Code : 2779 828 Hit

ابھی تو صرف ایک طمانچہ مارا ہے،ابھی اصلی انتقام باقی ہے: رہبر معظم

رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ گذشتہ رات امریکہ کو صرف ایک طمانچہ پڑا ہے،ابھی اصلی انتقام باقی ہے ، کہتے ہیں کہ شہید سلیمانی نے مغربی ایشیاء میں امریکہ کے تمام غیر قانونی منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔

ولایت پورٹل:انیس جنوری کے قیام  کی برسی کے موقع پر قم کے ہزاروں افراد نے رہبر معظم سے ملاقات کی،رہبر معظم حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس ملاقات میں گفتگو کے درمیان شہید قاسم سلمانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  آج کل ہمارے درمیان سے اٹھ جانے اور اپنے معبود حقیقی سے جا ملنے  والے  اس شہید کے بارے میں کافی باتیں ہورہی ہیں اور بہت اچھی باتیں بھی ہورہی ہیں، رہبر معظم نے شہید میجر جنرل سلیمانی کی شجاعت اور دلیرانہ اقدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: شہید قاسم سلیمانی شجاع بھی تھے اور حکمت عملی بھی جانتے تھے، بعض لوگ شجاع ہوتے ہیں لیکن ان کے پاس حکمت عملی نہیں ہوتی، بعض حکمت عملی جانتے ہیں لیکن شجاع نہیں ہوتے اور وہ اپنی حکمت عملی کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتے، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ شہید سلیمانی شجاعت اور حکمت عملی کا ایک نمونہ تھے ،وہ جانتے تھے کہ کہاں بندوق چلانا ہے اور کہاں نہیں چلانا جبکہ جنگ میں معمولا ان چیزوں کی رعایت نہیں کی جاتی،وہ صرف میدان جنگ ہی میں نہیں بلکہ سیاست کے میدان میں بھی نہایت عقلمندی کا ثبوت دیتے تھے، رہبر معظم نے شہید سلیمانی کی ذاتی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر حال میں دین  اور احکام شرعی کی پابندی کرتے تھے اور نہایت ہی خلوص کے ساتھ اپنے کاموں کو انجام دیتے تھے ،ریاکاری اور دکھاوے نام کی چیز ان میں نہیں پائی جاتی تھی،وہ ہمیشہ کوشش کرتے تھے کہ کسی کی حق تلفی نہ ہو ،میدان جنگ ہو یا کوئی اور جگہ، وہ خود تو دشمن کے نرغے میں چلے جاتے تھے لیکن دوسری کی جان کی حفاظت کرتے تھے،امریکیوں نے فلسطین کے بارے میں یہ منصوبہ بنا رکھا تھا کہ ایسا کریں کہ فلسطین صیہونیوں کو پتھر مارنا تو دور کی بات ان کے سامنے آنے سے ڈریں  لیکن حاج قاسم ہی تھے جنہوں نے فلسطینیوں کی اتنی مدد کی  کہ صیہونی غزہ جیسے چھوٹے سے علاقہ کے مجاہدین کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے اور 48گھنٹے بعد جنگ بندی کرنے پر مجبور ہوگئے،آخر میں انھوں نے شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شہادت نے سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور عراق سے لے کر ایران تک اس شان کے ساتھ ان کی تشییع جنازہ ہوئی کہ دشمن انگشت بہ دنداں رہ گیا۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम