Code : 1860 7 Hit

ایران کی جانب سے افغان قوم کے خلاف ٹرمپ کے نسل پرستانہ بیان کی مذمت

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے افغان قوم کے خلاف امریکی صدر کے نسل پرستانہ بیان کی مذمت کی ہے۔

ولایت پورٹل:اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے افغان قوم کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نسل پرستانہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے، انہوں نے اس قسم کے بیان کو تحقیر آمیز اور عالمی امن و صلح کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران افغانستان کے مظلوم، بہادر اور برادر عوام اور ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ ہے،ادھر افغان صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت امریکی صدر کے پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران دیئے کیے گئے بیان پر سفارتی ذرائع اور چینلز کے ذریعے وضاحت کا مطالبہ کرتی ہے،واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں کہا تھا کہ جنگ افغانستان کو ایک ہفتے میں ختم اور افغانستان کو صفحہ ہستی سے نابود کیا جاسکتا ہے لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے کیوں کہ اس میں دس لاکھ افراد مارے جائیں گے،ٹرمپ نے، ایک ہفتہ میں جنگ افغانستان کے خاتمے کی لاف گوئی ایسے وقت میں کی ہے جب امریکہ پچھلے اٹھارہ برس سے افغانستان میں دلدل میں ہاتھ پاؤں مار رہا ہے تاکہ اس جنگ میں امریکہ کو حتمی شکست سے بچایا جاسکے،افغانستان میں کھلی شکست کے باوجود امریکہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں اور امریکی حکام بدستور افغانستان پر اپنی بالادستی کا خواب دیکھ رہے ہیں اور اس بارے میں انتہائی حقارت آمیز بیانات دے رہے ہیں،امریکی صدر نے یہ دعوی ایسے وقت میں کیا ہے جب جنگ افغانستان امریکی تاریخ کی طولانی ترین جنگ میں تبدیل ہوگئی اور اس جنگ میں بری پھنس جانے کی وجہ سے، ٹرمپ انتظامیہ طالبان کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہوگئی ہے،طالبان سے مذاکرات کی پالیسی ایک ایسے امریکی صدر نے کہی ہے جو اس سے پہلے تک امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کو بحران افغانستان کا حل قرار دیتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ کا طالبان کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہونا اور وہ بھی ایسے حالات میں جب واشنگٹن کے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ اہداف میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہو سکا ہے، افغانستان میں امریکہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سحر


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम