Code : 3805 5 Hit

ترکی میں جمال خاشقجی کے قتل کیس کی غائبانہ سماعت

ترکی کی ایک عدالت نے استنبول میں جمال خاشقجی کے وحشیانہ قتل میں ملوث 20 سعودی اہلکاروں کےخلاف مقدمے کی غائبانہ سماعت شروع کی ہے۔

ولایت پورٹل:فرانس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق  استنبول میں سعودی قونصل خانے میں بے دردی سے ہلاک ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے خلاف مقدمے کی غائبانہ سماعت ترکی کی ایک عدالت میں شروع ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق  جمعہ کو شروع ہونے والی اس غائبانہ سماعت میں ایک ترک عدالت نے اس کیس کے سلسلے میں 20 سعودی عہدیداروں یا شہریوں پر فرد جرم عائد کی ہے ۔
تاہم سعودی عرب نے ان افراد کو ترکی حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔
الجزیرہ چینل کی رپورٹ کے مطابق عدالت چونکہ سعودی حکومت نے ابھی تک ترکی کی جانب سے مدعا علیہان کوان کے حوالے کرنے کی درخواست پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے اس لیے عدالت غائبانہ طور پرمقدمے کی سماعت کرنے پر مجبور ہوئی ۔
واضح رہے کہ جمال خاشقجی کی اہلیہ خدیجہ چنگیز نے اس مقدمے کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے  امید ظاہر کی ہے کہ اس مقدمے میں خاشقجی کے قتل کے مزید پہلوؤں ، اس کے اسباب اور اس کے پیچھے موجود افراد اور وقعات کا انکشاف ہوگا۔
انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ عدالت ان کے جسم کے ٹکڑوں کو دفن کیے جانے کے مقام کی بھی  نشاندہی کرے گی۔
یادرہے کہ ترک استغاثہ کے دفتر نے مارچ کے شروع میں خاشقجی کے قتل کے الزام میں سعودی عرب کے نائب انٹلیجنس چیف احمد العسیری اور سعودی شاہی محل کے مشیر سعود القحطانی کے خلاف فرد جرم عائد کی تھی۔
قابل ذکر ہے کہاگرچہ سعود القحطانی کو مبینہ طور پر برطرف کردیا گیا ہے جبکہ بہت سارے تجزیہ کار سعودی صحافی کے قتل میں محمد بن سلمان کی شمولیت پر پردہ ڈالنے کے لئے ان کی معزولی کو سرورق  کے طور پردیکھ رہے ہیں۔
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین