہدی نے کہا گھروں کو آگ لگانا اداروں کو جلانا یا یا پارٹیوں کے دفاتر میں توڑ پھوڑ مچانا ان کو کہاں سے پر امن یا صلح آمیز کہا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ مظاہرے اسی طرح جاری رہتے ہیں تو یہ نقصان دہ ہوں گے  اور عراق کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، بعض افراد کی طرف سے ان  استعفے کا مطالبہ کئے جانے کے سلسلے میں انھوں نے  کہا کہ اگر موجودہ حکومت مستعفی ہوجاتی ہے تو نئی حکومت کو بننے میں کافی ٹائم لگے گا جس سے ملک کے حالات مزید سنگین ہو جائیں گے، وزیراعظم نے مظاہروں کے کے مقابلے میں حفاظتی اہلکاروں کے رویے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور سلامتی اہلکاروں نےاب تک صرف اپنا دفاع کیا ہے حملہ نہیں۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम