Code : 1684 53 Hit

امام صادق(ع) اور تقویٰ کی تأکید

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خاموش ہوجاؤ! اللہ سے طلب مغفرت کرو! پھر اس کے بعد فرمایا: وہ مختصر عمل جو تقوا کے ساتھ ہو وہ اس عمل سے کہیں افضل و برتر ہے جو بغیر تقوا کے انجام دیا گیا ہو۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام ! مؤمن کی زندگی دو اہم عناصر سے تشکیل پاتی ہے جن میں پہلے کا نام ایمان اور دوسرے کا نام عمل صالح ہے۔اور یہ دونوں عناصر ایک دوسرے کو تکمیل کرنے والے ہیں ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی کے پاس ایمان ہو اور اس کا دامن عمل سے خالی ہو البتہ بربنائے نفاق ایسا تو دیکھنے میں آتا ہے کہ ظاہر میں عمل کی کثرت ہو اور ایمان سے ان کا جوہر قلب بالکل خالی ہو۔ چنانچہ ایسے ہی لوگوں کو منافق کہتے ہیں اور صدر اسلام سے آج تک ایک بڑی تعداد اس مرض میں مبتلا ہے ۔ جو مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں میں اسی طرح بلکہ پہلے سے بھی زیادہ مصروف ہیں۔
دوسری اہم بات جو روایات معصومین(ع) سے ثابت ہے وہ تقوا ہے تقویٰ عمل کی روح ہوتی ہے اور اگر کوئی محکم ایمان ،مستحکم تقوا کے ساتھ مختصر عمل بھی بجا لائے تو اس کا وزن کسی دنیاوی ترازو میں نہیں تولا جاسکتا اور بغیر تقوے کے انجام دیئے گئے کثیر اعمال سے کہیں زیادہ بہتر اور افضل ہوتا ہے۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے:’’عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ عُمَرَ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع فَذَکَرْنَا الْأَعْمَالَ فَقُلْتُ أَنَا مَا أَضْعَفَ عَمَلِی فَقَالَ مَهْ اسْتَغْفِرِ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ لِی إِنَّ قَلِیلَ الْعَمَلِ مَعَ التَّقْوَی خَیْرٌ مِنْ کَثِیرٍ بِلَا تَقْوَی قُلْتُ کَیْفَ یَکُونُ کَثِیرٌ بِلَا تَقْوَی قَالَ ع نَعَمْ مِثْلُ الرَّجُلِ یُطْعِمُ طَعَامَهُ وَ یَرْفُقُ جِیرَانَهُ وَ یُوَطِّیُ رَحْلَهُ فَإِذَا ارْتَفَعَ لَهُ الْبَابُ مِنَ الْحَرَامِ دَخَلَ فِیهِ فَهَذَا الْعَمَلُ بِلَا تَقْوَی وَ یَکُونُ الْ آخَرُ لَیْسَ عِنْدَهُ فَإِذَا ارْتَفَعَ لَهُ الْبَابُ مِنَ الْحَرَامِ لَمْ یَدْخُلْ فِیهِ (وسائل‌الشیعه جلد 15 صفحه 241)
امام جعفر صادق علیہ السلام کے مشہور و معروف صحابی جناب مفضل بن عمر کہتے ہیں کہ میں امام جعفرصادق علیہ السلام کی بارگاہ بیکس پناہ میں تھا چنانچہ درمیان گفتگو اعمال کے سلسلہ سے بات ہونے لگی لہذا میں نے عرض کی: افسوس! کہ میرے اعمال کتنے کم اور مختصر ہیں؟ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خاموش ہوجاؤ! اللہ سے طلب مغفرت کرو! پھر اس کے بعد فرمایا: وہ مختصر عمل جو تقوا کے ساتھ ہو وہ اس عمل سے کہیں افضل و برتر ہے جو بغیر تقوا کے انجام دیا گیا ہو۔
میں نے عرض کیا: مولا! پھر بغیر تقوا کے کثیر عمل کون سا ہے؟ حضرت نے فرمایا: ہاں! اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص جو لوگوں کو کھانا کھلاتا ہو،اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھتا ہو اور اس طرح وہ اپنی آخرت کے لئے توشہ راہ فراہم کرتا ہے لیکن جیسے ہی اسے حرام کا کوئی دروازہ کھلا ملتا ہے وہ اسی سے داخل ہوجاتا ہے یہی بغیر تقوا کے اعمال ہیں لیکن تقوا کے ساتھ مختصر عمل کی مثال اس آدمی کی ہے کہ جس کے پاس اتنے اعمال تو نہیں ہوتے لیکن جب اس کے سامنے کہیں حرام کا دروازہ کھلا ہوا نظر آتا ہے تو وہ کبھی اس میں داخل ہونے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔ بلکہ اس سے گریزکرتا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम