یمن میں امریکہ داعش اور القاعدہ کے لباس میں ہم سے لڑ رہا ہے: محمد علی الحوثی

یمنی سپریم پولیٹیکل کونسل کے ممبر نے کہا کہ  انصاراللہ کو دہشت گرد قراردینے کےواشنگٹن کے اقدام کی اس  تحریک کے رہنماؤں کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں اس لیے کہ امریکہ آج بھی القاعدہ اور داعش کے ساتھ  ہم سے لڑ رہا ہے۔

 ولایت پورٹل:یمنی سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن محمد علی الحوثی نے کہا ہے کہ امریکہ یمنی عوام کا دشمن اور قاتل ہے،اسے اس قوم سے معافی مانگنی چاہئے اور اس کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا معاوضہ ادا کرنا چاہئے، انہوں نے سعودی عرب سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے نظام کو جمہوری سلطنت میں تبدیل کریں اور دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔
یمنی سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن نے روس ٹوڈے کے ساتھ ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ یمن کے انقلابی اور سیاسی رہنماؤں کے لئے امریکی درجہ بندی کوئی معنی نہیں رکھتی، ہمیں ان کی طرف سے کسی وضاحت کی پرواہ نہیں ہے کیونکہ یہ وضاحتیں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں  بلکہ سیاسی ہیں ، یہ اقدامات ، جیسا کہ ان کا کہنا ہے ، ہم پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہیں تا کہ ہم اس صلح کو قبول کرلیں جس کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے جب کہ ہم نے امن منصوبے پیش کیے لیکن انھیں قبول نہیں کیا گیا۔
الحوثی نے کہا کہ یہ ان لوگوں کی امریکی وضاحت ہے جو آج القاعدہ اور داعش کے مورچہ میں بیٹھ کر ہمارے ساتھ لڑ رہے ہیں،یہ وہی لوگ ہیں جو یمن میں ہم سے لڑنے کے لئے اپنے دو ہتھیاروں کی حیثیت سے القاعدہ اور داعش کی حمایت کرتے ہیں،یہ ایسی چیز ہے جو تمام لوگوں کے لئے واضح ہے، ان کی وضاحتیں ہمیشہ غلط رہی ہیں، فلسطینی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں جبکہ اسرائیلی یہودیوں کو دہشت گردوں کی درجہ بندی کرنے سے استثنیٰ حاصل ہے اور فلسطین میں مزاحمتی تحریکوں اور مجاہدین کو دہشت گرد سمجھا جاتا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین