Code : 2812 37 Hit

امام زین العابدین(ع) کا اخلاق

ابن حجرمکی لکھتے ہیں ،ایک شخص نے آپ کی برائی آپ کے منھ پرہی کی آپ نے اس سے بے توجہی برتی، اس نے مخاطب کرکے کہا،میں تم کوکہہ رہاہوں، آپ نے فرمایا، میں اللہ تعالیٰ کے اس حکم:”واعرض عن الجاہلین“میں جاہلوں کی بات کی پرواہ نہ کرو پرعمل کررہا ہوں۔

ولایت پورٹل: امام زین العابدین علیہ السلام چونکہ سرکار ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے بیٹے اور وارث تھے اس لئے آپ میں سیرت محمدیہ کاہونا ایک لازمی امر تھا علامہ محمدابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ کوبرابھلاکہا، آپ نے فرمایابھائی میں نے توتیرا کچھ نہیں بگاڑا،اگرکوئی حاجت رکھتاہے توبتاتاکہ میں پوری کروں ،وہ شرمندہ ہوکرآپ کے اخلاق کاکلمہ پڑھنے لگا۔(مطالب السؤل ص 267)
علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں ،ایک شخص نے آپ کی برائی آپ کے منھ پرہی کی آپ نے اس سے بے توجہی برتی، اس نے مخاطب کرکے کہا،میں تم کوکہہ رہاہوں، آپ نے فرمایا، میں اللہ تعالیٰ کے اس حکم:”واعرض عن الجاہلین“میں جاہلوں کی بات کی پرواہ نہ کرو پرعمل کررہاہوں۔(صواعق محرقہ ص 120)
علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے آکرکہاکہ فلاں شخص آپ کی برائی کررہاتھا آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کے پاس لے چلو، جب وہاں پہنچے تواس سےفرمایا بھائی جو بات تونے میرے لئے کہی ہے،اگرمیں نےایساکیاہوتوخدامجھے بخشے اوراگرنہیں کیاتوخداتجھے بخش دے کہ تونے مجھ پر بہتان لگایا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ مسجدسے نکل کرچلے توایک شخص آپ کوسخت الفاظ میں گالیاں دینے لگا آپ نے فرمایاکہ اگرکوئی حاجت رکھتے ہو تو میں پوری کردوں، ”اچھالے“ یہ پانچ ہزاردرہم ،وہ شرمندہ ہوگیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے آپ پربہتان باندھا،آپ نے فرمایامیرے اورجہنم کے درمیان ایک گھاٹی ہے،اگرمیں نے اسے طے کرلیاتوپرواہ نہیں جوجی چاہے کہواوراگراسے پارنہ کرسکاتومیں اس سے زیادہ برائی کامستحق ہوں جوتم نے کی ہے۔(نورالابصار ص 127 ۔ 126)
علامہ دمیری لکھتے ہیں کہ ایک شامی حضرت علی کوگالیاں دے رہاتھا،امام زین العابدین نے فرمایا بھائی تم مسافرمعلوم ہوتے ہو،اچھا میرے ساتھ چلو،میرے یہاں قیام کرو،اورجوحاجت رکھتے ہو بتاؤ تاکہ میں پوری کروں وہ شرمندہ ہوکرچلاگیا۔(حیواۃ الحیوان جلد 1 ص 121)۔ علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے بیان کیاکہ فلاں شخص آپ کوگمراہ اوربدعتی کہتاہے،آپ نے فرمایاافسوس ہے کہ تم نے اس کی ہمنشینی اوردوستی کاکوئی خیال نہ کیا، اورا سکی برائی مجھ سے بیان کردی،دیکھو یہ غیبت ہے ،اب ایساکبھی نہ کرنا۔(احتجاج ص 304)۔جب کوئی سائل آپ کے پاس آتاتھا توخوش ومسرورہوجاتے تھے اورفرماتے تھے خداتیرابھلاکرے کہ تومیرازاد راہ آخرت اٹھانے کے لئے آگیاہے۔(مطالب السؤل ص 263) امام زین العابدین علیہ السلام صحیفہ کاملہ میں فرماتے ہیں خداوندا! میراکوئی درجہ نہ بڑھا،مگریہ کہ اتناہی خودمیرے نزدیک مجھ کوگھٹا اورمیرے لئے کوئی ظاہری عزت نہ پیداکرمگریہ کہ خودمیرے نزدیک اتنی ہی باطنی لذت پیداکردے۔
امام زین العابدین (ع) اورفقراء مدینہ کی کفالت
علامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فقراء مدینہ کے سوگھروں کی کفالت فرماتے تھے اورساراسامان ان کے گھرپہنچایاکرتے تھے جنہیں آپ یہ بھی معلوم نہ ہونے دیتے تھے کہ یہ سامان خورد و نوش رات کوکون دے جاتاہے آپ کااصول یہ تھاکہ بوریاں پشت پرلادکر گھروں میں روٹی اورآٹا وغیرہ پہنچاتے تھے اوریہ سلسلہ تابحیات جاری رہا، بعض معززین کاکہناہے کہ ہم نے اہل مدینہ کویہ کہتے ہوئے سناہے کہ امام زین العابدین کی زندگی تک ہم خفیہ غذائی رسد سے محروم نہیں ہوئے۔ (مطالب السؤل ص 265 ،نورالابصار ص 126)
امام زین العابدین اورصحیفہ کاملہ
کتاب صحیفہ کاملہ آپ کی دعاؤں کامجموعہ ہے اس میں بے شمارعلوم وفنون کے جوہرموجود ہے یہ پہلی صدی کی تصنیف ہے۔(معالم العلماء ص ۱ طبع ایران)۔ اسے علماء اسلام نے زبورآل محمداورانجیل اہلبیت(ع) کہا ہے۔(ینابیع المودۃ،ص 499 ،فہرست کتب خانہ طہران ص 36)۔ اوراس کی فصاحت وبلاغت معانی کودیکھ کراسے کتب سماویہ اورصحف لوحیہ وعرشیہ کادرجہ دیاگیا ہے۔(ریاض السالکین ص ۱) اس کی چالیس شرحیں ہیں ان میں ریاض السالکین کو فوقیت حاصل ہے۔
امام زین العابدین عمربن عبدالعزیزکی نگاہ میں
86 ہجری میں عبدالملک بن مروان کی موت کے بعد اس کا بیٹا ولید بن عبدالملک خلیفہ بنایاگیایہ حجاج بن یوسف کی طرح نہایت ظالم وجابرتھا اسی کے عہدظلمت میں عمربن عبدالعزیزجوکہ ولید کا چچازاد بھائی تھا حجاز کا گورنر ہوا یہ بڑا منصف مزاج اورفیاض تھا ،اسی کے عہد گورنری کا ایک واقعہ یہ ہے کہ 87 ہجری میں سرورکائنات کے روضہ کی ایک دیوار گرگئی تھی جب اس کی مرمت کاسوال پیدا ہوا، اور اس کی ضرورت محسوس ہوئی کہ کسی مقدس ہستی کے ہاتھ سے اس کی ابتداء کی جائے تو عمربن عبدالعزیز نے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ہی کوسب پرترجیح دی۔(وفاء الوفاء جلد 1 ص 386)۔اسی نے فدک واپس کیا تھا اور امیرالمومنین(ع) پر سے سب و شتم کی وہ بدعت جو معاویہ نے جاری کی تھی، بندکرائی تھی۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम