Code : 4110 8 Hit

مختصر لفظوں میں غدیر خم کی داستان

کچھ دن کے پیدل سفر کے بعد ،آپ سبھی مسلمانوں اور حاجیوں کے ساتھ مکہ پہونچے ، مسلمان اپنے آخری نبی(ص) کے ساتھ ارکان حج ابراہیمی بجا لائے اور اختتام پر مدینہ کی طرف واپسی کے لئے نکل پڑے ، مدینہ لوٹتے ہوئے جب پیغمبر اکرم(ص) سارے حاجیوں کے ساتھ ۱۸ ذی الحجہ کو جحفہ کے علاقہ غدیر خم نامی جگہ پر پہونچے ۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں سے مدینہ، مصر اور عراق کے راستے الگ الگ ہوتے تھے ۔ اس مقام پر جبریل(ع) اللہ کی طرف سے نازل ہوئے اور اس پیغام کو آیت کی شکل میں ان تک پہونچا دیا جس میں اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے : اے رسول ! جس کے بارے میں آپ کو بتلایا جاچکا ہے اسے لوگوں تک پہونچا دیجئے ۔ اسی کو ہم آیت بلّغ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

ولایت پورٹل: پیغمبر اکرم (ص) نے سن ۱۰ ہجری میں لوگوں کے درمیان یہ اعلان عام کروایا کہ حج کے لئے مکہ چلنے کی تیاری کریں ۔ حکم سرکار رسالتمآب(ص) ملنے کے  بعد آس پاس کے علاقوں سے بھی مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد حج کو ادا کرنے کے لئے مدینہ میں آکر جمع ہوگئی۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں سرکار رسالتمآب(ص) نے ہجرت سے لیکر ابھی تک کوئی حج نہیں کیا تھا لہذا یہ حج اس اعتبار سے بھی بہت اہم تھا ۔چنانچہ پیغمبر اکرم(ص) ۲۴ یا ۲۵ ذی القعدہ کو سنیچر کے دن غسل کرکے اور احرام کے دو کپڑے جسم اقدس پر لپیٹ کر  پیدل مدینہ سے باہر تشریف لے آئے ۔خواتین کو محملوں می سوار کرکے اپنے خاندان کے سبھی لوگوں ، مہاجرین و انصار، عرب قبائل اور آس پاس کے تمام علاقوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ سفر کے لئے نکل پڑے ۔
اتفاق کی بات یہ ہے کہ ان دونوں چیچک اور بخار کا مرض شدت کے ساتھ پھیلا ہوا تھا اس لئے بہت سے لوگ آپ کے ساتھ حج کرنے کے لئے نہیں جاسکے ۔لیکن ان حالات کے باوجود ، ایک جم غفیر سرکار کی معیت میں ارکان حج کو بجا لانے کے لئے گیا کہ جس کی صحیح تعداد کے متعلق مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ۔ چنانچہ اکثر مورخین کے نقل کردہ اقول کی روشنی میں سرکار کے ساتھ حج ادا کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار لوگ بتلائی جاتی ہے ۔
لیکن دیگر قرآئن سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس سال حاجیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی چونکہ یہ تعداد تو صرف وہ تھی جو حضور(ص) کے ساتھ مدینہ میں اکھٹا ہوکر گئے تھے اور اس کے علاوہ مکہ اور اطراف مکہ نیز یمن سے حضرت علی(ع) کے ہمراہ آنے والے لوگوں کی تعداد بھی کافی تھی۔
کچھ دن کے پیدل سفر کے بعد ،آپ سبھی مسلمانوں اور حاجیوں کے ساتھ مکہ پہونچے ، مسلمان اپنے آخری نبی(ص) کے ساتھ ارکان  حج ابراہیمی بجا لائے اور اختتام پر مدینہ کی طرف واپسی کے لئے نکل پڑے ، مدینہ لوٹتے ہوئے جب پیغمبر اکرم(ص) سارے حاجیوں کے ساتھ ۱۸ ذی الحجہ کو جحفہ کے علاقہ غدیر خم نامی جگہ پر پہونچے ۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں سے مدینہ، مصر اور عراق کے راستے  الگ الگ ہوتے تھے ۔ اس مقام پر جبریل(ع) اللہ کی طرف سے نازل ہوئے اور اس پیغام کو آیت کی شکل میں ان تک پہونچا دیا جس میں اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے : اے رسول ! جس کے بارے میں آپ کو بتلایا جاچکا ہے  اسے لوگوں تک پہونچا دیجئے ۔ اسی کو ہم آیت بلّغ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
یعنی اللہ نے آپ(ص) کو حکم دیا ہے کہ امام علی(ع) کو امام اور ولی کے طور لوگوں کے سامنے پہچنوائیں اور سارے لوگوں کے درمیان یہ اعلان کردیں کہ امام علی(ع) کی اطاعت و پیروی سب پر واجب ہے ۔
یہ حکم  آنے کے بعد پیغمبر (ص) نے حکم دیا کہ جو لوگ آگے جا چکے ہیں انہیں واپس بلایا جائے اور جو ابھی قافلہ سے پیچھے رہ گئے ہیں ان کا انتظار کیا جائے ۔ اس کے بعد سارے  حاجیوں کو سرکار نے غدیر میں جمع کیا ، ظہر کی نماز کے لئے اذان دی گئی ۔ سورج کی تپش کا عالم یہ تھا کہ لوگ اپنی اپنی عباؤں کا ایک گوشہ اپنے سر پر اور دوسرا اپنے پیروں کے نیچے دبائے ہوئے تھے ۔ سرکار رسالتمآب(ص)  نماز پڑھانے کے بعد اونٹوں کے کجاؤں سے تیار کئے گئے منبر پر تشریف لے گئے اور لوگوں سے اس طرح گفتگو کی کہ سب لوگوں نے آپ کی آواز کو سنا چنانچہ آپ نے فرمایا :
تمام تعریفوں کی حقدار صرف اللہ تعالی کی ذات ہے ، ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی پر ایمان رکھتے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ نفس امارہ کے گمراہ کرنے اور اپنے بُرے اعمال کے لئے اسی سے پناہ چاہتے ہیں ۔ وہ اللہ جس کے علاوہ کوئی گمراہوں کی ہدایت کرنے والا نہیں ہے ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کا کوئی شریک اور ساتھی نہیں ہے اور محمد(ص) اس کا بندہ اور رسول ہے ۔
پھر فرمایا : اے لوگوں ! علیم اور مہربان اللہ نے مجھے خبر دی ہے کہ میری زندگی کے دن بہت جلد ختم ہونے والے ہیں اور میں بہت جلد اس کی بارگاہ میں واپس جانے والا ہوں ۔
لوگوں نے آپ کے اس بیان کے بعد کہا : ہم سب گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اللہ کی رسالت کو بخوبی پہونچایا اور نیکی کی ہدایت کی لہذا  اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔
پھر آپ نے فرمایا : کیا تم گواہی نہیں دیتے ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد(ص) اس کے بندے اور رسول ہیں ؟ جنت ، جہنم اور موت بر حق ہیں ؟ اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور اللہ ہر ایک کو قبروں سے زندہ کرکے اٹھائے گا ۔
سارے لوگوں نے ایک ساتھ کہا : ہم سب اس کی گواہی دیتے ہیں۔اس کے بعد آپ نے خطبہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا : خدایا تو گواہ رہنا ۔
پھر فرمایا : اے لوگوں کیا تم سن رہے ہو ؟
سب نے ایک ساتھ کہا : ہاں! یا رسول اللہ !
آپ نے فرمایا : میں تم لوگوں سے پہلے حوض کوثر پر پہونچوں گا اور تم لوگ وہاں میرے پاس آؤ گے ۔ اس لئے توجہ رہے کہ میرے بعد تم لوگ ثقلین کا کیسے خیال رکھتے ہو۔
لوگوں میں سے کسی نے سوال کیا : یا رسول اللہ (ص)  ثقلین کیا ہے ؟
آپ نے فرمایا : ایک اللہ کی کتاب ہے قرآن ،جس کا ایک سرا اللہ کے پاس ہے اور دوسرا تمہارے ہاتھ میں ہے اس لئے اسے مضبوطی سے پکڑے رہو تاکہ گمراہ نہ ہوں۔ دوسرے میری عترت میرے اہل بیت(ع) ہیں ۔ علیم اور مہربان اللہ نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں کبھی آپس میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے اس لئے ان سے آگے نکلنے کی کوشش مت کرنا اور نہ ہی ان کے بارے میں لاپرواہی کرنا ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے ۔
اس کے بعد آپ نے امام علی(ع) کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور جب سبھی لوگوں کی توجہ  آپ کی طرف ہوگئی تب آپ نے فرمایا : اے لوگوں کون ہے جو مؤمنین پر ان کے نفوس سے زیادہ ولایت کا حق رکھتا ہے ؟
سب نے ایک ساتھ کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔
آپ نے فرمایا : اللہ میرا مولا ہے اور میں مؤمنین کا مولا ہوں اور ان پر حق ولایت رکھتا ہوں اور جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے علی(ع) بھی مولا ہیں ۔
اور پھر اس جملے کو آپ نے تین مرتبہ دوہرایا ۔
اس کے بعد آپ نے اور بھی بہت سی باتیں مسلمانوں سے کہیں اور آخر میں اس بات پر زور دیکر کہا کہ جو یہاں حاضر ہے وہ اس خبر کو ان لوگوں تک ضرور پہونچائے جو یہاں نہیں ہیں ۔ چنانچہ ابھی لوگ وہاں سے ہٹے بھی نہیں تھے کہ جبریل اس آیت کو لیکر نازل ہوگئے :’’ آج میں نے تمہارے دین کو کامل کردیا اور اپنی نعمتوں کو تم پر تمام کردیا ‘‘۔
پھر لوگوں نے امام علی(ع) کو مبارک باد دینا شروع کردی۔
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین