Code : 2993 86 Hit

ایران،امام خمینی(رح) کے بعد

یہ امام امت کی مہارت تھی کہ انھوں نے درخت انقلاب کو اس طرح پروان چڑھایا کہ فقط ان کے بعد تک ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ منزل کمال کی طرف گامزن رہے اور ناخوشگوار و معاندانہ حوادث کے طوفان اس تناور درخت کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔

ولایت پورٹل: مسلمانوں کے قائد عظیم الشأن اور کمزور و پسماندہ اقوام عالم کے رہبر عالی قدر امام خمینی(رح) کی جانگداز رحلت اگرچہ ملت ایران، عالم اسلام اور دنیا کے تمام آزادی طلب لوگوں کے لئے ایک سانحۂ عظیم تھا لیکن ان کی زندگی کی طرح ان کی وفات نے بھی صادقانہ راہ پر گامزن لوگوں کے لیے امید کے نئے دروازے کھول دئیے اور اس کے برعکس رہبر عالی قدر و امت اسلامیہ کے دشمنوں کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگی اور خودغرض تجزیہ نگاروں کا سراسر خیالی تجزیہ جس کا مقصد مسلمانوں کی تحریک کو انحراف سے دوچار کرنا ہے امام خمینی(رح) کی وفات کے چوبیس گھنٹے کے اندر ہی نقش برآب ہوگیا اور مقدس اسلامی جمہوری نظام کے اقتدار و استحکام فداکار ایرانی عوام کی نقل و حرکت سے اپنے اعتقادات کی مکمل پابندی اور اپنے قائد کی بھرپور پیروی کی جھلک محسوس ہونے لگی اور یہ تمام صفات عالمی سامراج کی طرف سے کئے جانے والے پروپیگنڈوں کے سیلاب کے مقابلے میں ایک عظیم و مستحکم باندھ میں تبدیل ہوگئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امام خمینی(رح) کے بعد ایران پہلے کی طرح اپنے امام کی راہ و روش پر اٹل ہے اور انشاء اللہ اپنے رہنما کے ارمانوں کو منزل مقصود تک ضرور پہنچائے گا۔ امام خمینی(رح) کے بعد ایران میں اقتدار کی کشمکش پر مشتمل عالمی سامراج اور اس کی پروپیگنڈہ مشین کی دس سالہ سرگرمیاں اس مرد کامل کی وفات کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی پوری طرح نقش برآب ہوکر رہ گئیں اور ماہرین کاؤنسل کی مجلس اور امت کے عظیم المرتبت فقہاء نے آیت اللہ خامنہ ای مدظلہ العالی کو اسلامی انقلاب کا قائد و رہبر منتخب کردیا۔ چنانچہ جو دشمنان اسلام اس دن کی امید لگائے بیٹھے تھے انھیں شرمناک ذلت و رسوائی کا منھ دیکھنا پڑا۔
امام خمینی(رح) کے الوداعی مراسم اور ان کی تکفین و تدفین اور تشییع جنازہ میں عزاداروں کا امنڈتا سیلاب عالمی سطح پر عصر حاضر کے اس مرد کامل کے سوگ میں مسلمین و مستضعفین کی طرف سے منعقد کی گئیں تعزیتی مجالس اور اس کے بعد امام امت کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اسلامی نظام حکومت کے مزید استحکام کے لئے آئین میں اصلاح کے سلسلے میں منعقد استصواب عامہ نیز صدارتی انتخاب میں ایک کروڑ ستر لاکھ ووٹروں کی شرکت اس بات کی روشن دلیل ہے کہ نظام اسلامی جمہوریہ ایران اپنے موقف پر اٹل اور ثابت قدم ہے۔ وہ نظام جس کی بنیادی راہ و روش کی تشکیل امام عزیز نے کی تھی اور اس کو بار آور بنایا تھا اور اسلامی انقلاب کے پہلے دس برسوں کے پر تلاطم دریا میں ایک ماہر ناخدا کی حیثیت سے بے خوف و خطر اس کی ہدایت اور رہنمائی کے فرائض انجام دئیے تھے۔ درحقیقت ان تمام مسائل نے ان بیرونی تجزیہ نگاروں کو حیرت زدہ و سوگوار بنادیا جو انقلاب کی ماہیت کے تئیں اپنی لاعلمی کی وجہ سے تمام کامیابیوں کو ایک شخصیت سے وابستہ سمجھا کرتے تھے۔ فقط یہی نہیں بلکہ موجودہ مسائل نے یہ بھی ثابت کردیا کہ یہ عالمی تجزیہ نگار اسلامی انقلاب سے کبھی بخوبی واقف نہیں رہے اور ان کا تجزیہ انقلاب دشمن عناصر اور ایرانی عوام سے بے تعلق افراد کی اطلاعات پر منحصر رہا ہے۔حالاںکہ یہ امام امت کی مہارت تھی کہ انھوں نے درخت انقلاب کو اس طرح پروان چڑھایا کہ فقط ان کے بعد تک ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ منزل کمال کی طرف گامزن رہے اور ناخوشگوار و معاندانہ حوادث کے طوفان اس تناور درخت کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔
دوسری طرف اسلامی انقلاب کے موجودہ قائد حضرت آیت اللہ خامنہ ای مد ظلہ العالی نے عالمی سامراجیت کے مقابلے میں اپنے اٹل موقف اور اپنی بے لچک سیاست کے ذریعے دنیا والوں پریہ ثابت کردیا کہ وہ اسلام محمدی(ص) کے چشمۂ فیاض سے سیراب ہوچکے ہیں۔ درحقیقت امام خمینی (قدس سرہ) نے اسلام محمدی(ص)کو نئی زندگی عطا کردی اور موجودہ رہبر انقلاب و صدر مملکت جیسے بیشمار شاگردوں کی تربیت کا کارنامہ انجام دیا۔ پس ایسے مایۂ ناز خدمت گزاران اسلام کی موجودگی کو مد نظر رکھتے ہوئے عالمی سامراج کو چاہیۓ کہ وہ اپنی شرمناک خواہشات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کردے اور یہ بھول جائے کے آزاد خیال و اسلام نما افراد کے برسر اقتدار آنے کے بعد انھیں ایران میں دست درازی اور لوٹ کھسوٹ کا موقع پھر ہاتھ آجائے گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے موجودہ صدر حجت الاسلام و المسلمین ہاشمی رفسنجانی نے جو اسلامی انقلاب کے گزشتہ دس سالہ سخت مراحل سے گزرچکے ہیں اور جن کے پاس مجلس شورائے اسلامی(پارلیمنٹ) کی صدارت اور امام امت کی شاگردی کا تجربہ موجود ہے، حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی تائید کے ساتھ صدر جمہوریۂ ایران کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں پوری طرح واضح کردیا کہ وہ کبھی کسی صورت میں بھی اسلامی انقلاب کے بنیادی اغراض و مقاصد اور امام عزیز کے ارمانوں کو ہرگز نظر انداز نہ ہونے دیںگے۔ بلکہ صدر اسلامی جمہوریۂ ایران کی حیثیت سے وہ ان مقدس اہداف و ارمانات کا بھر پور تحفظ کریں گے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ عالمی سامراج، اس کے ایجنٹ اور تبلیغاتی ادارے ہمیشہ ملت اسلامیۂ ایران کے مثالی اتحاد کو نقصان پہنچانے میں ہمہ تن سرگرم رہے ہیں چنانچہ اس مدت کے دوران بھی وہ اپنی شرمناک حرکتوں سے باز نہیں آئے اور صدارتی چناؤ نیز پارلیمنٹ میں نئی کابینہ کے وزیروں کے تعارف کے دوران وہ ایرانی حکام کی مختلف خودساختہ جماعتوں کے درمیان  بے بنیاد اور خیالی جھگڑے کا راگ الاپتے رہے اور عالمی سطح پر یہ پروپیگنڈہ کرتے رہے کہ حجت الاسلام ہاشمی رفسنجانی کی کابینہ میں شامل تمام وزیروں کو ایرانی پارلیمنٹ کا اعتماد نہ حاصل ہوسکے گا۔ لیکن پہلے کی طرح ان کا یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہوا اور پارلیمنٹ میں ملت اسلامیہ کے منتخب نمائندوں اور امام امت کے عزیز شاگردوں نے تجویز شدہ جملہ اراکین کی استعداد و صلاحیت پر مفصل بحث و مباحثہ کے بعد پوری کابینہ کو منظوری دے دی اور ایک بارپھر ثابت کردیا کہ اسلامی ایران کو تمام بنیادی اداروں کے درمیان مثالی اتحاد کا حامل بنادیا ہے اور امت اسلامیہ کا یہ عدیم المثال اتحاد اسلامی جمہوری نظام کی بقا و ترقی و خوشحالی کی ضمانت ہے اور باشعور و آگاہ قائد کی قیادت اور اس مثالی وحدت و اتحاد کے سایہ میں ہی تمام اسلام دشمن سازشوں کو ناکام و نابود کیا جاسکتا ہے اور انشاء اللہ بہت جلد ہی دنیا والوں کے سامنے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجائے گی کہ کس طرح ایک مستقل و آزاد ملک خدائے لایزال کی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے وابستگی و انحصار کی لعنتوں سے علاحدگی کے ساتھ تمام سیاسی اقتصادی اور سماجی شعبۂ حیات میں عظیم الشأن کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔
نوٹ: یہ مقالہ ایران کے سابق صدر حجۃ الاسلام ہاشمی رفسنجانی کے دور حکومت میں تحریر کیا گیا تھا۔




0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम