ہمارے ملک میں کورونا ویکسین کے حصول میں بھی نسلی امتیاز ہورہا ہے؛امریکی ڈاکٹر کا اعتراف

امریکی متعدی امراض کے ماہر نے سرکاری طور پر کورونا ویکسین وصول کرنے والوں میں نسلی امتیاز اور عدم مساوات کا اعتراف کیا ہے۔

ولایت پورٹل:سینئر امریکی متعدی امراض کے ماہر انتھونی فوکی نے ایم ایس این بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کورونا ویکسی نیشن میں نسلی امتیاز بہت پریشان کن ہے، فوکی نے مزید کہاکہ پریشان کن اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ریاستہائے متحدہ کی سفید فام آبادی کو کسی دوسرے رنگ والے شخص کے مقابلے میں کورونا ویکسین زیادہ ملی ہے،انھوں نے مزید کہا کہ  ان لوگوں کے بارے میں شائع اعدادوشمار کے نتائج جنہوں نے اب تک کورونا ویکسین وصول کی ہے انتہائی پریشان کن ہیں،اگرچہ نسلی اقلیتوں کے مابین ویکسین کے خلاف مزاحمت کا ایک قابل فہم احساس موجود ہے  لیکن یہ ضروری ہے کہ ہم انہیں فعال طور پر ویکسین تک رسائی کے قابل بنائیں۔
امریکی متعدی امراض کے ماہر کاکہنا ہے کہ جو بائیڈن کی حکومت نے فعال طور پر ان علاقوں میں حفاظتی ٹیکوں کے مراکز کو بڑھانے کی کوشش کی ہے جہاں اقلیتیں آباد ہیں،یادرے کہ بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے امریکی مراکز کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ سفید فام لوگوں کے مقابلے میں سیاہ فاموں ک کورونا وائرس میں مبتلا ہونےکا امکان تین گنا زیادہ ہے اور گوروں کے مقابلہ کالوں کے اس مرض سےمرنے کا امکان دو برابر ہے ۔
یادرہے کہ پوری دنیا کو انسانیت اور جمہوریت  کے لمبے لمبے لکچرز دینے والے امریکہ کی اپنی یہ حالت ہے کہ ایک بیماری سے بچنے کے لیے ویکسین لگانے میں بھی نسلی امتیاز برتا جاتا ہے کیونکہ ان کی نظر میں سفید فاموں کے علاوہ کسی کو جینے کا حق نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ امریکی پولیس آفیسر سیاہ فام نوجوان کا گلا دبا کر جان سے مار دیتا ہے اور عالمی برادری کو ٹس سے مس نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی آواز بلند ہوتی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین