ایک سال میں 16000 سے زائدفلسطینی بچے صیہونی فوج کے ہاتھوں گرفتار

فلسطینی قیدیوں کے امور کی نگراں  کمیٹی کا کہنا ہے کہ سن 2000 کے بعد سے صہیونی ملیشیا نے 16000 سے زیادہ فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا ہے۔

ولایت پورٹل:فلسطین ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق  فلسطینی قیدیوں کی تحقیقاتی کمیٹی نے پیر کے روز فلسطینی بچوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے مخالفانہ اقدامات کے بارے میں ایک بیان جاری کیا، رپورٹ کے مطابق فلسطینی قیدیوں کی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہےکہ سن 2000 کے بعد سے صہیونی ملیشیا نے 16000 سے زیادہ فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا ہے،کمیٹی نے اپنےبیان میں یہ بھی کہاکہ دستاویزی اور ریکارڈ شدہ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ صہیونیوں نے حراست میں لیا گئے 65٪ سے زیادہ فلسطینی بچوں کو اس عرصے کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
فلسطینی قیدیوں کے امور کی نگراںکمیٹی نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ  اس وقت عوفر، مجدو اور متعدد دیگر صہیونی جیلوں میں 140 فلسطینی بچوں کو انتہائی بدترین حالات میں رکھا گیاہے۔
واضح رہے کہ ایک طرف صیہونی درندے مظلوم فلسطینیوں پر ہر طرح کے مظالم روا رکھے ہوئے ہیں یہاں کہ خواتین اور بچوں کو بھی گرفتار کرکے وحشیانہ تشدد تؤکا نشانہ بناتے ہیں  اور دوسری طرف اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری فقط خاموشی تماشائی بنی ہوئی ہے،بعد عرب ممالک کے حکمراں تو صیہونیوں کو اپنا چچازاد سمجھتے ہیں اور انھیں گلے لگانے کے دن رات کوششوں میں مصروف ہیں جن میں سعودی عرب، بحرین  اور متحدہ عرب امارات پیش پیش ہیں،متحدہ عرب امارات نے تو اپنے ملک  کو صیہونیوں کی تفریح گاہ بنا دیا ہے کہ جب وہ فلسطینی بچوں پر ظلم و تشدد کرکے تھک جائیں تو یہاں آکر آرام کر سکتے ہیں ،جہاں انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں نیز وہ کام جو وہ صیہونی ریاست کے اندر بھی نہیں کر سکتے ہیں متحدہ عرب امارات آکر کرتے ہیں جیسے منشیات کی اسمگلنگ کے متعدد کیس حال ہی میں سامنے آئے ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین