Code : 2374 117 Hit

امام رضا(ع) اور قرآن مجید

امام رضا علیہ السلام ہمیشہ امت کو قرآن مجید اور اس حبل الہی کو مضبوطی سے پکڑنے کی تأکید فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ آپ اپنے اصحاب اور چاہنے والوں سے قرآن مجید کے متعلق ارشاد فرماتے تھے:’’ کلام الله لا تجاوزه و لا تطلبوا الهدی فی غیره فتضلّوا‘‘۔ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اس کے حدود سے کبھی تجاوز نہ کرو اور قرآن کے علاوہ کسی چیز سے ہدایت کا مطالبہ نہ کرو چونکہ اس صورت میں تم گمراہ ہوجاؤگے۔

ولایت پورٹل: قرآن مجید آسمانی، وحی منزل،کلام خدا اور مؤمنین کے کے لئے رہنما کتاب ہے یہ کتاب اس قدر با عظمت ہے کہ آخری پیغمبر(ص) کے قلب مبارک پر اسے بصورت وحی نازل کیا گیا اور آپ کے بعد آپ کے اہل بیت(ع) کہ جو اس کے عدل اور ہم پلہ ہیں اس کی تفسیر و تبین کے عہدے و منصب پر فائز ہوئے چنانچہ امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام انہیں مفسرین میں سے ایک ہیں آپ کی پوری زندگی اور ہر ہر لمحہ قرآن مجید کی عملی تصویر تھا چنانچہ ہم اس مقالہ میں ان موارد کو پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں جن کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوگی کہ امام علیہ السلام کی زندگی میں قرآن مجید کا کتنا عمل دخل تھا۔
امام رضا علیہ السلام کی زندگی میں قرآن مجید کے جلوے
امام رضا علیہ السلام کا قرآن مجید سے اتنا شدید لگاؤ اور عشق تھا کہ آپ کی انفرادی زندگی کا اگر آپ مطالعہ کیجئے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ ہر ہر لمحہ قرآن مجید کی معیت کا عملی ثبوت ہے ،جہاں آپ کا عمل قرآن مجید کی عملی تصویر و تفسیر تھی وہیں آپ کے اکثر اوقات  قرآن مجید کی تلاوت میں صرف ہوتے تھے یہی وجہ تھی کہ آپ 3 دن میں پورا قرآن مجید ختم کرلتے تھے۔
چنانچہ ابو ذکوان قرآن مجید سے امام رضا علیہ السلام کے حددرجہ عشق کی اس طرح منظر کشی کرتے ہیں کہ:’’ حضرت رضا علیہ السلام 3 دن میں ایک بار پورے قرآن مجید کی تلاوت کرلیتے اور فرماتے تھے  کہ اگرچہ میں 3 دن سے پہلے ہی مکمل قرآن مجید کو تلاوت کرسکتا تھا لیکن میں نے ایسا نہیں کیا چونکہ جب میں تلاوت کے دوران جس آیت پر بھی پہونچتا ہوں میں اس میں تدبر، غور و فکر کرتا ہوں کہ یہ آیت کس کے بارے میں کہاں اور کس وقت نازل ہوئی؟ اسی وجہ سے  میں 3 دن کی مدت میں پورا قرآن تلاوت کرتا ہوں‘‘۔(1)
سوتے وقت قرآن کی تلاوت
امام رضا علیہ السلام کو قرآن مجید سے اس درجہ عشق تھا اور صرف یہی نہیں کہ آپ بیداری کے عالم میں قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتے تھے بلکہ آپ سوتے وقت اور بستر پر آرام کرتے کرتے بھی بہت سی آیات کی تلاوت فرمایا کرتے تھے چنانچہ رجاء بن ابی ضحاک امام علیہ السلام کے بارے میں بیان کرتے ہیں: امام رضا علیہ السلام سوتے وقت بستر میں بہت زیادہ قرآن پڑھا کرتے تھے اور جب کسی ایسی آیت پر پہونچتے تھے جس میں جنت یا جہنم کا تذکرہ ہوتا تھا تو بے ساختہ آپ کے آنسو بہنے لگ جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے جنت میں داخلے اور عذاب جہنم سے اس کی پناہ طلب کیا کرتے تھے‘‘۔(2)
ایک پیراہن میں ایک ہزار قرآن ختم کرنا
شیخ طوسی علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب امالی میں علی ابن علی(دعبل خزاعی کے بھتیجے) سے نقل کیا ہے کہ سن 198 ہجری میں میرے بابا میرے چچا کے ہمراہ امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوئے اور سن 200 ہجری تک مولا کے ساتھ رہے اور اس کے بعد قم چلے گئے، سفر پر جانے سے پہلے آپ نے دعبل کو ایک سبز رنگ کا پیراہن دیا ، ایک عقیق کی انگوٹھی اور ساتھ ہی کچھ وہ درہم بھی عنایت فرمائے جن پر حضرت کا نام کندہ تھا۔ آپ نے فرمایا اے دعبل! قم چلے جاؤ! کیونکہ وہاں تمہیں بہت زیادہ فائدہ ہوگا اور ان سے یہ بھی فرمایا:اس پیراہن کی اچھی طرح حفاظت کرنا کہ میں نے اس پیراہن کو ایک ہزار راتیں اور ہر شب ایک ہزار رکعت نماز اور اس میں ہزار قرآن ختم کئے ہیں‘‘۔(3)
نماز میں مختلف سوروں کی تلاوت
امام رضا علیہ السلام اپنی واجب اور مستحب نمازوں میں رات دن میں متعدد و مختلف سوروں کی تلاوت فرماتے تھے چنانچہ رجاء بن ضحاک کہ جو مدینہ سے خراسان کے سفر میں امام کے ساتھ ساتھ تھے اس طرح بیان کرتے ہیں کہ امام علیہ السلام اپنے پورے سفر کے دوران ظہر کی واجب نماز کے ساتھ ساتھ 6 رکعت مستحبی بھی پڑھتے تھے اور سورہ حمد کے بعد سورہ قل یا ایھا الکافرون اور قل ھو اللہ احد پڑھتے تھے اور وہ دو رکعت نماز جو نماز جعفر طیار کے بعد پڑھتے تھے سورہ ملک اور سورہ دھر تلاوت کرتے تھے۔اور اپنی واجب نمازوں میں سورہ انا انزلنا اور سورہ جمعہ و منافقین وغیرہ پڑھتے تھے‘‘۔(4)
امام(ع) کی اجتماعی زندگی اور قرآن مجید
تمام مسلمانوں کے درمیان قرآن مجید کا مرتبہ اتنا بلند و بالا ہے کہ کوئی بھی اس کی اہمیت کا انکار نہیں کرسکتا اب انسان خود اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ ذات کہ جو حافظ،محافظ اور حامی کتاب خدا ہو اس کا تواضع قرآن مجید کے ساتھ کیسا ہوگا لہذا امام علیہ السلام جس طرح اپنی انفرادی زندگی میں قرآن مجید سے لگاؤ رکھتے تھے اسی طرح آپ اجتماعی زندگی میں بھی کسی لمحہ قرآن مجید سے غافل نہ ہوتے تھے اور ہمیشہ امت کو قرآن مجید اور اس حبل الہی کو مضبوطی سے پکڑنے کی تأکید فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ آپ اپنے اصحاب اور چاہنے والوں سے قرآن مجید کے متعلق ارشاد فرماتے تھے:’’ کلام الله لا تجاوزه و لا تطلبوا الهدی فی غیره فتضلّوا‘‘۔ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اس کے حدود سے کبھی تجاوز نہ کرو اور قرآن کے علاوہ کسی چیز سے ہدایت کا مطالبہ نہ کرو چونکہ اس صورت میں تم گمراہ ہوجاؤگے۔(5)
قرآن مجید سے خوف خدا کا سبق
امام رضا علیہ السلام قرآن مجید کی تعلیمات اور الہی فرامین کے آئینہ میں اپنے چاہنے اور ماننے والوں کو اخلاقیات کا سبق قرآن مجید سے یاد کرنے کی تأکید فرماتے تھے۔
چنانچہ شیخ صدوق اپنی سند کے ساتھ کتاب عیون اخبار الرضا(ع) میں یاسر خادم سے نقل کیا ہے کہ:’’ جب خراسان میں امام مقیم تھے آپ نے اپنے بھائی زید بن موسیٰ کہ جس نے مدینہ میں کچھ لوگوں کے گھروں کو ناحق جلا دیا تھا جب آپ تک اس کے اس قبیح عمل کی اطلاع پہونچی تو آپ نے اس سے برأت کا اظہار کیا اور اسے ’’زید النار‘‘ کے نام سے یاد کیا۔
مأمون نے زید کو گرفتار کروا کے امام رضا علیہ السلام کے پاس روانہ کردیا۔
یاسر کہتے ہیں: جب زید کو امام کی خدمت میں لایا گیا آپ نے فرمایا: اے زید! کیا کوفہ کے کچھ اوباشوں نے تجھے دھوکہ دے دیا ہے کہ تو فاطمہ زہرا(س) کی ذریت ہے تو تجھ پر دوزخ کی آگ حرام ہوگی۔
جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ فاطمہ(س) نے اپنے کو گناہوں سے بچایا تو اللہ نے ان کی ذریت پر دوزخ کی آگ کو حرام کیا
تم یہ تصور نہ کرو کہ یہ معیار تم پر بھی صادق آئے گا بلکہ یہ امام حسن و حسین(ع) کے لئے تھا پس اگر تم یہ دیکھو کہ تمہارے بابا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے پوری زندگی اللہ کی اطاعت کی وہ بھی جنت میں جائیں اور تم معصیت کررہے ہو پھر بھی تم جنت میں جاؤ تو تم بتاؤ اللہ کے نزدیک کس کا مرتبہ زیادہ ہے؟
یاد رکھو! کہ اللہ کے نزدیک وہ شخص سب سے قریب ہے جو اس کی اطاعت کرے اور اپنے کو گناہوں سے محفوظ رکھے اور اگر تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم معصیت کرکے بھی جنت چلے جاؤگے تو یہ تمہارا گمان باطل ہے۔
زید نے کہا: میں آپ کا بھائی اور آپ کے باپ کا بیٹا ہوں؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: تم اس وقت تک میرے بھائی ہو جب تک تم خدا کی اطاعت کرتے ہو جان لو کہ نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے لئے فرمایا:’’رب إن ابنی من أهلی و إنّ وعدک الحق و أنت أحکم الحاکمین، فقال الله عزّوجلّ، یا نوح إنه لیس من اهلک إنه عمل غیر صالح‘‘۔(6)
پروردگارا! یہ میرا بیٹا میرے خاندان سے ہے اور میرے خاندان کے سلسلہ میں نجات کا تیرا وعدہ ہے۔(تیرا وعدہ حق ہے)اللہ تعالٰی نے فرمایا: اے نوح وہ تیرے اہل سے نہیں ہے وہ عمل غیر صالح ہے۔
پس اللہ نے نوح کے بیٹے کو گناہ و معصیت کی بنیاد پر نوح کے خاندان باہر کردیا۔
تو تم یہ کیسے گمان کررہے ہو کہ تم گناہ بھی کرتے رہو اور اللہ تمہیں ذریت فاطمہ(س) ہونے کی بنیاد پر جہنم میں بھی نہ بھیجے؟۔(7)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔امالی صدوق، ص 660؛ بحارالانوار، ج 49،ص90۔
2۔عیون اخبار الرضا، ج 2، ص 182؛ بحارالانوار، ج 49، ص 94۔
3۔امالی شیخ طوسی، ص 359؛ بحارالانوار، ج 49، ص 238۔
4۔بحارالانوار، ج 49، ص 94۔
5۔ امالی صدوق، ص 660؛ بحارالانوار، ج 49،ص90۔
6۔هود : 44۔
7۔عیون اخبارالرضا، ج 2، ص 234۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम