Code : 1514 63 Hit

امام خمینیؒ اور ان کی وراثت

وہ مرد کامل جس نے کسی ایک سرزمین کی تاریخ زندگی کی راہ کو ہی نہیں بلکہ مسلمین و مستضعفین کی تاریخ زندگی کی راہ کو الٰہی سمت کی طرف موڑ دیا اور خمینیؒ کے افتخار آمیز نام کو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ثبت کردیا۔

ولایت پورٹل: یہ وہ داستان غم ہے جس کو الفاظ کے قالب میں پیش نہیں کیا جاسکتا اور دل کی بات کو کسی عبارت میں نہیں بیان کیا جاسکتا۔ یہ ایسا وقت ہے کہ اب قلم و زبان میں لکھنے کا یارا یا دردِ دل بیان کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہ گئی ہے اور حق مطلب کی ادائیگی کے لئے الفاظ و محاوروں کا دامن تنگ نظر آتا ہے۔ اس وقت دل میں جذبات کا ایک سیلاب امنڈ رہا ہے لیکن یہ جذبات دل ہی دل میں رہ جاتے ہیں اور ان کے اظہار سے زبان عاجز ہے۔ جی ہاں! یہ مختلف رنگ و نسل اور زبان و قومیت پر مشتمل اس امت اسلامیہ کے ناقابل یقین عشق کی داستان ہے جو اپنے قائد و مقتدا کے وجود سے محروم ہوچکی ہے۔
جی ہاں! اس قائد عظیم الشان اور اسوۂ ایمان و عشق و استقامت کی المناک ہجرت ابدی کے بعد ایک سال کا عرصہ گزرچکا ہے لیکن پھر بھی یقین نہیں آتا کیوںکہ عصرحاضر کے اس مرد کامل کے لئے موت تو حیات جاوید کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ مرد کامل جس نے کسی ایک سرزمین کی تاریخ زندگی کی راہ کو ہی نہیں بلکہ مسلمین و مستضعفین کی تاریخ زندگی کی راہ کو الٰہی سمت کی طرف موڑ دیا اور خمینیؒ کے افتخار آمیز نام کو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ثبت کردیا۔ وہ عظیم شخصیت جس نے امت اسلامیہ کے مرجھائے ہوئے جسم میں طاقت و ثبات قدم، وحدت و اتحاد اور خود اعتمادی کی روح پھونک دی اور اپنے مسیحائی اعجاز سے دنیا والوں کو فخروسربلندی، عزت و غیرت اور حریت و آزادی کی دولت سے مالامال کردیا اور ایثار و قربانی اور عشق و ایمان کی ثقافت کو عوام الناس کے درمیان رائج کردیا اور ان کی قیادت کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر سنبھال لی ان کا وجود یقیناً ایک نعمت الٰہی تھا اور ان کی جدائی رنج و غم کا ایک بھاری بوجھ ہے۔ آج ہم نے اس مرد مجاہد کے غم میں ماتمی لباس پہن رکھا ہے اور ہماری آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ صدی کی تاریخ میں ایسے قائد عظیم الشان کا سراغ نہیں ملتا ہے۔ ایسا قائد جس کی حمایت میں لاکھوں لوگ ایک آواز میں یہ فریاد کیا کرتے تھے:’’اے عصر حاضر کے محبوب ترین قائد خمینیؒ! آپ کی ایک لمحہ کی زندگی پر ہماری پوری زندگی قربان ہوجائے‘‘۔
صدر اسلام کے بعد تاریخ کے صفحات میں ایسے کسی رہنما کا ذکر نہیں ملتا ہے جس کو خود اس کی زندگی میں اتنی مقبولیت حاصل رہی ہو اور جو اپنی امت والوں کے لئے اس قدر محبوب رہا ہو۔ صدر اسلام کے بعد تاریخ میں کسی یسے انقلابی رہنما کا ذکر نہیں ملتا جس نے عالمی افکار کو اپنی اور اپنے الٰہی انقلاب کی طرف اس حد تک مائل و متوجہ کیا ہو۔ دنیا میں ایسا کوئی انقلاب نہیں رونما ہوا جس نے امام خمینیؒ کے اسلامی انقلاب کی طرح دنیا کے سیاسی نظام کی تبدیلی میں ایسی مداخلت کی ہو۔ موجودہ صدی میں ایسا کوئی قائد نظر نہیں آتا جو ایک طویل المدت جلا وطنی کے بعد جب وطن واپس آئے تو اس کے استقبال کے لئے چاہنے والوں کا سیلاب امنڈ پڑے اور جب وہ سفر آخرت کے لئے روانہ ہو تو سوگواروں کی ایک بڑی جماعت انتہائی عظیم الشان اور عدیم المثال انداز میں اسے ابدی آرام گاہ تک پہنچائے۔ درحقیقت صدر اسلام کے بعد تاریخ ایسے کسی قائد و رہبر کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے جس کو ایسی شان و شوکت سے سپرد خاک کیا گیا ہو کہ لاکھوں سوگوارپروانوں کی طرح اس مرد خدا کے وجود کی شمع کے ارد گرد نوحہ و ماتم میں مصروف تھے اور اس کی جدائی کے غم میں خون کے آنسو بہارہے تھے اور ایسا معلوم ہوتاتھا کہ مسلمانانِ عالم اپنے یارویاور و سرپرست سے محروم ہوگئے ہیں۔ وہ درحقیقت ایسے قافلے کے سالار تھے جو اسلام کی عظمت رفتہ کو دوبارہ زندہ کررہا تھا اور اسلام کی عظمت و سربلندی کا ایک نمونہ پیش کررہا تھا۔ ایسے مرد صالح و مجاہد پر درود وسلام۔
آج رہبر عظیم الشان کی جانگداز وفات کے بعد تیس سال کا زمانہ گزر چکا ہے اور یہ لطف و کرم خداوندی کا نتیجہ ہے کہ عالم اسلام کے قائد عظیم الشان آیت اللہ سید علی خامنہ ای مد ظلہ العالی ہماری الٰہی تحریک کی قیادت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ خداوند عالم ایسے انقلاب عظیم کو جس نے کلمۂ خداوندی کی سربلندی کے لئے عظیم قربانیاں پیش کی ہیں اور جو اپنی زندگی کے افتخار آمیز مرحلہ تک پہنچ چکا ہے، قائد و سرپرست کے بغیر کیسے چھوڑے گا۔ اسلامی انقلاب کے موجودہ قائد اور امام خمینیؒ کی عظیم اسلامی تحریک کے وارث ان کے نقش قدم پر گامزن ہوں۔جملہ شیطانی طاقتوں کے خلاف اسلامی انقلاب کے قائد کا واضح موقف ، فلسطین کے اسلامی انقلاب کی بھرپور حمایت ، دنیا کی تمام آزادی طلب و اسلامی تحریکوں کی طرفداری و سرپرستی اور اسی طرح مرتد سلمان رشدی کے خلاف امام خمینیؒ کے شرعی حکم میں تبدیلی کو خارج از امکان قراردینا وہ اہم مسائل ہیں جو لوگوں کے دلوں میں امام خمینیؒ کی یاد تازہ کئے ہوئے ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب دنیا کی استکباری طاقتیں اور مغربی ذرائع ابلاغ اس کوشش میں ہمہ تن سرگرم ہیں کہ دنیا والوں کو یہ باور کرادیں کہ امام خمینیؒ کا دور ختم ہوچکا ہے۔ امام خمینیؒ کا یہ شاگرد و حقیقی جانشین دانشمندانہ قیادت کے ساتھ استکباری طاقتوں کے مقابلے میں کوہ ہمالیہ کی طرح ثابت قدم ہے اور تاریخ کے اس حصہ کو’’عہد خمینیؒ‘‘ کے نام سے یاد کرتاہے اور اپنی قیادت کے ذریعہ دنیا والوں پر یہ ثابت کررہا ہے کہ امام خمینیؒ ایک حقیقت جاوید کا نام ہے۔ ان کا نام اس انقلاب کا پرچم، ان کی راہ اس انقلاب کی راہ اور ان کا مقصد ہی اس انقلاب کا مقصد ہے۔ اسلام محمدی(ص) کے متوالوں اور امام خمینیؒ کے چاہنے والوں کو یہ نعمت عظمیٰ مبارک ہو اور امت اسلامیۂ عالم پرچم اسلام کی سربلندی کے لئے ہمیشہ سرگرم عمل رہے۔



1
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम