Code : 677 159 Hit

عالمی مجرم بن سلمان کا دورۂ پاک و ہند؛نئے فتنوں کی ولادت کا پیش خیمہ

کرمنل بن سلمان نے اپنی آمد سے قبل ان حملوں کے ذریعہ ایران اور ہندوستان کو پیغام دیا ہے کہ جو کام وہ اپنے پڑوسی ممالک یمن اور بحرین کے شہریوں کے ساتھ کرتا آیا ہے اب یہی تجربہ وہ موجودہ پاکستانی حکومت کی مدد سے خود پاکستان اور ان دونوں ملکوں میں ناامنی،فرقہ واریت، قتل و کشتار اور دہشت گردی کی صورت میں دہرانے جا رہا ہے۔

ولایت پورٹل: عالمی مجرم سعودی ولیعہد بن سلمان کی آمد پر ایک استقبال پاکستانی حکومت کر رہی ہے جسے انتہائی غلامانہ اور ننگ و عار سے بھرپور استقبال کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، یہ ایک ایسا استقبال ہے کہ مٹھی بھر ریال خور سیاستدانوں کی نمک خواری پوری قوم کو رسوا کرنے پر تلی ہے۔
جبکہ اس نجس وجود کا دوسرا استقبال پاکستان میں بیٹھے اُن پالتو دہشت گردوں نے کیا ہے جن کی بندوق سے لے کر پاجامے کے ناڑے تک کا خرچہ عرصے سے سعودی حکومت دیتی چلی آ رہی ہے۔
قابل غور ہے کہ اس شہزادے کی پاک و ہند آمد پر دہشت گردوں نے معصوموں کے خون سے خوب استقبال کیا ہے، ایران کے زاهدان علاقہ میں جہاں سپاہ پاسداران انقلاب کی کثیر تعداد نے جام شہادت نوش کیا اگلے ہی دن اسی سے مشابہ ہندوستان میں بھی خودکش حملے میں فوجی جوانوں کو شہید کر دیا گیا۔
دونوں ہی حملوں کے دہشتگرد گروہ (جیش الظلم اور جیش محمد) پاکستانی دہشتگرد لابی میں شمار ہوتے ہیں۔
یزید وقت بن سلمان کی آمد پر ان دونوں حادثوں کو اگر اتفاقی مان لیا جائے تو یہ محض ایک سادگی ہوگی۔
کرمنل بن سلمان نے اپنی آمد سے قبل ان حملوں کے ذریعہ ایران اور ہندوستان کو پیغام دیا ہے کہ جو کام وہ اپنے پڑوسی ممالک یمن اور بحرین کے شہریوں کے ساتھ کرتا آیا ہے اب یہی تجربہ وہ موجودہ پاکستانی حکومت کی مدد سے خود پاکستان اور ان دونوں ملکوں میں ناامنی،فرقہ واریت، قتل و کشتار اور دہشت گردی کی صورت میں دہرانے جا رہا ہے۔
بن سلمان پاکستانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ایک خطیر رقم پاکستان لیکر آرہا ہے ظاہر سی بات ہے کہ یہ رقم صرف ایک تحفہ نہیں ہوگی بلکہ اس کے بدلے میں بہت سارے اہداف حاصل کئے جائیں گے۔
بن سلمان کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اس کے لئے سب سے بڑا خطرہ ’’مہدویت‘‘ ہے اور اس کا دوسرا ہدف خطے میں امریکہ کے کم ہوتے ہوئے اثر و رسوخ کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔
اس وقت ان دونوں اہداف کو حاصل کرنے کے لئے سب سے بہترین سرزمین پاکستان اور سب سے بہترین آلۂ کار موجودہ احمق ترین پاک حکومت ہے، لہذا اس نے اپنے آقاؤں کے اشاروں پر ایک بار پھر پاکستانی عوام کی زندگی کو جہنم بنانے کے لئے وہاں کے نالائق حکمرانوں کو ریالوں کے بدلے میں خرید لیا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان پہنچنے پر منحوس بن سلمان کو کسی طرح کی مزاحمت یا احتجاجی کاروائیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے،اس سے بچنے کے لئے حکومت کی جانب سے شیعہ تنظیموں پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے، ان کے قائدین کو ڈرایا جا رہا ہے، حکومتی دفاتر سے لیٹر جاری کرکے شیعہ تنظیموں کی جانب سے احتجاج کے خطرے کیجانب پولیس اہلکاروں کو متوجہ کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی ان کے خلاف ایکشن لینے کا بھی اعلان کیا جا چکا ہے، گزشتہ رات موصولہ اطلاع کے مطابق پاکستان میں اپنے حقوق کے لئے سرگرم شیعہ انقلابی تنظیم آئی ایس او کے کئی کارکنان کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے جس کے نتیجے میں وہاں رہبران ملت کی اکثریت اس ناقابل برداشت حادثہ پر  سہمی ہوئی نظر آرہی ہے۔
اسی طرح دورہ ہند میں بھی یقیناً سلمان حمار کے مجرم بیٹے کی کوشش یہی ہوگی کہ ترقی، دفاعی امور میں تبادلہ خیال اور تیل کی بہترین سپلائی کے منصوبے کے نام پر ہندوستان کو ایران کے خلاف بھڑکایا جائے کیونکہ جتنا ایران مستحکم ہوگا، اتنا ہی ایرانی نظام کی اساس نظریہ مہدویت بھی پروان چڑھے گا جو کہ بن سلمان کی آنکھ کا کانٹا ہے، لہذا دورۂ ہند پر اس کی پوری کوشش یہی ہوگی کہ مختلف بہانوں سے ہندوستانی حکومت سے ایران روابط میں کمی کی درخواست کی جائے اور ساتھ ہی یہاں کی بڑی آبادی شیعہ سنی میں پھوٹ ڈالنے کے لئے منصوبہ بندی کی جائے جیسا کہ عرصہ سے موجودہ حکومت بھی اس معاملے میں سنجیدہ نظر آرہی ہے، توحیدی جیسے متنازع اور خودساختہ امام کی ہند آمد اور اسے حکومتی سطح پر پذیرائی ملنا، یہ بھی محض ایک اتفاق نہیں تھا بلکہ یہ فرقہ واریت کی زنجیر کی  وہ کڑی ہے، جس کی گرہ خونگر بن سلمان کی  آمد سے ملتی ہے۔
خلاصۃ مفسد فی الارض کے حقیقی مصداق مجرم بن سلمان کی ہند و پاک میں آمد جدید نحوستوں کا باب کھولنے جا رہی ہے اگر وقت رہتے اس یزیدی تفکر کے علمبردار کی پالیسیوں کے خلاف اقدامات نہ کئے گئے تو علاقہ میں جلد ہی نئے فتنے اپنی ولادت کے منتظر بیٹھے ہیں۔

تحریر:محمد کمیل شہیدی
   


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम