Code : 1075 42 Hit

امام موسٰی کاظم علیہ السلام

امام موسی کاظم علیہ السلام نے مختلف حکام کے دور میں زندگی بسر کی۔ آپ کا دور، حالات کے اعتبار سے نہایت مصائب اور شدید مشکلات اور گھٹن سے بھرا ہوا دور تھا۔ ہر آنے والے بادشاہ کی امام پرسخت نظر تھی لیکن یہ آپ کا کمال امامت تھا کہ آپ شدید مصائب مشکلات کے دورمیں قدم قدم پر لوگوں کو درس علم و ہدایت عطا فرماتے رہے۔ اتنے نامناسب حالات میں آپ نے اس یونیورسٹی کی اچھی طرح پاسداری اور حفاظت فرمائی جو آپ کے پدر بزرگوار کی قائم کردہ تھی، آپ کا مقصد امت کی ہدایت اورنشرعلوم آل محمد(ص) تھا جس کی آپ نے قدم قدم پر ترویج کی اور حکومت وقت توبہرحال امامت کی محتاج ہے۔

ولایت پورٹل: ساتویں امام کے دو مشهور لقب’’کاظم‘‘ اور’’باب الحوائج‘‘ تھے۔ آپ کی ولادت باسعادت ۱۲۸ہجری قمری میں مقام ’’ابواء‘‘(مدینہ کے قریب ایک مقام) پر ہوئی۔ آپ کی زندگی بنی عباس سلطنت کے زیر اثر مشکلات سے دوچار رہی ہے۔
جب حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے منصب امامت سنبھالا اس وقت عباسی خلیفہ منصوردوانقی بادشاہ تھا یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں بے شمار سادات مظالم کا نشانہ بن چکے تھے سادات زندہ دیواروں میں چنوائے گئے یا قید کردیئے گئے تھے۔
آپ کی شہادت 25 رجب سنہ 183 ہجری قمری میں ہوئی، آپ نے بیس سال اپنے والد ماجد حضرت امام صادق (ع) کے ساتھ گزارے اور امام صادق (ع) کی شہادت کے بعد 35 سال تک مسلمانوں کی امامت و ہدایت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
امام موسی کاظم علیہ السلام نے مختلف حکام کے دور میں زندگی بسر کی۔ آپ کا دور، حالات کے اعتبار سے نہایت مصائب اور شدید مشکلات اور گھٹن سے بھرا ہوا دور تھا۔ ہر آنے والے بادشاہ کی امام پرسخت نظر تھی لیکن یہ آپ کا کمال امامت تھا کہ آپ شدید مصائب مشکلات کے دورمیں قدم قدم پر لوگوں کو درس علم و ہدایت عطا فرماتے رہے۔ اتنے نامناسب حالات میں آپ نے اس یونیورسٹی کی اچھی طرح پاسداری اور حفاظت فرمائی جو آپ کے پدر بزرگوار کی قائم کردہ تھی، آپ کا مقصد امت کی ہدایت اورنشرعلوم آل محمد(ص) تھا جس کی آپ نے قدم قدم پر ترویج کی اور حکومت وقت توبہرحال امامت کی محتاج ہے۔
امام موسی کاظم و مسئلہ تحریم شراب
تاریخ میں بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ مہدی جو اپنے زمانے کا حاکم تھا مدینہ آیا اور امام مو سیٰ کاظم سے مسئلہ تحریم شراب پر بحث کرنے لگا وہ اپنے ذہن ناقص میں یہ خیال کرتا تھا کہ معاذ اللہ اس طرح امام کی رسوائی کی جائے لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ وارث باب مدینۃ العلم ہیں۔
چنانچہ امام سے سوال کرتا ہے کہ آپ حرمت شراب کی قرآن سے دلیل پیش کریں؟
امام نے فرمایا:’’خداوند متعال سورۂ اعراف میں فرماتا ہے اے حبیب کہہ دیجئے کہ میرے خدا نے کار بد کو اثم و عدوان قرار دیا ہے چاہے کار بد  ظاہرہو یا مخفی ، اور یہاں پر اثم سے مراد شراب ہے‘‘۔  امام یہ کہہ کر خاموش نہیں ہوتے ہیں بلکہ فرماتے ہیں خداوند عالم سورۂ بقرہ میں بھی فرماتا ہے:’’ اے میرے حبیب، لوگ تم سے شراب اور جوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دو کہ یہ دونوں گناہ عظیم ہیں‘‘۔  اسی سبب شراب کو قرآن مجید میں واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔
مہدی، امام علیہ السلام کے اس عالمانہ جواب سے بہت متأثر ہوا اور بے اختیارکہنے لگا ایسا عالمانہ جواب سوائے خاندان عصمت و طہارت کے کوئی نہیں دے سکتا۔ یہی سبب تھا کہ لوگوں کے دلوں پر امام کی دھاک بیٹھ گئی۔
امام کا فرزند رسول(ص) ہونا
ہارون الرشید کے حوالے سے ملتا ہے کہ ایک مرتبہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی قبر مقدس کے پاس پر کھڑ ے ہو کر کہتا ہے اے خدا کے رسول! آپ پر سلام،  اے میرے چچازاد بھائی آپ پر سلام!  وہ یہ چاہتا تھا کہ میرے اس عمل سے لوگ یہ جان لیں کہ خلیفہ وقت سرور کائنات(ص)کا چچازاد بھائی ہے۔ اسی وقت امام موسی کاظم علیہ السلام  قبر پیغمبراسلام (ص)  کے نزدیک آئے اورفرمایا: اے اللہ کے رسول! آپ پرسلام! اے پدر بزرگوار! آپ پرسلام! ہارون امام کے اس عمل سے بہت ناراض ہوا۔  فوراً امام (ع) کی طرف رخ کر کے کہتا ہے آپ فرزند رسول ہونے کا دعوی کیسے کرسکتے ہیں ؟ جب کہ آپ علی مرتضیٰ کے فرزند ہیں۔ امام نے فرمایا تو نے قرآن کریم میں سورۂ انعام کی آیت نہیں پڑھی جس میں خدا فرماتا ہے:’’قبیلۂ ابراہیم سے داۆد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ، ہارون، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ، اور الیاس یہ سب کے سب ہمارے نیک اور صالح بندے تھے ہم نے ان کی ہدایت کی۔  اس آیت میں اللہ نے حضرت عیسیٰ کو گزشتہ انبیاء کا فرزند قرار دیا ہے۔حالانکہ عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔اس آیت کی روشنی میں بیٹی کا بیٹا فرزند ہوتا ہے۔اس دلیل سے میں اپنی ماں فاطمہ زہرا(س)  کی جانب سے فرزند رسول خدا(ص) ہوں۔ اس کے بعد امام فرماتے ہیں کہ اے ہارون! یہ بتا کہ اگر اس وقت پیغمبر اسلام(ص) آجائیں اور تیری بیٹی کا ہاتھ مانگیں تو کیا اپنی بیٹی پیغمبر کی زوجیت میں دے گا یا نہیں؟ ہارون فوراً کہتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ میں اپنی بیٹی کو پیغمبر اکرم(ص) کی زوجیت میں دوں گا بلکہ اس رشتہ  اور تعلق پرتمام عرب و عجم پر فخر کروں گا۔ امام فرماتے ہیں کہ تو اس رشتے پر ساری دنیا میں فخر کرے گا لیکن پیغمبر(ص) ہماری بیٹی کے بارے میں یہ سوال نہیں کر سکتے اس لئے کہ ہماری بیٹیاں پیغمبر کی بیٹیاں ہیں اور باپ پر بیٹی حرام ہے۔  امام کے اس استدلال سے حاکم وقت شرمندہ ہو گیا۔ دشمنان اسلام امام موسی کاظم (ع) کے علم اور آپ کی خدمات سے بہت خوفزدہ تھے اسی لئے خلیفہ وقت ہارون الرشید نے قید خانہ میں زہر دغا سے شہید کرا دیا۔
آپ کا روضہ مبارک  عراق کے مقدس شہرکاظمین میں واقع ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع:
سیمای پیشوایان در آئینہ تاریخ، مھدی پیشوایی۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम