Code : 3899 5 Hit

برطانیہ میں غلاموں کے تاجر کے مجسمے کی جگہ سیاہ فام معترض کا مجمسہ نصب

برطانیہ کے شہر برسٹل میں ایک غلام تاجر کے مجسمے جگہ پر نسل پرستی کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک سیاہ فام شخص کے مجسمے کو رکھا گیا ہے۔

ولایت پورٹل:روئٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابقبرطانیہ کے شہر برسٹل میں ایک غلام تاجر کے مجسمے جگہ پر نسل پرستی کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک سیاہ فام شخص کے مجسمے کو رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے شہر برسٹل میں ایک غلام تاجر کے مجسمے کو مظاہرین نے گرا دیا تھا،آج  اس کی جگہ ہوا میں مکا لہراتے ہوئےنسل پرستی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے ایک  سیاہ فام مظاہرین کا مجسمہ نصب کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 25 مئی کو امریکی  سفیدفام  پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کے بہیمانہ قتل کے خلاف پورے امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہواجو یورپی ممالک تک پھیل گیا جس کے نتیجہ میں حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور کچھ یوروپی ممالک میں نسل پرستی اور پولیس تشدد کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں غلامی اور نسل پرستی کی بہت سی علامتوں اور مجسموں کو گرا دیا گیا، اسی سلسلہ میں 17 ویں صدی میں مغربی افریقہ میں غلاموں کی تجارت میں رقم کمانے والے تاجر ایڈورڈ کلاسٹن کے مجسمے کو پہلے برطانیہ کے برسٹل میں نسل پرستی کےخلاف سڑکوں پر آنے والے مظاہرین نے گرادیا۔
یاد رہے کہ امریکہ ہو یا برطانیہ  یا کوئی اور مغربی ملک سب انسانی حقوق کی دہائی دیتے پھرتے ہیں لیکن جب ان کے اپنے قوانین  نظر ڈالی جائے تو صاف امتیاز نظر آتا ہے اور ایک ہی ملک میں دو نسلوں کے لیے الگ الگ قوانین دیکھنے کو ملتے ہیں ،سیاہ فام ہر مغربی ملک میں امتیازی سلوک کا شکار ہوتے ہیں، انھیں اس دور میں غلامی کی زندگی گذانا پڑتی ہے اگر چہ  اس وقت ان کی غلامی نے بھی  ماڈرن شکل اختیار کر لی ہے،اگر پولیس کسی سیاہ فام کو نا حق قتل بھی کر دیتی ہے تو کوئی پوچھنے والا نہیں لیکن اگر کوئی سیاہ فام کسی اور نسل کے فرد پر ہاتھ اٹھا لے تو اس کو طرح طرح کی غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین