Code : 4522 8 Hit

اللہ و رسول(ص) کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل عدالت کا نفاذ

سیکڑوں احادیث اور روایات ان مفاہیم کو بیان کرتی ہیں اور قرآن مجید نے بھی جگہ جگہ انصاف اور عدالت کو طلب فرمایا ہے لہِذا اگر کوئی چاہتا کہ وہ حقیقی ایمان کے دائرہ میں داخل ہو تو وہ عدل و انصاف کی رعایت کرے چونکہ اللہ رسول اور اہلبیت علیہم السلام بھی اسی کو پسند کرتے ہیں جو عدل کی رعایت اور انصاف کا نفاذ کا خواہاں ہوتا ہے ۔

ولایت پورٹل: مقصد تخلیق انسان یہ ہے کہ انسان با عظمت ہو ، انسان کمال تک پہونچے ،انسان با شرف ہو ، اور یہ تب ممکن ہے جب انسان اللہ سے نزدیک تر ہو جائے اور جتنا انسان دین الِہی کا تابع ہوگا اتنا ہی انسان کمال سے نزدیک ہوگا ۔چونکہ قرب الِہی کمال کی آخری منزل ہے اور جتنا انسان اللہ کا فرمانبردار ہوگا اتنا ہی اللہ کے قریب ہوتا چلا جائےگا ، فرمانبرداری عزوجل تقوی کے اوپر موقوف ہے بندہ جتنا متقی ہوگا اتنا ہی صالح اور نیک قرار پائےگا چنانچہ اما سجاد علیہ السلام صحیفہ سجادیہ میں ارشاد فرماتے : وَحَلِّنِی بِحِلْیةِ الصَّالِحِینَ، وَ أَلْبِسْنِی زِینَةَ الْمُتَّقِینَ، فِی بَسْطِ الْعَدْلِ‘‘۔(1)  خدایا، عدالت کو فروغ دینے کے سلسلہ میں تو مجھے صالحین کے زیور سے آراستہ  اورمتقین کے لباس سے مزین فرما ۔
امام علیہ السلام کے اس بیان اور دعا کا مطلب یہ ہے کہ صالحین کی زینت اور متقین کا تقوی یہ ہے کہ وہ عدالت الیھیہ کو قائم کریں یعنی اگر عدالت اور انصاف کی رعایت نہ کرے تو وہ صالح اور متقی نہیں ہو سکتا اور جو صالح اور متقی نہیں ہوگا وہ اللہ کا قرب حاصل نہیں کر سکتا لہِذا انسانیت کا کمال اور تقرب الِہی عدالت اور انصاف پر مبنی ہے ۔
اسی لئے امام مہدی(عج) جب ظھور فرمائیں گے تو سب سے پہلا کام قیام عدالت ہوگا یعنی سب سے پہلے آپ کائنات میں عدالت کو قائم فرمائیں گے ،رسول گرامی ) ص(  کا ارشاد ہے :’’ المهدی من ولدی... فیملأ الارض قسطا و عدلا کما ملئت ظلما و جورا‘‘۔(۲)
یہ حدیث متواتر احادیث میں سے ہے پیمبر اعظم(ص) جب اپنے فرزند کے بارے میں بیان کرتے ہیں تو سب سے پہلی چیز عدالت کے نفاذ کو بیان کرتے ہیں کہ مہدی (عج) کا سب سے پہلا کام  عدالت کا نفاذ ہوگا ،رسول اللہ(ص) نماز، روزہ ، حج ، زکوۃ ،جہاد ۔۔۔ کے قیام کو بیان نہیں کرتے اس لئے کہ یہ تمام چیزیں تب ہی میسر ہیں جب عدل قائم ہو ۔
ابن عثمان بیان کرتےہیں  : عَنْ عَمْرِوبْنِ‌عُثْمَانَ قَال خَرَجَ أَمِیرُالْمُؤْمِنِینَ (علیه السلام) عَلَی أَصْحَابِهِ وَ هُمْ یَتَذَاکَرُونَ الْمُرُوه فَقَالَ أَیْنَ أَنْتُمْ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ قَالُوا یَا أَمِیرَالْمُؤْمِنِینَ(علیه السلام) فِی أَیِّ مَوْضِعٍ فَقَالَ فِی قَوْلِهِ عَزَّوَجَلَّ إِنَّ اللهَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسانِ فَالْعَدْلُ الْإِنْصَافُ وَ الْإِحْسَانُ التَّفَضُّلُ ‘‘۔(۳)
ابن عثمان کہتا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام اپنے کچھ اصحاب کے پاس گئے تو آپنے دیکھا وہ مروت سے متعلق گفتگو کر رہے ہیں آپنے ان سے پوچھا اللہ کی کتاب میں  یہ کہاں ہے؟ اصحاب نے کہا ؟ یا امیر المومنین آپ ہی وضاحت  فرما دیجئے کہ  کس جگہ ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا:’’ إِنَّ اللهَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسانِ ‘‘۔(4) بے شک اللہ عدل قائم کرنے اور احسان و بخشش کرنے کا حکم دیتا ہے ۔
اسی طرح امام باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :عدالت یعنی اللہ کی وحدانیت کا اقرار اور رسول اللہ(ص) کی رسالت ،امیر المومنین علیہ السلام اور آپکے فرزندوں  کی امامت کا اقرار، امر بالمعروف اور نھی از منکر کا نفاذ ہے اور بغاوت کا مطلب ، اہل بیت علیہ السلام پر ظلم کرنا انکو شھید کرنا اور انکے حق کو غصب کرنا ہے۔(5)
اسی طرح رسول اکرم )ص(نے ابن مسعود سے فرمایا :ای فرزند مسعود کبھی جھوٹ مت بولنا لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا ،لوگوں کو نیکی کی دعوت دینا اسکے بعد آپ نے سورہ نحل کی ۹۰ ویں آیت کی تلاوت فرمائی۔(6 )
ہمیں چاہئے کہ ہمیشہ حلال وحرام کی رعایت کریں چونکہ اہل بیت علیہم السلام ہم سے یہی چاہتے ہیں رسول اللہ )ص(نے مولا امیرالمومنین علیہ السلام سے فرمایا: یا علی جانتے ہو سب سے زیادہ مجھ سے کون نزدیک ہے؟ آپ نے پوچھا کون یا رسول اللہ؟ فرمایا جو تم میں سب سے زیادہ با اخلاق ،بردبار ،صلہ رحم کرنے والا اور انصاف کرنے والاہے۔(7)
فرمایا حقیقی مومن وہ ہے جو دوسروں کی مال کے ذریعہ مدد کرتا ہے اور لوگوں کے  ساتھ منصفانہ برتاؤ رکھتا ہے ۔ 8
سیکڑوں احادیث اور روایات ان مفاہیم کو بیان کرتی ہیں اور قرآن مجید نے بھی جگہ جگہ انصاف اور عدالت کو طلب فرمایا ہے لہِذا اگر کوئی چاہتا کہ وہ حقیقی ایمان کے دائرہ میں داخل ہو تو وہ عدل و انصاف کی رعایت کرے چونکہ اللہ رسول اور اہلبیت علیہم السلام بھی اسی کو پسند کرتے ہیں جو عدل کی رعایت اور انصاف کا نفاذ کا خواہاں ہوتا ہے ۔
دعا کرتے ہیں اللہ ہمیں انصاف کو قائم کرنے والا ،متقی اور پرہیزگار بننے کی توفیق عطا کرے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1. صحیفه سجادیه، دعای۲۰
2. اکمال‌الدین، ج1، ص286
3. تفسیر اهل بیت(ع)، ج۷، ص۷۱۴
4. نحل90
5. بحارالأنوار، ج۲۴، ص۱۸۸
6. بحار، ج۷۴، ص۱۱۱
7. مکارم‌الاخلاق ص۴۴۲
8. خصال صدوق، ص۴۷



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین