Code : 1486 30 Hit

امام خمینیؒ اور یوم القدس

امام خمینیؒ نے اپنے ایک پیغام میں فرمایاتھا:’’یوم القدس صرف فلسطین سے مخصوص نہیں ہے، یہ اسلام کا دن ہے؛ یہ اسلامی حکومت کا دن ہے۔ایسا دن ہے جب سپر طاقتوں کو سمجھانا چاہئے کہ اب وہ اسلامی ممالک میں اپنی مرضی نہیں چلا سکتے. میں یوم القدس کو اسلام اور رسول اکرم(ص) کا دن سمجھتا ہوں‘‘۔

ولایت پورٹل: رمضان المبارک کا آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو’’یوم القدس‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جس کا اعلان اسلامی انقلاب کی کامیابی کے پہلے سال یعنی ۱۹۷۹ میں امام خمینیؒ نے کیا تھا۔ہوا کچھ یوں کہ جب فلسطین میں مختلف ممالک سے یہودیوں کو  لاکر بسایا گیا اور اہل فلسطین سے  یہ کہا گیا ہے کہ یہ دنیا کے بڑے سائنسدان اور مختلف  شعبوں کے ماہرین ہیں جو فلسطین کو تعمیر و ترقی کی جانب لے جائیں گے اور اس طرح دھیرے دھیرے ایک علاقہ پر قبضہ کیا گیا اور پھر بڑی تعداد میں یہودیوں کو لاکر بسایا گیا اور دنیا کے بڑے ممالک کی حمایت سے یہودیوں کے لئے ایک ملک بنایا گیا جس کی بنیاد قتل و غارت اور غصب اور ناجائز قبضے پر رکھی  گئی اور اس ملک کو ’’اسرائیل‘‘کا نام دیا گیا۔ صیہونیوں  کی شروع سے پالیسی رہی ہے کہ  اپنے مقاصد اور مفادات کے لئے جھوٹ،دھوکہ اورفراڈ سے بھی کام لینا پڑے تو لیا جاسکتا ہے۔جس طرح ہندوستان میں انگریزوں نے یہی پالیسی اپنائی تھی اور ہندوستانیوں کو دھوکہ دے کر تجارت اور ترقی کے نام پر غلام بنالیا تھا۔
اسرائیل بنانے کا مقصد صرف ایک چھوٹے سے علاقہ پر یہودیوں کو بسانا اور ان کا اپنا ایک ملک بنانا نہیں تھا بلکہ ان کا مقصد پہلے پورے فلسطین اور پھر  پورے خطے پر قبضہ کرنا تھا جس کے لئے انہوں نے ’’نیل سے فرات تک‘‘یہودی حکومت کا نعرہ دیا تھا۔اس پلاننگ کا مطلب یہ تھا کہ فلسطینیوں بالخصوص مسلمانوں کو ملک بدر کیا جائے،انہیں بے گھر کیا جائے،ان کے گھروں کو  تباہ کیا جائے،ان کی زندگی ختم کی جائے،انہیں فلسطین چھوڑنے پر مجبور کیا جائے اور پھر یہی کھیل شروع ہوا جس کے نتیجہ میں ہزاروں فلسطینی قتل اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔البتہ یہ صیہونی حکومت اور سیاست کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے یعنی اقتدار پانے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے کچھ بھی کیا جاسکتا ہے۔یہاں انسانیت،اخلاق،زندگی کی قیمت جیسی چیزیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔
دنیا میں اس ظلم کے خلاف کچھ کمزور آوازیں اٹھیں لیکن سب کو  دبا دیا  گیا اور ظلم و بربریت کا  یہ کھیل مسلسل جاری رہا ۔ فلسطینی  بے گھر،بے سرو سامان اور قتل ہوتے رہے۔اسرائیل نے مصر ،سوڈان ،لبنان اور کچھ دیگر پڑوسی  ممالک کی  جانب  بھی پیشرفت شروع کی اور ان پر بھی اپنا ناجائز قبضہ جمانا شروع کیا۔مصر سمیت چھ عرب ممالک نے اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کیا لیکن اسرائیل نے انہیں کچھ  ہی دن میں شکست دے کر اپنے لئے ’’ناقابل شکست‘‘ہونے کا  خطاب حاصل کرلیا اور اس طرح پوری دنیا  بالخصوس خطے پر اپنی دھاگ بٹھانے اور چودھراہٹ جمانے میں کامیاب ہوگیا۔
اس ظلم کے نتیجے میں فلسطین میں کچھ گروہ مزاحمت کےلئےاٹھے اور انہوں نے اپنے حق اور سرزمین کی بازیابی کے لئے کوششیں بھی کیں لیکن عالمی سطح پر انہیں کوئی حمایت نہیں ملی یہاں تک کہ  ۵۰ سے زائد اسلامی ممالک بھی خاموش رہے بلکہ کچھ نےتو درپردہ اسرائیل  کے ساتھ ہاتھ بھی ملا لیا اور فلسطینوں کے قتل اور ان کی نابودی میں شریک جرم ہوگئے۔ایسے میں خمینیؒ کبیر کی قیادت میں چلائی جانے والی تحریک جب ایران میں کامیاب ہوئی اور اسلامی حکومت کا وجودعمل میں آیا تو انہوں نے پہلے ہی سال مسئلہ فلسطین اور اہل فلسطین کی حمایت کو  اسلامی جمہوریہ ایران کے بنیادی مسائل میں قرار دیا اور اسی سال رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو ’’یوم القدس‘‘قرار دیا۔آپ نے اپنے پیغام میں فرمایا:
’’ میں  عرصہ دراز سے، تمام مسلمانوں کو غاصب اسرائیل کے خطرے کی طرف متوجہ کرتا آرہا ہوں ، جس نے ان دنوں میں ہمارے فلسطینی بہن بھائیوں پر حملات کو شدید کر دیا ہے، اور خاص طور پر جنوبی لبنان میں فلسطینی مجاہدین کے خاتمے کے لئے، مسلسل ان کے گھروں پر بمباری کر رہا ہے۔
میں پورے عالم اسلام کے مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس غاصب اور اس کے حامیوں کے ہاتھ کاٹنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہو جائیں اور تمام مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کے دن جو ایام قدر میں سے بھی ہے، یہ  فلسطینی عوام کی تقدیر کو واضح کرنے کا دن بھی ہو سکتا ہے، اس کو "یوم القدس" کے عنوان سے  اپناتے ہوئے، کسی پروگرام کے ذریعے بین الاقوامی طور پر ان مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور حمایت کا    اعلان کریں۔ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ مسلمانوں کو اہل کفر پر کامیابی عطا فرمائے ‘‘۔
یہاں سوال یہ اٹھتا ہےکہ جب پوری امت مسلمہ خاموش تھی اور سبھی مسلم حکمران  مصلحت کی چادر اوڑھے بیٹھے تھے ،امام خمینیؒ نے مسئلہ فلسطین کو کیوں اجاگر کیا؟اسے اتنی اہمیت کیوں دی؟ظاہری طور پر دیکھا جائے تو امام خمینیؒ ایک شیعہ عالم تھے اور فلسطین میں رہنے والے مسلمانوں کا  تعلق اہل سنت سے تھا۔جب دنیا بھرکے سنی علماء  خاموش بیٹھے تھے تو ایک شیعہ عالم نے اس پیمانے پر اہل فلسطین کی حمایت کیوں کی؟
اس کا جواب امام خمینیؒ کی تحریک اور ان کے انقلاب کی نوعیت میں مضمر ہے۔آپ نے جس انقلاب کی قیادت کی وہ شیعوں اور ایرانیوں سے مخصوص نہیں تھا ،یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے لئے بھی نہیں تھا بلکہ وہ ایک اسلامی انقلاب تھا پوری دنیا کے ستم دیدہ،مستضعف،مظلوم اور عالمی سیاست کے مداریوں اور غنڈوں کےظلم و ستم کا شکار ہونے والے افراد کے لئے تھا چاہے   ان کا تعلق  جس  مذہب اور دین سے بھی تھا ۔اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ امام خمینیؒ کے انقلاب اور پیغام کی گونج  کو جہاں جہاں تک سب نے اسے دل و جان سے سراپا گوش ہوکرسنا اور چونکہ یہ آواز انسانی فطرت سے قریب تھی اس لئے ہر مذہب و قومیت سے بالاتر ہوکر اس کا استقبال کیا گیا۔
دوسری بات یہ ہےکہ امام خمینیؒ  ایک زاہد اور خداترس انسان تھے یعنی انہیں نہ مال دنیا کی لالچ تھی،نہ اقتدار کی لالچ اورنہ ہی کسی کا کوئی ڈر تھا۔وہ حقیقی معنوں میں صرف اور صرف خدا سے ڈرتے تھے اور جو بھی قدم اٹھانا ہوتا تھا،جو بھی فیصلہ کرنا ہوتا تھا خدا کے لئے کرتے تھے۔اس وقت  چونکہ دنیا میں سب سے زیادہ ظلم اہل فلسطین پر ہورہا تھا اور  سب سے بڑا ظالم اسرائیل تھا اس لئے امام خمینیؒ نے  اپنی شرعی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی  دینی اور سیاسی  ذمہ داری سمجھتے ہوئے مظلوموں کی حمایت اور ظالمین کی مخالفت کا اعلان کھل کر کیا۔جبکہ دوسرے مسلمان ممالک کے حکمران اور علماء  ایسا اس لئے نہیں کرسکتے تھے  کیونکہ وہ یا تو خرید لئے گئے تھے یا انہیں اپنی جانوں ، خاندانوں اور اقتدار ہاتھ سے چلے جانے  کا ڈر تھا اور اسرائیل سے شکست کھانے کے بعد تو کسی میں  اسے آنکھ دکھانے کی جرائت نہیں رہ گئی تھی ۔
تیسری بات یہ ہے کہ امام خمینیؒ اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے  اور مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا چاہتے تھے  اس لئے وہ ان مسائل کو اجاگر کرنا چاہتے تھے جن کے تئیں سبھی مسلمانوں کے دل دھڑکتے ہوں۔سرزمین فلسطین بالخصوص قبلہ اول اور بیت المقدس سے تمام مسلمانوں کا تعلق  تھا اس لئے ضروری تھا کہ  تمام مسلمانوں کو اس مسئلہ میں اکٹھا کیا جائے  اور عالمی سطح پر سرزمین فلسطین کی بازیابی اوراسرائیل کی نابودی  کی تحریک  شروع  کی جائے۔بلکہ امام خمینیؒ کی نظر میں امت  مسلمہ کو اپنےنالائق اور ڈکٹیٹر حکمرانوں سے نجات پانے کے لئے بھی ایسے ایک پلیٹ فارم کی ضرورت تھی۔آپ فرماتے تھے:’’اگر یوم القدس میں تمام مسلمان اور امتیں اٹھ کھڑی ہوں  اور وہ صدائے احتجاج بلند کریں تو نہ صرف قدس بلکہ تمام اسلامی ممالک کامیاب ہوں گے ۔ہم نے اسی ’’اللہ اکبر‘‘کے نعرے کے ذریعہ شاہ ایران محمد رضا کو باہر نکالا۔کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم  نےبندوق اور اسلحے کے بل پر ایسا  کیا ؟ جی نہیں۔  یہی اللہ اکبر کی فریاد جب کوڑے کی طرح ان کے سروں پر برسی  تو  وہ بھاگ کھڑے ہوئے‘‘۔
چوتھی بات یہ ہے کہ امام خمینیؒ کی نظر میں اس کا تعلق صرف اسلام اور مسلمانوں سے نہیں تھا بلکہ یہ ایک انسانی مسئلہ تھا جس سے دنیا بھر  کو آگاہ کرنا ضروری تھا۔ایسا نہیں تھا کہ غیر مسلم، مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے تھے بلکہ دراصل انسانیت کا قتل ہورہا تھا ،معصوم بچوں کو ماراجارہا تھا،عورتوں کو قتل کیا جارہا تھا،گھروں کو تباہ کیا جارہا تھا،لوگوں کو بے گھرکیا جارہا تھا،اسکولوں اوراسپتالوں پر بمباری کی جارہی تھی اوروہ سب کچھ کیا جارہا  تھا جس کی اجازت کوئی انسان اور کوئی قانون نہیں دیتا لیکن دنیا ان سب چیزوں سے غافل تھی اس لئے ضرورت تھی کہ  انسانی اور عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین کو اجاگر کیا جائے اور اس ظلم کی روک تھام کی جائے ۔البتہ آپ کی نظر میں فلسطین صرف  ایک سمبل ہے  ورنہ اس  دن کا تعلق صرف فلسطین سے نہیں ہے بلکہ ہر مظلوم ملت اور قوم سے ہے۔آپ فرماتے ہیں:’’ یوم القدس ایک عالمی دن ہے ۔اس دن کا تعلق صرف قدس سے نہیں ہے۔یہ مستکبرین  کے ساتھ  مستضعفین کے مقابلہ اور لڑائی کا دن ہے۔یہ  ان  اقوام کا دن ہے جو امریکہ اور دوسری طاقتوں کے ظلم تلے پس رہی ہیں۔اس دن اقوام عالم کو یک جٹ ہوکر ظالموں کی ناک زمین پر رگڑنا چاہیے۔ ‘‘ اس لئے آج جب ہم یوم القدس مناتے ہیں تو ہم صرف فلسطین اور اہل فلسطین کی بات نہیں کرتے بلکہ  ہمارا احتجاج ہر ظالم کے خلاف اورمظلوم کے حق میں ہوتا ہے۔ہمارا احتجاج امریکہ   اور دنیا میں اس کے ذریعہ کی جانے والی دہشتگردیوں کے خلاف ہوتا ہے۔ہمارا احتجاج اسرائیل   اور دنیا میں اس کے ظلم و ستم کے خلاف ہوتا ہے۔ہمارا احتجاج آل سعود اور اسلامی ممالک میں اس کے ذریعہ کی جانے والی بربریت کے خلاف ہوتا ہے۔ہمارا احتجاج آج فلسطینیوں کے لئے بلکہ شام،عراق،بحرین،یمن،سعودی عرب،پاکستان،نائجیریا اور ہر اس خطے کے مظلوموں کے حق میں ہے جو ظلم کا شکار ہیں۔
پانچویں بات یہ ہے کہ  امام خمینیؒ اس دن کو مسلمانوں اور منافقین کے درمیان فرق اور جدائی کا دن سمجھتے تھے آپ کا ماننا تھا کہ مسلمان  وہی ہے جو اس دن مسلمانوں کے تئیں،انسانیت کے تئیں اپنے جذبہ ایمانی کا اظہار کرے ۔اس طرح مسلمانوں کو دکھانا چاہتے تھے کہ اسلام کے ہمدرد کون ہیں؟ اور وہ  کون ہیں جنہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے لیکن حقیقت میں وہ دشمنان اسلام کے ساتھ ان کے ہم پیالہ و ہم نوالہ ہیں۔آپ فرماتے ہیں:’’یہ وہ دن ہے جس دن معلوم ہوگا کہ کون اسلام کے پابند ہیں اور کون دلوں میں نفاق رکھتے ہیں،کیونکہ جو اسلام کے پابند ہیں وہ اس دن کو اہمیت دیتے ہیں اور اس میں  اپنا کردار نبھاتے ہیں ،لیکن جن کے دل میں نفاق ہے،جو درپردہ دشمن کے ساتھ ملے ہیں  وہ خاموشی اختیار کرتے ہیں یا  ظالم کے خلاف احتجاج کرنے سے  دوسروں کو روکتے ہیں‘‘۔ آج آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کون سے ممالک فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک میں ہونے والے ظلم کے خلاف ہیں اور کون اس ظلم میں شامل ہیں۔کون مظلوموں کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں اور کون ان آوازوں کو دباتے ہیں۔کون مسلمانوں کو عالمی پیمانے پرریلیاں نکالنے اور ظالمین کےتئیں اظہار برائت کی ترغیب دلاتے ہیں اور کون ان پروگراموں،ریلیوں اور جلوسوں کے خلاف فتوے دیتے ہیں۔کون ان احتجاجات میں شامل ہوتے ہیں اور کون خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔
بات صرف فلسطین کی نہیں!
مجھے سمجھ میں نہیں  آتا کہ تم  لوگوں کو  فلسطین کے سنیوں سے اتنی ہمدردی کیوں ہے؟ جب بھی رمضان کا مبارک مہینہ آتا ہے تم لوگ اللہ کی عبادت،قرآن کی تلاوت اور رمضان کی دعاؤوں کو چھوڑ کر مسجد میں بیٹھ کر سیاسی باتیں کیوں کرتے ہو؟امریکہ نے یہ کردیا،اسرائیل نےیہ  کردیا،انگلینڈ یہ سازشنیں کررہا ہے ،سعودی عرب یہ پروپیگنڈے کررہا ہے۔اور نہیں معلوم تم لوگ نعرہ تکبیر،نعرہ رسالت اور نعرہ حیدری کے ساتھ حسینیت زندہ اور یزیدیت مردہ باد کے نعرے کیوں نہیں لگاتے ہو بلکہ اس کی جگہ،امریکہ مردہ باد،اسرائیل مردہ باد،آل سعود مردہ کے نعرے کیوں لگاتے ہو؟ یہ امین آباد کے ایک جذباتی  مؤمن جوان کے جذبات تھے جو وہ حسین آباد کے کچھ انقلابی جوانوں کے سامنے ظاہر کررہا تھا جو الوداع جمعہ کے لئے " یوم القدس "کی تیاریوں میں مصروف تھے اور اس کے لئے پلاننگ کررہے تھے۔
اس جوان کو اس بات پر بھی اعتراض تھا کہ ہم ہندوستان یا کسی دوسرے ملک میں بیٹھ کر فلسطین والوں کے حق میں آواز اٹھائیں اور ان کی حمایت میں کوئی ریلی نکالیں۔
سعید جو قدس ریلی کی تیاریوں میں سب سے آگے آگے نظر آرہا تھا اور پڑھا لکھا جوان تھا مسکراتے ہوئے  اس جوان کو سمجھانے کے لئے آگے بڑھااور بولا: بھائی آپ کا نام کیا ہے؟
میں ناظم  علی ہوں۔
ناظم بھائی۔پہلی بات یہ ہے کہ ہم عبادت،نماز،دعا،قرآن کی تلاوت اور دوسرے کام چھوڑ کر یہ سب نہیں کررہے ہیں بلکہ اسی مسجد میں جماعت سے نماز پڑھتے ہیں،تھوڑی دیر قرآن کی تلاوت کرتےہیں ،روزانہ کی دعائیں پڑھتے ہیں،مولانا صاحب سے ضروری مسئلے بھی ڈسکس کرتے ہیں  اور ساتھ ہی یہ فرض بھی نبھاتے ہیں۔
دوسری بات  یہ ہے کہ مسجد صرف نماز،قرآن اور دعا کے لئے نہیں  ہوتی بلکہ مسجد عبادت،دینی پروگراموں  اور ہر اس کام کو انجام دینے کی جگہ ہے جس کا دین اور اسلام سے تعلق ہو۔ تاریخ  ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کے رسول(ص) کو جب بھی کوئی اہم کام ہوتا یا جنگ پر مسلمانوں کو بھیجنا ہوتا  یا کسی بات کا اعلان کرنا ہوتا تو مسلمانوں کو مسجد میں اکٹھا کیا کرتے تھے اور وہاں سے  کام شروع ہوتا تھا۔
یہ جگہ جو آپ دیکھ رہے ہیں جہاں مولانا صاحب کھڑے ہوکر نماز پڑھاتے ہیں اسے’’محراب‘‘کہتے ہیں۔محراب کا مطلب ہے  مقابلہ کرنے کی جگہ۔یہ ایک سمبل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد ہر اس کام اور سازش سے مقابلہ کرنے کی جگہ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف رچی جارہی ہو۔اور اس میں نماز پڑھانے والا صرف چند  رکعت نماز پڑھانے والا مولانا یا امام  نہیں ہوتا بلکہ وہ اس جنگ  میں اسلام کے دشمنوں کے خلاف کمانڈر کی حیثیت رکھتا ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ہم’’ یوم القدس‘‘اپنی مرضی سے نہیں مناتے بلکہ اسلام اور قرآن کا حکم ہے جس پر ہم عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔آپ کو معلوم ہے’’  یوم القدس‘‘ منانے کا اعلان آج سے چالیس سال پہلے امام خمینیؒ نے کیا تھا جو اپنے وقت کے مجتہد اور غیبت کے اس زمانے میں پہلے اسلامی انقلاب کے لیڈر تھے اور ان کے بعد بھی اکثر مجتہدین اسے پورے جذبے کے ساتھ منانے کو کہتے ہیں۔ہم سب مقلد ہیں یعنی کسی نہ کسی مجتہد کی تقلید کرتے ہیں  اس لئے ہمیں ان پڑھ لوگوں کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے بلکہ اپنے مجتہدین کی راہنمائی میں ہر قدم اٹھانا چاہیے یہی ہمارے آئمہ طاہرینؑ کا بھی  حکم دیا ہے۔
ناظم بھائی  چوتھی  بات یہ ہے کہ بات صرف فلسطین کی نہیں ہے اور نہ ہی فسلطین کے مسلمانوں کی ہے۔ یوم القدس  کی شروعات فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت سے ضرور  ہوئی تھی لیکن آج یہ ایک انٹرنیشنل دن بن چکا ہے۔اور اس میں ہم صرف فلسطین کی سنی بھائیوں کی حمایت نہیں کرتے بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔آج دنیا میں جہاں بھی ظلم ہورہا ہے وہ چاہے فلسطین ہو،بحرین ہو،یمن ہو،نائجیریا ہو،سعودی عرب ہو،پاکستان ہو،شام ہو،عراق ہو،افغانستان ہو ہم  ہر مظلوم کی حمایت میں اور ہر ظالم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں  یہی ہمارے اور آپ کے مولااور آقا حضرت علی(ع) کا فرمان ہے۔ہمارے امامؑ نے اپنی آخری وصیت میں اپنے چاہنے والوں اور دنیا کے سبھی انسانوں کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ’’ظالموں کے خلاف اور مظلوموں کی حمایت میں کھڑے ہوجاؤ‘‘۔امامؑ کی وصیت یہ نہیں ہے کہ جو شیعہ ہو بس اسی کی حمایت کرو،یا جو مسلمان ہو اسی کے لئے اپنی آواز اٹھاؤ بلکہ امام(ع) نے مظلوم کی حمایت  اور ظالم کی مخالفت کی بات کی ہے۔ظالم ہوسکتا ہے مسلمان یا ظاہری طور پر شیعہ ہو اور مظلوم ہوسکتا ہے غیر مسلم یا کافر ہو۔کیا آپ نے یہ نہیں سنا یا پڑھا ہے کہ شام کے حاکم کے حکم سے اس کے سپاہیوں نے ایک جگہ حملہ کیا اور ایک یہودی عورت کے پاؤں سے پائل چھین لی۔جسے سننے کے بعد حضرت علیؑ نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی مسلمان یہ خبر سن کر مرجائے تو افسوس کی بات نہیں ہے۔
ناظم بھائی ذرا سوچئے! فلسطین میں کس طرح بچوں اور عورتوں کو مارا جارہا ہے،انہیں کس طرح ان کے گھروں سے نکالا جارہا ہے، ان کے گھروں کو  کس طرح گرا کر ان کی جگہ پر ناجائز قبضہ کیا جارہا ہے،یمن میں دیکھئے کس طرح بھوک اور بیماری سے لاکھوں بچے موت کا انتظار کررہے ہیں،سعودی عرب میں دیکھئے  مولا کے چاہنے والوں پر کیسے مظالم ڈھائے جارہے ہیں ،بحرین میں دیکھئے س طرح مسجدوں کو،امامبارگاہوں کو گرایا جاتا ہے اور جوانوں کو زبردستی پکڑ کر جیل میں ڈالا جاتا ہے،شام اور عراق میں دیکھئے کیا  کیا ہوا؟
آپ کی نظر میں کیا یہ سب اچھا ہے؟کیا یہ ظلم نہیں ہے؟ کیا ہمارے وقت کے امام(ع) یہ سب دیکھ کر خون کے آنسو نہیں روتے ہوں گے؟ اگر آج حضرت علی(ع) یا امام حسین(ع) ہوتے تو کیا وہ یہ سب دیکھ کر خاموش رہتے؟ آپ کی نظر میں یہ سب کون کررہا ہے؟ ان سب کے پیچھے کون ہے؟
کون ہے جو آج بھی فلسطینیوں پر  ہونے والے ظلم کی حمایت کرتا ہے؟کون ہےجس نے  شام میں دہشتگردوں  کو بھیج کر پورے ملک کو برباد کردیا اور اسے دنیا کے سب سے زیادہ  ناامن ملک  میں بدل دیا۔کون ہے جو  نیوزی لینڈ میں مسجد میں گھس کر  نمازیوں کو گولیوں سے شہید کرنے والے شخص کو  دہشتگرد نہیں مانتا؟اگر ہم ایسے ظالم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں،اگر ہم اس کے خلاف نعرے لگاتے ہیں تو آپ کی  نظر میں یہ سیاسی کام ہے؟ نہیں  یہ کوئی سیاسی کام نہیں،اگر چہ دین کا کوئی بھی کام سیاست سے الگ نہیں ہے۔کیونکہ ہماری نماز ہمیں سکھاتی ہے کہ ان لوگوں کے راستے پر چلنے کی دعا کرو جن پر خدا نے نعمتیں نازل کی ہیں اور ان لوگوں سے نفرت اور بیزاری کا اعلان کرو جن کے اعمال اور ظلم کی وجہ سے خدا ان سے ناراض ہے اور ان پر اس کا غضب ہے۔ہم جس قرآن کی تلاوت کرتے ہیں وہ ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح اللہ کے نیک بندوں نے،انبیاء نے،اولیاء نے اپنے زمانے کے ظالموں،فرعونوں،نمرودوں کے خلاف آواز اٹھائی اور کس طرح مظلوموں کا ساتھ دیا۔ہم اسی رمضان المبارک میں شب قدر کی دو راتوں میں جس مولا کی شہادت کا ماتم کرتے ہیں انہوں نے اور ان کے بعد تمام آئمہ(ع)  نے ہمیں سکھایا ہے کہ ظلم دیکھ کر خاموش نہیں رہنا ہے۔اس مبارک مہینے میں ہم جو دعائیں پڑھتے ہیں ان دعاؤوں میں ہمیں سکھایا گیا ہے  کہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے دعا کرنا ہے،ان کے حق کے لئے آواز اٹھانا ہے اور جو کچھ کرسکتے ہیں وہ کرنا ہے۔
ناظم بھائی ! آپ نے علماء  سے امام حسین(ع) کا یہ جملہ تو  سنا ہوگا کہ’’مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرے گا‘‘اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا یہ مطلب ہے کہ ہر زمانے میں کچھ لوگ یزید کے راستے پر چلنے والے ہوں گے،جو اسلام کو مٹانے کی کوشش کریں گے،اسلامی آئیڈیالوجی کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے،اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کریں گے،ایسے میں حسین(ع) والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے خلاف اٹھیں،اس کی سازشوں کو سمجھیں،اس کے خلاف اپنی آواز اٹھائیں،اسے بتائیں کہ وہ اس کے ساتھ نہیں ہیں،اسے بتائیں کہ وہ اس سے راضی نہیں ہیں،اسے بتائیں کہ وہ حسین(ع) کے ماننے والے ہیں۔
یوم القدس کی یہ ریلی آج کے یزید کے خلاف حسینیوں کا اعتراض ہے۔قدس کی ریلی ظالموں کے خلاف نفرت کا اعلان ہے۔قدس کی یہ ریلی مظلوموں کی حمایت کا اظہار ہے۔اور اگر کسی ملک کا نام لے کر نعرے لگائے جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں کے لوگوں کی مخالفت کی جارہی ہے،ان کی توہین کی جا رہی ہے ،یا ان کے خلاف آواز اٹھائی جارہی ہے،بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ کچھ ممالک جو کھل کر اسلام کے خلاف،مسلمانوں کے خلاف اور انسانیت کے خلاف کام کررہے ہیں اور دوسروں سے کام کروا رہے ہیں اور ان کے ساتھ کچھ مسلمان ملک بھی شامل  ہیں ہم ان کے خلاف ہیں۔ اوران کی مخالفت کا مطلب ان کی پالیسیوں کی مخالفت ہے۔اور یہی حقیقت میں’’حسینیت زندہ باد اور یزیدیت مردہ باد‘‘ہے۔





0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम