Code : 2448 143 Hit

امام صادق(ع) اور ظلم سے مقابلہ کی تعلیم

آپ(ع)نے امت کو واضح لفظوں میں بتا دیا تھا کہ دنیا کا ہر فساد اور ہر بغاوت ظلم کی پیداوار ہے۔ قحط، خشک سالی، بھوک، خوف، بلاء یہ سارے حادثات بندوں کے باہمی ظلم سے پیدا ہوتے ہیں۔

ولایت پورٹل: انسانی عقلوں کا متفقہ فیصلہ اور عقلائے عالم کا اجماعی مسلک ہے کہ ظلم ایک بدترین صفت اور عدل ایک بہترین خصلت ہے۔عدل خوبیوں کا سرچشمہ اور فضیلت کی پھڑکتی ہوئی نبض ہے۔
اسلام نے عدل کے قیام کے لئے بے پناہ اہتمام کیا ہے اور اس سلسلے میں کسی نقطہ کو فروگذاشت نہیں کیا ہے۔
امام صادق(ع) نے ظلم کی ممانعت، ظالمین کی اعانت سے انکار اور ان سے دوری پر شدت سے زور دیا ہے اور اس طرح ہر امکانی کوشش کی ہے کہ لوگوں کے قطع تعلق سے ظلم کی بنیادیں منہدم ہوجائیں اور عدل کا نظام برسراقتدار آجائے۔
امام عادل امیرالمؤمنین(ع) کا ارشاد تھا:’’کانٹوں پر لیٹ کر رات بسر کرلینا اور زنجیروں میں جکڑ کر کھینچا جانا ظالم ہونے سے کہیں زیادہ بہتر ہے‘‘۔
’’اگر مجھے ساتوں اقلیم کا بادشاہ بنا دیا جائے اور یہ مطالبہ ہو کہ ایک چیونٹی پر ظلم کرکے اس کے منہ سے دانۂ جو چھین لوں تو یہ میرے بس سے باہر ہے‘‘۔
اہلبیت(ع) کا یہی مشن تھا جو ظالمین کی نظروں میں کھٹک رہا تھا اور وہ ہر وقت ان حضرات کے درپئے آزار رہتے تھے۔تلواریں کھنچی رہیں لیکن یہ حضرات ظالمین کی طرف نہ کھنچ سکے۔
قرآن پر عمل اور ظالموں سے ترک تعلق ان کا شعار رہا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ امت کی آبرو محفوظ رہے اور اس کی عزت کو ٹھیس نہ لگنے پائے۔ چنانچہ صفوان کہتے ہیں کہ میں امام موسیٰ کاظم(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ(ع)نے فرمایا کہ تمہاری تمام باتیں ٹھیک ہیں لیکن ایک بات...میں  نے گھبرا کر عرض کی کہ حضور! میری جان قربان۔ وہ کیا ہے؟
فرمایا تم ہارون کو اونٹ کرایہ پر دیتے ہو۔
میں نے عرض کی کہ حضور !کسی غلط کام کے لئے نہیں دیتا ہوں۔ صرف مکہ کے سفر کے لئے دیتا ہوں۔ وہ بھی خود نہیں جاتا بلکہ غلاموں کو بھیج دیتا ہوں۔
آپ(ع) نے فرمایا کہ بہرحال تمہاری یہ خواہش تو ضرور ہوتی ہے کہ یہ زندہ و سلامت واپس آجائے تاکہ مجھے کرایہ مل جائے۔عرض کی حضور! یہ تو بہرحال ہوتا ہے۔
فرمایا جو ان کی بقا کا خواہش مند ہوتا ہے وہ انھیں میں سے ہوتا ہےاور جو ان میں سے ہوتا ہے وہ جہنمی ہوتا ہے۔میں نے فوراً سارے اونٹ بیچ ڈالے تاکہ اس مصیبت سے نجات ہی مل جائے۔
یہ تھا امام صادق(ع) کا جہاد، ظلم کی مخالفت اور اس کے عیوب کے اعلان کے سلسلے میں۔آپ(ع)نے امت کو واضح لفظوں میں بتا دیا تھا کہ دنیا کا ہر فساد اور ہر بغاوت ظلم کی پیداوار ہے۔    قحط، خشک سالی، بھوک، خوف، بلاء یہ سارے حادثات بندوں کے باہمی ظلم سے پیدا ہوتے ہیں۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम