Code : 1457 103 Hit

علی(ع) کے ساتھ رہنے کے لئے بصیرت لازمی شئی ہے: رہبر انقلاب

حضرت امیرالمؤمنین(ع) کے عہد حکومت میں اور پیغمبر اکرم(ص)کے دورِ حکومت اور آپ(ع) کی حیات طیبہ میں عمدہ فرق یہ تھا کہ صفیں معین تھیں، صف ایمان و کفر۔ رہے منافقین تو قرآن مجید ہمیشہ ان سے ہوشیار کئے رہتا تھا لیکن امیرالمؤمنین کے عہد میں صفیں معین نہیں تھیں اس کی وجہ یہ تھی کہ ناکثین(بیعت توڑنے والوں) میں کچھ نمایاں لوگ شامل تھے مثلاً زبیر یا طلحہ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں ہر شخص تردد کا شکار ہوجاتا تھا۔ رسالت مآب کے زمانہ میں زبیر کی ایک شخصیت تھی، نمایاں لوگوں میں سے ایک تھا۔یہاں تک کہ رسول(ص) کے بعد بھی وہ ان افراد میں سے ایک تھا جنہوں نے امیرالمؤمنین(ع) کے دفاع میں سقیفہ پر اعتراض کیا تھا۔ لیکن کبھی دنیاطلبی، گوناگوں حالات اور دنیا کی سج دھج ایسے ہی اثرانداز ہوتی ہے اور بعض لوگوں کو اس طرح بدل دیتی ہے کہ انسان کبھی اپنے خاص لوگوں کے بارے میں بھی تردّد سے دوچار ہوجاتا ہے۔

ولایت پورٹل: حضرت امیرالمؤمنین(ع) کے عہد حکومت میں اور پیغمبر اکرم(ص)کے دورِ حکومت اور آپ(ع) کی حیات طیبہ میں عمدہ فرق یہ تھا کہ صفیں معین تھیں، صف ایمان و کفر۔ رہے منافقین تو قرآن مجید ہمیشہ ان سے ہوشیار کئے رہتا تھا کیونکہ یہ معاشرہ کے اندر تھے، ان کی طرف واضح اشارہ کرتا تھا،ان کے مقابلہ میں مؤمنین کی تقویت کرتا تھا، منافقین کے حوصلے پست کرتا تھا یعنی عہدرسالت مآب اور اسلامی نظام میں سب چیزیں آشکار تھیں، مدمقابل کی صفیں معین تھیں۔ ایک شخص کفر و طاغوت اور جاہلیت کا طرفدار تھا دوسرا ایمان و اسلام اور توحید و معنویت کا طرفدار تھا البتہ وہاں بھی ہر قسم کے لوگ تھے۔ اس زمانہ میں بھی ہر قسم کے لوگ تھے لیکن صفیں معین تھیں۔
امیرالمؤمنین کے عہد میں صفیں معین نہیں تھیں اس کی وجہ یہ تھی کہ دوسرے گروہ یعنی ناکثین میں کچھ نمایاں لوگ شامل تھے مثلاً زبیر یا طلحہ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں ہر شخص تردد کا شکار ہوجاتا تھا۔ رسالت مآب کے زمانہ میں زبیر کی ایک شخصیت تھی، نمایاں لوگوں میں سے ایک تھا۔رسول(ص) کا پھوپھی زاد بھائی اور آپ کا قریبی تھا یہاں تک کہ رسول(ص) کے بعد بھی وہ ان افراد میں سے ایک تھا جنہوں نے امیرالمؤمنین(ع) کے دفاع میں سقیفہ پر اعتراض کیا تھا۔ جی ہاں! سب کی عاقبت کا حکم پوشیدہ ہے۔ خدا ہم سب کی عاقبت بخیر کرے، کبھی دنیاطلبی، گوناگوں حالات اور دنیا کی سج دھج ایسے ہی اثرانداز ہوتی ہے اور بعض لوگوں کو اس طرح بدل دیتی ہے کہ انسان کبھی اپنے خاص لوگوں کے بارے میں بھی تردّد سے دوچار ہوجاتا ہے چہ جائیکہ عام لوگوں کے بارے میں۔ بنابرایں وہ زمانہ واقعاً سخت تھا۔
جو لوگ امیرالمؤمنین(ع) کے خیمہ میں تھے، جنہوں نے استقامت سے کام لیا اور آپ کی طرف سے جنگ لڑی، انہوں نے نہایت ہی بصیرت سے کام لیا، میں نے بارہا امیرالمؤمنین(ع) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’لَا یَحْمِلُ ھٰذَا الْعِلْمَ اِلَّا اَھْلُ الْبَصَرِ وَالصَّبْرِ‘‘۔اس علم اور معرفت کو حاصل کرنے کے لئے بصیرت اور صبر لازمی ہے۔  
اول تو بصیرت لازم ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹکراؤ کے ایسے دور میں، امیرالمؤمنین(ع) کے مشکلات کیسے رہے ہوںگے۔ وہ کج رفتار لوگ جو مسلمان ہونے کے دعوے کے ساتھ امیرالمؤمنین(ع) سے جنگ کررہے تھے اور غلط باتیں کرتے تھے صدرِ اسلام میں غلط افکار بہت زیادہ رائج تھے مکہ میں بھی مدینہ میں بھی لیکن قرآن کی آیت نازل ہوتی تھی اور صریح طور پر ان افکار کو ردّ کردیتی تھی۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम