Code : 2330 73 Hit

امام حسن(ع) اور یاد خدا

امام حسن علیہ السلام جیسے ہی نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو آپ کے بدن کا ہر ایک جوڑ جوڑ ہل جاتا تھا اور جب جہنم و دوزخ کو یاد فرماتے تو آپ کا اضطراب اس بچے کی مانند بڑھ جاتا تھا تو اپنے بچے کو چھوڑ کر کسی دوسرے کام میں مصروف ہوگئی ہو، اور جب قرآن پڑھتے پڑھتے :’’یا ایها الذین آمنوا‘‘۔پر پہونچتے تھے تو’’لبیک اللهم لبیک‘‘۔ کہتے تھے

ولایت پورٹل: امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ میرے بابا امام محمد باقر علیہ السلام  نے اپنے والد امام سجاد علیہ السلام  سے نقل کیا ہے کہ امام حسن علیہ السلام اپنے زمانے کے سب سے بڑے عابد تھے۔زہد،پارسائی اور دنیا کو ترک کرنے میں کوئی آپ کا ثانی نہیں تھا چنانچہ جب آپ حج کو جاتے تھے تو پیدل تشریف لے جاتے تھے اور کبھی کبھی ننگے پاؤں جاتے تھے۔جب موت کو یاد کرتے تو گریہ فرمایا کرتے تھے جب قبرستان سے گذر ہوتا تھا تو زار و قطار روتے تھے جب قیامت و حساب و کتاب کا تذکرہ ہوتا تھا تو آنسو بہنے لگتے تھے۔ جب صراط پر سے گذرنے کی یاد آتی تھی تو بے ساختہ رو پڑتے تھے اور جب اللہ کے حضور کھڑے ہونے کے مرحلہ کے بارے میں فکر کرتے تو غش کرجایا کرتے تھے۔
جیسے ہی نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو آپ کے بدن کا ہر ایک جوڑ جوڑ ہل جاتا تھا  اور جب جہنم و دوزخ کو یاد فرماتے تو آپ کا اضطراب اس بچے کی مانند بڑھ جاتا تھا تو اپنے بچے کو چھوڑ کر کسی دوسرے کام میں مصروف ہوگئی ہو، اور جب قرآن پڑھتے پڑھتے :’’یا ایها الذین آمنوا‘‘۔پر پہونچتے تھے تو’’لبیک اللهم لبیک‘‘۔ کہتے تھے۔
جب بھی امام حسن(ع) کو دیکھا گیا آپ ذکر خدا میں مشغول رہتے تھے ۔ آپ جب بولتے تو سچ بولتے تھے اور آپ کا کلام نہایت فصیح اور بلیغ ہوا کرتا تھا ۔(بحارالانوار، ج43 ص 331)
 


0
شیئر کیجئے:
متعلقہ مواد
फॉलो अस
नवीनतम