ولایت پورٹل:عالمی تحریک برائے دفاع فلسطین برانچ کے مطابق صرف 2021 میں غزہ کی پٹی پرہونےوالے اسرائیلی حملوں میں 77 فلسطینی بچے شہید اور 1149 گرفتار ہوئے ہیں،یہ وہ بچے ہیں جو اپنے والدین کے سامنے بے گناہ مارے جاتے ہیں۔
بیروت یونین پارٹی کے سیاسی وفد کے سربراہ خلیل محمد دیب فہیم نے کہاکہ صیہونی حکومت نے کئی دہائیوں سے فلسطینیوں کی مختلف نسلوں کے خلاف نفرت انگیز ڈھانچہ مسلط کر رکھا ہے جس کا پہلا مقصد بچوں کو دبانا اور مارنا ہےاس لیے کہ وہ ہماری قومیت، نسل، تہذیب کی آزادی اور سب کچھ چھیننا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ ورلڈ موومنٹ فار ڈیفنس آف چلڈرن کا کہنا ہے کہ ہر سال 500 سے 700 کے درمیان فلسطینی بچوں کو تشدد، مار پیٹ اور توہین کے الزام میں گرفتارکرکے قیدخانوں میں ڈالا جاتا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا جاتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ عالمی میڈیا کی تصاویر میں بارہا صہیونی ملیشیا کو فلسطینیوں کے گھروں پر چھاپے مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کا مقصد بچوں کو ڈرانا اور حراست میں لینا ہے، لبنان کے بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار محمد شمس نے بھی ان واقعات پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے رد عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اصل مسئلہ صیہونی حکومت کے لیے امریکہ اور مغرب کی حمایت ہے۔
انھوں نے کہا کہ گویا ان بچوں کا ٹرائل محض ایک اعدادوشمار ہے جس کا اعلان کیا جاتا ہے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، 2000 سے اب تک 2200 فلسطینی بچے شہید اور 15 سے 18 سال کی عمر کے 19 ہزار بچوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
صرف ایک سال میں صیہونیوں کےہاتھوں77 فلسطینی بچے شہید
بچوں کے دفاع کی عالمی تحریک نے اعلان کیا ہے کہ صرف 2021 میں غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کے حملوں میں 77 فلسطینی بچے شہیدجبکہ 1149 کو گرفتار کیا گیا ہے۔

wilayat.com/p/7028
متعلقہ مواد
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین