Code : 4378 24 Hit

امام سجاد(ع) اور یزید کا دربار

امام سجاد(ع) نے یزید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ معاویہ اور ہندہ جگر خوارہ کے بیٹے ، تیرے اس دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے پیغمبری اور حکومت ہمارے گھرانے میں تھی ، بدر ،احد اور احزاب میں اللہ نے مسلمانوں کے لشکر کے پرچم کو ہمارے دادا کے ہاتھ میں دیا تھا ، اور تیرے باپ دادا کے ہاتھ میں کفر کا پرچم تھا ، پھر آپ نے فرمایا :یزید اگر تجھے تیرے کئے کا پتہ چل جاتا اور تو سمجھ جاتا کہ تونے میرے باپ بھائیوں ،بھتیجوں اور میرے خاندان کے ساتھ کیا کیا ہے تو تو پہاڑوں پر جاکر پناہ لیتا ، ریت پر سوتا اور فریاد کرتا اور گڑگڑاتا۔

ولایت پورٹل: کربلا میں امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد دین اور دینداروں کی ساری ذمہ داریاں امام سجاد(ع) پر تھیں اور آپ کے لئے یہ بہت ہی سخت اور دشوار مرحلہ تھا کہ ایک طرف باپ اور بھائیوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں اور دوسری طرف ماں بہنوں کے کھلے ہوئے سر ۔ ان حالات میں دین کے احکام اور کربلا و امام حسین(ع) کی قربانی کا مقصد بھی لوگوں کے سامنے ظاہر کرنا  تھا چنانچہ یہ ایسے حالات تھے کہ جن میں صرف امام معصوم ہی ثابت قدم رہ سکتا تھا ۔
یزید ابھی اپنی ظاہری فتح کے نشے میں مست تھا اور اپنے خیال خام میں اپنے کو کربلا کا فاتح سمجھ رہا تھا اسی وجہ سے تو اس نے حکم دیا تھا کہ اہل بیت(ع) کے گھرانے  کے قیدیوں کو دربار میں لاکر ان کی (معاذ اللہ ) توہین و تحقیر کی جائے۔چنانچہ اس نے سپاہیوں کو حکم دیا تھا کہ سارے قیدیوں کو رسیوں میں باندھ کر اس کے سامنے پیش کیا جائے اور چونکہ امام سجاد(ع) اس قافلہ کے سرپرست اور سربراہ تھے اس لئے آپ کو زنجیر و طوق میں جکڑ کر دربار میں لانے کا حکم دیا تھا ۔
جب اہل حرم (ع) کا یہ قافلہ دربار میں لایا گیا تو ان کے چہروں پر غم اور مظلومیت چھائی تھی اور پورا دربار غرور و تکبر میں ڈوبا ہوا تھا ، امام سجاد(ع) نے ایسے ماحول میں خاموش رہنا صحیح نہیں سمجھا اسی لئے جیسے ہی یزید کے منحوس چہرے پر آپ کی نظریں پڑیں تو فرمایا : یزید تجھے اللہ کی قسم ! سچ بتا کہ اگر پیغمبر اکرم(ص) یہاں موجود ہوتے اور ہم لوگوں کو اس حال میں دیکھ لیتے تو تیرے ساتھ کیا کرتے ؟ ۔(بحار الانوار ، ج۴۵، ص ۱۳۱ )
امام (ع) کے اس ایک جملے نے پورے دربار کی ذہنیت کو تبدیل کرکے رکھ دیا ۔ یزید کے دربار میں موجود شام کی یہ لوگ اسے رسول اللہ (ص) کا جانشین سمجھ کر عزت دے رہے تھے لیکن جیسے ہی انہوں نے امام (ع) کی زبان مبارک سے پیغمبر اکرم(ص) کا نام نامی سنا تو سب کی زبان پر یہی سوال تھا کہ کیا ان قیدیوں کی رشتہ داری رسول اللہ(ص) سے ہے ؟
اور اسی طرح امام (ع) کا یہ جملہ قصر ظالم پر ایک برق سوزاں بن کر گرا اور اس کی باطل و ناحق حکومت پر ایسا کاری حملہ کیا کہ بنی امیہ کی حکومت کی چولیں ہل کر رہ گئیں اور اسی ایک جملے سے یزید خود اپنے ہی دربار اور اپنے ہی جی حضور کرنے والوں کے درمیان میں رسوا و ذلیل ہوکر رہ گیا اور اس کے خوف کا عالم یہ تھا کہ اس نے یہ حکم دیدیا کہ امام(ع) کے ہاتھوں ، پیروں اور گردن سے زنجیر اور طوق کو اتار دیا جائے ۔
لیکن یزید حکومت اور تخت کے لالچ میں اتنا اندھا ہوچکا تھا کہ وہ پیغمبر (ص) کے گھرانے کی ہر طور تحقیر و رسوائی کرنے پر کمر بستہ تھا اور اس نے اپنے بغض اور حسد کو یہیں پر ختم نہیں کیا بلکہ دربار میں اپنے سامنے کربلا کے شہداء(ع) کے کٹے ہوئے سروں کو منگوایا جب سر لاکر رکھے گئے تو اس نے یہ شیر پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا : تلواروں نے ان سروں کو کاٹ دیا جن کا میں احترام کرتا تھا لیکن کیا کروں انہوں نے مجھ سے دشمنی اور نفرت میں بہت جلد بازی اور عجلت سے کام لیا ۔
امام سجاد(ع) نے یزید کے جواب میں فرمایا : یزید اس شعر کی جگہ قرآن مجید کی اس آیت کو سن جس میں اللہ تعالیٰ نے فرماتا ہے:’’ مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ ﴿٢٢﴾ لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ ۗ وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ ﴿٢٣﴾۔کوئی بھی مصیبت زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب (لوحِ محفوظ) میں لکھی ہوئی ہوتی ہے قبل اس کے کہ ہم ان (جانوں) کو پیدا کر دیں بیشک یہ بات اللہ کیلئے آسان ہے۔ اور (یہ سب اس لئے ہے) تاکہ جو چیز تم سے کھو جائے اس پر افسوس نہ کرو اور جو کچھ وہ (اللہ) تمہیں دے اس پر اِتراؤ نہیں کیونکہ اللہ ہر اِترانے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔(سورہ حدید آیت ۲۲ اور ۲۳ )
یزید نے جب امام (ع) کی زبان مبارک سے اس آیت اور آپ کے مقصد کو سنا تو وہ تلملا کر رہ گیا اور اس نے اپنی داڑھی کو ہاتھ میں لیکر امام (ع) کو مخاطب کرکے کہا کہ قرآن میں ایک اور آیت بھی ہے جو تمہارے اور تمہارے والد کے لئے زیادہ مناسب ہے اور پھر اس آیت کو پڑھا :’’ وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ‘‘۔اور تمہیں جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کئے ہوئے(کاموں) کی وجہ سے پہنچتی ہے اور وہ بہت سے(کاموں سے) درگزرکردیتا ہے۔(سورہ شوری : ۳۰)
اور پھر امام سجاد(ع) سے کہتا ہے کہ تمہارے باپ نے رشتہ داری کو ختم کرکے ہم سے منھ موڑ لیا اور حکومت کو حاصل کرنے کے لئے ہم سے مقابلے پر آکھڑے ہوگئے تھے۔ دیکھا اللہ نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟۔(تاریخ طبری ، ج۷، ص ۳۷۶ ، بلاذری ، ج۲، ص ۲۲۰ )
یزید یہ سوچ رہا تھا کہ امام سجاد(ع) اس بے حرمتی کو خاموش ہوکر برداشت کرلیں گے  اور اس کا پست کردار اور نجس وجود لوگوں پر واضح نہیں ہوگا لیکن امام(ع) اپنی جگہ سے اٹھ کر اسی کے سامنے جاکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا : یزید تو اپنے ذہن سے یہ نکال دے کہ تو ہمیں ذلیل کردے گا اور ہمیں بے عزت کرے گا اور ہم تیرے سامنے گڑگڑیائیں اور فریاد کریں گے ، تو ہمیں ستاتا رہے گا اور ہم خاموشی اختیار کئے رہیں گے اگرچہ تو ہمیں پسند نہیں کرتا ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں لیکن یہ بات یاد رکھنا کہ ہم تجھے اور تیرے کردار کو بالکل پسند نہیں کرتے ہیں ۔(بحار الانوار ، ج۴۵، ص ۱۷۵ )
امام(ع) کے اتنا کہنے پر یزید بھرے دربار میں ذلیل ہوچکا تھا اسی لئے امام (ع) سے کہتا ہے کہ تمہارے باپ ہم سے حکومت چھیننا چاہتے تھے اللہ کا شکر ہے کہ اس نے انہیں قتل کردیا اور پھر اپنے پچھلی بات کو دہراتے ہوئے کہتا ہے کہ تمہارے باپ نے رشتہ دای تک کا خیال نہ کیا اور ہم سے جنگ کی ۔
امام سجاد(ع) نے ایک بار پھر یزید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ معاویہ اور ہندہ جگر خوارہ کے بیٹے ، تیرے اس دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے پیغمبری اور حکومت ہمارے گھرانے میں تھی ، بدر ،احد اور احزاب میں اللہ نے مسلمانوں کے لشکر کے پرچم کو ہمارے دادا کے ہاتھ میں دیا تھا ، اور تیرے باپ دادا کے ہاتھ میں کفر کا پرچم تھا ، پھر آپ نے فرمایا :یزید اگر تجھے تیرے کئے کا پتہ چل جاتا اور تو سمجھ جاتا کہ تونے میرے باپ بھائیوں ،بھتیجوں اور میرے خاندان کے ساتھ کیا کیا ہے تو تو پہاڑوں پر جاکر پناہ لیتا ، ریت پر سوتا اور فریاد کرتا اور گڑگڑاتا۔( تاریخ ابن اثیر ، ج۲، ص ۸۶ )
یزید نے حالات بدلتے دیکھ دربار کے خطیب کو حکم دیا کہ منبر پر جاکر امام علی(ع) اور امام حسین(ع) کو بُرا بھلا کہے ، اس نے یزید کے حکم پر عمل کرتے ہوئے بُرا بھلا کہا ، امام سجاد(ع) نے درباری خطیب کی اس گستاخی کو دیکھتے ہوئے فرمایا :خدا تیرا ٹھکانا جہنم کو قرار دے ۔
پھر جب یزید کا خریدا ہوا خطیب اپنی بکواس کرچکا امام(ع) نے یزید سے کہا تیرا یہ خرید ہوا خطیب اپنی بات کہہ چکا ، اس کے دل میں جو آیا اس نے ہمارے بارے میں کہا اب ہمیں اجازت دے تاکہ ہم جاکر لوگوں سے  اپنی کچھ باتیں کہہ سکیں۔
پہلے تو یزید نے انکار کیا لیکن جب لوگوں کا اصرار بڑھا اور کچھ درباریوں  کو دیکھا تو مجبور ہوکر اسے اجازت دینی پڑی اور کہا جاؤ اور اپنے والد کے کاموں کی معافی مانگو !
امام سجاد(ع) خطبہ
امام سجاد(ع) نے اپنے خطبے کو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے آغاز کیا اور پرچم توحید کو یزید کے دربار میں بلند کرتے ہوئے فرمایا کہ جو مجھے جانتا ہے وہ جانتا ہے اور جو نہیں جانتا وہ مجھے پہچان لے میں اپنا تعارف کرواتا ہوں: میں مکہ کا بیٹا ہوں ، میں منٰی کا بیٹا ہوں ، میں زم زم کا بیٹا ہوں میں صفا کا بیٹا ہوں ، اسی طرح امام(ع) اپنے کو پہچنواتے رہے اور سارے دربار کے حاضرین غور سے آپ کے بیان کو سنتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: میں مصطفیٰ (ص) کا بیٹا ہوں ، میں علی(ع) کا بیٹا ہوں ، میں فاطمہ(س) کا بیٹا ہوں  ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔ ۔۔( مقاتل الطالبین، ج۲، ص ۱۲۱ ، احتجاج طبرسی ، ج۲، ص ۳۱۰ ، مقتل خوارزمی ج۲، ص ۶۹ )
امام (ع) نے اپنے بیان کو جاری رکھا یہاں تک کہ لوگوں کے رونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں ، یزید کی حکومت لرزنے لگی ، یزید حالات کو دیکھ کر بُری طرح گھبرا گیا اس لئے اس نے فوراً اذان دینے کا حکم دیا ۔
اذان دینے والے نے اذان دینا شروع کی امام(ع) نے بھی مؤذن کے ساتھ اذان کو دہرانا شروع کردیا جیسے ہی اس نے ’’اشھد انّ محمداً رسول اللہ‘‘ کہا امام (ع) نے یزید کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا کہ :یزید جس محمد(ص) کا نام اذان دینے والے نے ابھی لیا ہے اور ان کی رسالت کی گواہی دی ہے  یہ بتا یہ تیرے جد ہیں یا میرے  ۔ ۔ ۔  اگر تو یہ کہے کہ یہ میرے جد ہیں تو تو جھوٹا ہے اور اگر ان کو میرا جد مانتا ہے تو یہ بتا کہ کس جرم میں ان کے خاندان کو قتل کیا ۔(مقاتل الطالبین ، ج۲، ص ۱۲۱ ، احتجاج طبرسی ، ج۲، ص ۳۱۰ ، مقتل خوارزمی ج۲، ص ۶۹ )
امامت کے اصلی وارث نے یزید کو اسی کے دربار میں اسی کے بلائے ہوئے لوگوں کے درمیان ذلیل کرکے اپنی ذمہ داری کو نبھایا اور وہ یزید جس نے اپنے دربار کو پیغمبر اکرم(ص) کے گھرانے والوں کو (نعوذ باللہ) ذلیل کرنے اور اپنی واہ واہی کے لئے سجایا تھا اسی میں وہ ،اس کا پورا گھرانہ اور لاؤ لشکر ذلیل ہوکر رہ گیا۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین