Code : 2141 24 Hit

سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو پر حملے حوثیوں نے نہیں ایران نے کیے ہیں:امریکہ کی ہرزہ سرائی

امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں براہ راست ایران ملوث ہے۔

ولایت پورٹل:امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ ایک پیغام میں کہا  ہےکہ سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری آرامکو کی دو آئل فیلڈز پر ڈرون حملے دو دن قبل کیے گئے تھے جس کے باعث ریفائنری میں آگ لگ گئی تھی، یمنیوں نے سعودی عرب کی سرکاری آئل ریفائنری پرہونے والے ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی،امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے میں ڈائریکٹر کی حیثت سے فرائض سرانجام دے چکنے والے مائیک پومپیو نے اپنے پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ ڈرون حملے یمنیوں نے نہیں ایران نے کیے ہیں،انہوں نے الزام عائد کیا کہ سعودی عرب پر 100 کے قریب ہونے والے ڈرون حملوں میں ایران ملوث ہے جب کہ ایران کے صدر اور وزیر خارجہ ایسا ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ سفارتکاری میں مصروف ہیں،مائیک پومپیو نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ شدت پسندی کو ہوا دینے کے خاتمے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران نے دنیا کو تیل فراہم کرنے والی ریفائنری پر پے درپے حملے کیے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد نہیں ملے ہیں جن سے ثابت ہو کہ حملے یمن سے کیے گئے ہیں،سیکریٹری خارجہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ  امریکہ اپنے شراکت داروں اوراتحادیوں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ انرجی مارکیٹ کو تیل کی فراہمی جاری رہے، انہوں نے جارحیت کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا،چند ماہ قبل جب خلیج فارس میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا تو اس وقت بھی امریکہ نے اس کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا تھا جس سے تہران نے واضح طور پر انکار کردیا تھا،عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 5.7 ملین بیرل تیل کی فراہمی معطل ہوگئی ہے جو سعودی عرب کی کل پیداوار کی نصف ہے اور عالمی تیل مارکیٹ کا تقریباً چھ فیصد ہے،خبررساں ادارے کے مطابق پیداوار میں ہونے والی کمی سے عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتیں تیزی کے ساتھ بڑھ سکتی ہیں۔
ہم


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम