Code : 2539 64 Hit

گھٹن کے ماحول میں امام حسن عسکری(ع) کی اہم کاوشیں

تاریخ گواہ ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کا زمانہ اتنا سخت بار تھا جس میں امام کے وکیل کھلے عام آکر آپ سے ملاقات بھی نہیں کرسکتے تھے چونکہ قدم قدم پر حکومت کے جاسوس بیٹھے رہتے تھے اس لئے امام عسکری علیہ السلام کے وکلاء کبھی تیل بیچنے والے ، کبھی سبزی بچنے والے تو کبھی کسی اور کاروباری کا حلیہ اختیار کرکے آپ تک پہونچتے اور آپ کو شیعوں کی ضرورتوں اور مشکلات بتلاتے اور جواب پاکر شیعوں کی رہنمائی کرتے تھے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے  کچھ روایات کے حساب سے 8 اور کچھ روایات کے اعتبار سے 10 ربیع الثانی سن 232 ہجری کو پیدا ہونے والے اپنے بیٹے کا نام پیغمبر اکرم(ص) کے بڑے نواسہ اور جنت کے سردار امام حسن علیہ السلام کے نام پر ’’حسن‘‘ رکھا اور آپ کی کنیت ابو محمد رکھی۔
امام حسن عسکری علیہ السلام نے سن 254 ہجری میں اپنے والد ماجد کی شہادت کے بعد محض 22 برس کی عمر میں منصب امامت کی عظیم ذمہ داری کو سنبھالا ، آپ  6 برس تک لوگوں کی ہدایت اور گھٹن کے ماحول میں ان کی رہنمائی کرتے رہے اور معتمد کی مکاریوں کے چلتے 8 ربیع  الاول سن 265 ہجری میں صرف 28 برس کی عمر میں آپ کو شہید کردیا گیا اور آپ کی قبر عراق کے سامرا نامی شہر میں ہے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنی با برکت زندگی اور اتنی کم سنی میں ہر طرح کی مشکلات، پریشانیاں اور سختیاں برداشت کی اور عباسی حکومت کی طرف سے آپ کی سخت نگرانی ہونے کے باوجود اسلام اور اس کی تعلیمات کو اس کی اصلی صورت میں باقی رکھا اور امت تک پہونچانے کا عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔
آپ نے دین اسلام کی خدمت کا جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا اور مخالفین کی تمام سازشوں کو کچلتے ہوئے اس گھٹن کے ماحول میں مکتب اہل بیت(ع) کو زندہ رکھا، آپ کی یہ تمام کاوشیں قابل صد تحسین ہیں لہذا ان میں سے کچھ اہم خدمات کا تذکرہ ہم ذیل میں بطور نمونہ کررہے ہیں:
1۔ اسلام اور شریعت کی حفاظت کرتے ہوئے اس پر شک و تردید کرنے والوں کو جواب دینا اور ان کے لئے اسلام کے صحیح افکار و نظریات کو پیش کرنا۔
2۔الگ الگ علاقوں میں رہنے والے اپنے شیعوں سے الگ الگ طرح کے روابط برقرار رکھنا اور اپنے وکیلوں اور کچھ مخصوص لوگوں کے ذریعہ ضرورت کے وقت ان تک اپنا پیغام پہونچانا۔
3۔ہر طرح کی سخت نگرانی اور حکومت کی دیکھ ریکھ کے باوجود سیاسی معاملوں پر نظر رکھنا اور وقت اور شیعوں کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے انہیں آنے والے خطرات اور ان سے بچنے کے طریقوں سے آگاہ کرنا۔
4۔ اپنے شیعوں کی خاص کر اپنے اصحاب کی اقتصادی اور مالی امداد کرنا۔
5۔سخت سیاسی ماحول و حالات میں شیعوں کی ہر ممکن مدد  سے دریغ نہ کرنا۔
6۔امامت کے انکار کرنے والوں کو غیب کی معلومات سے فائدہ حاصل کرتے ہوئے منھ توڑ جواب دیکر شیعوں میں نیا جوش اور نشاط پیدا کرنا، اور سب سے اہم شیعوں کو اپنے بیٹے کی غیبت کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنا۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کے ذریعہ یہ سب اہم کام اس وقت انجام پائے جب آخری امام علیہ السلام کی غیبت کا زمانہ شروع ہونے والا تھا، وقت کی نزاکت کو اور حالات کی نبض کو پرکھتے ہوئے امام علیہ السلام نے اپنے چاہنے والوں کو پیغام دیا کہ اب آپ سے براہ راست ملاقات کرنے کے بجائے آپ کے وکیلوں سے ملاقات کرکے اپنے سوال اور اپنے ضرورتیں امام علیہ السلام تک پہونچائیں تاکہ آہستہ آہستہ لوگوں کے دماغ میں وکالت کی اہمیت روشن ہوجائے۔
قارئین کرام! اس طرف بھی توجہ رہے جیسا کہ تاریخ گواہ ہے کہ  امام حسن عسکری علیہ السلام  کا زمانہ اتنا سخت بار تھا جس میں امام کے وکیل کھلے عام آکر آپ سے ملاقات بھی نہیں کرسکتے تھے چونکہ قدم قدم پر حکومت کے جاسوس بیٹھے رہتے تھے اس لئے امام عسکری علیہ السلام کے وکلاء کبھی تیل بیچنے والے ، کبھی سبزی بچنے والے تو کبھی کسی اور کاروباری کا حلیہ اختیار کرکے آپ تک پہونچتے اور آپ کو شیعوں کی ضرورتوں اور مشکلات بتلاتے اور جواب پاکر شیعوں کی رہنمائی کرتے تھے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम