Code : 2934 28 Hit

مشکل حالات میں صدیقہ طاہرہ(س) اپنے بابا کی سب سے بڑی حامی: رہبر انقلاب

فاطمہ زہرا(س) ایک ماں کی مانند، ایک مشیر و صلاح کار کے مثل اور ایک پرستار کی شکل میں رسول(ص) کے ساتھ تھیں اسی وجہ سے رسول(ص) نے فرمایا: ’’فَاطِمَۃُ اُمُّ اَبِیْہَا‘‘ فاطمہ! اپنے باپ کی ماں ہیں۔ اس کا ربط اس زمانہ سے ہے یعنی جب ایک بیٹی چھ، سات سال کی تھی۔ البتہ خطۂ عرب اور گرم ماحول میں لڑکیاں جسمانی و روحانی لحاظ سے جلد بڑی ہوجاتی ہیں، مثلاً آج کل کی دس بارہ سالہ لڑکی کے برابر ہوجاتی ہیں، فاطمہ(س) کو ذمہ داری کا احساس ہے۔ کیا یہ احساس ذمہ داری ایک جوان، لڑکی،لڑکے کے لئے نمونہ نہیں بن سکتا کہ وہ خود سے متعلق مسائل کے بارے میں خود ذمہ داری کا احساس کرے؟ اور نشاط و فرحت کا جو عظیم سرمایہ اس کے وجود کے اندر ہے، اسے استعمال کرے اور تقریباً پچاس سالہ بوڑھے باپ کے چہرہ سے رنج و کدورت کا غبار صاف کرے، کیا یہ ایک جوان کے لئے نمونہ نہیں ہوسکتا؟ یہ بہت اہم بات ہے۔

ولایت پورٹل: جناب فاطمہ زہرا(س) چھ سات سال کی تھیں کہ شعب ابی طالب(ع) کا مسئلہ پیش آیا۔ آپ(س) کے سن کے بارے میں اختلاف ہے چونکہ آپ(س) کی تاریخ ولادت سے متعلق روایات مختلف ہیں۔ شعب ابی طالب(ع) کا واقعہ صدراسلام کی تاریخ میں سخت ترین زمانہ ہے یعنی جب رسول(ص) کی دعوت کا آغاز ہوا تھااور آپ(ص) نے کھلم کھلا تبلیغ شروع کی تھی، مکہ کے لوگ (خصوصاً جوان، غلام) آنحضرت(ص) کے گرویدہ ہورہے تھے اور شیطان کے ہتھکنڈوں (جیسے ابولہب و ابوجہل وغیرہ )کی سمجھ میں اس کے علاوہ کوئی تدبیر نہ آئی کہ رسول(ص) کو مع ان کے اصحاب اور اسلام لانے والوں کے شہر مکہ سے نکال دیں، چنانچہ انہوں نے یہی کیا۔ ان میں سے ایک اچھی خاصی تعداد کو کہ جس میں دسیوں خاندان تھے، رسول(ص) اور آپ کے عزیز خود ابوطالب(ع) (باوجودیکہ ابوطالب(ع) بھی بزرگوں میں سے ایک تھے) چھوٹے، بڑے اور بچوں کو مکہ سے نکال دیا، یہ لوگ مکہ سے باہر چلے گئے۔ لیکن کہاں جائیں؟ اتفاق سے مکہ سے نزدیک (مکہ سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر) ایک پہاڑ کے شگاف میں ابوطالب(ع) کی ایک زمین تھی، ایک چھوٹا سا درہ تھا۔ ہم اہل مشہد، ایسے شگاف کو ’’باز‘‘ کہتے ہیں، اتفاق سے یہ صحیح و دقیق اور خالص فارسی ہے کہ جس کو دیہاتی لہجہ میں ’’بَزَہ‘‘ کہتے ہیں لیکن اس کی اصل وہی ’’بازہ‘‘ ہے مختصر یہ کہ ابوطالب(ع) کا ایک بازہ یا ایک غار تھا، انہوں نے کہا وہیں چلاجائے۔ فی الحال آپ اس کے بارے میں سوچئے کہ مکہ میں دن میں سخت گرمی اور رات میں شدید سردی تھی یعنی حالات ناقابل برداشت تھے، ان لوگوں نے اسی جگہ تین سال گزارے، کتنی بھوک برداشت کی، کس قدر سختی سے دوچارہوئے اور کتنے امتحانوں سے گزرے خدا ہی جانتا ہے۔ رسول(ص) کے سخت ترین ادوار میں سے ایک زمانہ شدائد و مصائب کے ساتھ شعب ابی طالب تھا کہ اس عرصہ میں آپ(ص) کی ذمہ داری صرف قیادت و رہبری یعنی ایک گروہ کے اجتماعی معاملات کی نگہداری میں محدود نہیں تھی بلکہ رنج و محن اٹھانے والوں کے سامنے اپنے مقصد کا اور اپنے دین کا دفاع کرنا بھی تھا۔
آپ جانتے ہیں کہ جب حالات سازگار ہوتے ہیں تو جو ایک رہبر کے اطراف میں جمع ہوجاتے ہیں وہ حالات سے خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا ان کے ماں باپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کر، انہوں نے ہماری تقدیر بدل دی لیکن جب سختی ہوتی ہے تو سب شک میں پڑجاتے ہیں اور کہتے ہیں اس نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا، ہم یہ دن دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ البتہ قوی و مضبوط ایمان والے ڈٹے رہتے ہیں لیکن رسول(ص) کے دوش پر سختیوں کے بار میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ اسی اثنا میں، جب آپ(ص) شدید ذہنی دباؤ میں تھے، رسول(ص) کے حامی و مددگار حضرت ابوطالب(ع) اور آپ(ع) کے لئے باعث سکون سمجھی جانے والی خاتون حضرت خدیجہ(س) دونوں ایک ہفتہ میں دنیا سے اٹھ گئے، عجیب جانگداز واقعہ ہے، رسول(ص) بالکل تن تنہا رہ گئے۔
مجھے نہیں معلوم کہ آپ میں سے کوئی کبھی کسی جماعت یا چند افراد کا سربراہ رہا ہے کہ نہیں، کہ جس سے اسے معلوم ہوتا کہ قیادت ورہبری کیا ہوتی ہے، یقیناً ایسے حالات میں انسان بے چارہ ہوجاتا ہے، ایسے حالات میں آپ حضرات فاطمہ زہرا(س) کا کردار دیکھئے، جو شخص تاریخ پر نظر رکھتا ہے وہ اس کے گوشہ و کنار میں ایسے مواقع بھی ڈھونڈھ لیتا ہے مگر افسوس کہ (مورخین نے) ایسی چیزوں کے لئے کوئی فصل قائم نہیں کی ہے۔ فاطمہ زہرا(س) ایک ماں کی مانند، ایک مشیر و صلاح کار کے مثل اور ایک پرستار کی شکل میں رسول(ص) کے ساتھ تھیں اسی وجہ سے رسول(ص) نے فرمایا: ’’فَاطِمَۃُ اُمُّ اَبِیْہَا‘‘ فاطمہ! اپنے باپ کی ماں ہیں۔ اس کا ربط اس زمانہ سے ہے یعنی جب ایک بیٹی چھ، سات سال کی تھی۔ البتہ خطۂ عرب اور گرم ماحول میں لڑکیاں جسمانی و روحانی لحاظ سے جلد بڑی ہوجاتی ہیں، مثلاً آج کل کی دس بارہ سالہ لڑکی کے برابر ہوجاتی ہیں، فاطمہ(س) کو ذمہ داری کا احساس ہے۔ کیا یہ احساس ذمہ داری ایک جوان، لڑکی،لڑکے کے لئے نمونہ نہیں بن سکتا کہ وہ خود سے متعلق مسائل کے بارے میں خود ذمہ داری کا احساس کرے؟ اور نشاط و فرحت کا جو عظیم سرمایہ اس کے وجود کے اندر ہے، اسے استعمال کرے اور تقریباً پچاس سالہ بوڑھے باپ کے چہرہ سے رنج و کدورت کا غبار صاف کرے، کیا یہ ایک جوان کے لئے نمونہ نہیں ہوسکتا؟ یہ بہت اہم بات ہے۔


۲۷ اپریل سن ۱۹۹۸ء کے ایک خطاب سے اقتباس



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین