Code : 861 34 Hit

تشنگان معرفت کے لئے چشمہ فیض امام باقر(ع) کا مدرسہ

حضرت امام محمد باقر (ع)کی شخصیت مرجع خلائق تھی۔ علماء اعلام عمرو بن عبید، طاؤس یمانی، حسن بصری، نافع غلام ابن عمر وغیرہ آپ سے استفادہ کرنے کی غرض سے برابر حاضری دیا کرتے تھے۔ دیگر فرقوں کے علماء و فضلاء مناظرہ کی غرض سے آیا کرتے تھے اور حضرت ان کو تشفی بخش جواب دے کر ان کے کفر و نفاق و شبہات کو رفع فرمایا کرتے تھے۔

ولایت پورٹل: بنی امیہ کی مسلسل روک تھام کے باوجود امام محمد باقر(ع) کے مدرسہ میں علماء و مفکرین کا اجتماع بڑھتا ہی رہا، حکومت کی خواہش تھی کہ لوگ آل محمد(ص) کا ذکر خیر بھی نہ کریں چنانچہ مخالفت پر انعامات و وظائف تقسیم ہورہے تھے، موافقت پر سزاؤں کی دھمکیاں دی جارہی تھیں لیکن ان تمام باتوں کے باوجود تشنگان علوم و معارف برابر آپ(ع) کی خدمت میں آتے رہے، مصائب کا سامنا کیا، دشواریاں جھیلیں لیکن نصرت حق کی راہ میں ان چیزوں کو چنداں اہمیت نہ دی۔
امام محمد باقر(ع) کا زمانہ سلطنت کے عروج و استحکام کا دور تھا لیکن آپ نے تبلیغ دین اور نشر حق میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ حکام جور کے خلاف آوازۂ حق بلند کرکے لوگوں کو دین سے متمسک ہونے کی دعوت دیتے رہے۔ حکومت کی نیند حرام ہوگئی لیکن وابستگانِ درآل محمد(ص) کا سلسلہ نہ ٹوٹ سکا۔ مدینہ نشر معارف کا مرکز اور ہر گھرانہ علوم و معارف کا مصدر بن گیا، مدینہ کی مرکزیت کا مٹانا حکومت کے بس کا روگ نہ تھا اور آل محمد(ص) کی مرجعیت بھی مدینہ کی مرکزیت کا دوسرا نام بن گئی تھی۔ چنانچہ مکحول بن ابراہیم نے قیس بن ربیع سے روایت کی ہے کہ میں نے ابو اسحاق سے موزے پر مسح کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ میں نے لوگوں کو مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن ایک مرتبہ بنی ہاشم کے ایک بے مثل بزرگ محمد بن علی(ع) سے ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے اس مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا۔ انھوں نے اس کی ممانعت فرمائی اور فرمایا کہ امیرالمومنین(ع) ایسا نہ کرتے تھے بلکہ فرماتے تھے کہ یہ بات حکم الٰہی کے خلاف ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے بھی اس طریقہ کو ترک کردیا۔ قیس کہتے ہیں کہ اس قصہ کو سننے کے بعد سے میں نے بھی اس طریقہ کو ترک کردیا۔
زرارہ کا بیان ہے کہ میں امام محمد باقر(ع) کے پہلو میں تھا، حضرت رو بہ قبلہ بیٹھے تھے اور فرما رہے تھے کہ قبلہ کی طرف نظر کرنا عبادت ہے۔ اتنے میں بجیلہ کا ایک آدمی آگیا اور اس نے کہا کہ کعب الاحبار کا کہنا ہے کہ کعبہ ہر صبح بیت المقدس کو سجدہ کرتا ہے۔ حضرت نے فرمایا اس قول کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا کہ سچ ہی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تو بھی غلط کہتا ہے اور کعب بھی جھوٹا ہے۔ زرارہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو اس صراحت کے ساتھ کسی کو جھوٹا کہتے ہوئے اس سے پہلے نہ دیکھا تھا۔
امام محمد باقر علیہ السلام جب مکہ تشریف لے جاتے تھے تو آپ کے گرد طلاب علوم کا ایک ہجوم رہتا تھااور مسائل کے جوابات، حلال و حرام کی وضاحت کا ایک سلسلہ تھا ایک دن میں ہزار ہزار مسائل کے جوابات دیئے جاتے تھے۔
ہشام بن عبدالملک نے آپ(ع) کے گرد یہ اجتماع دیکھ کر اپنی شخصیت کے بارے میں خطرہ محسوس کیا اور حضرت(ع) کی شخصیت کو گرانے کے لئے یہ سوال بھیجا کہ لوگ قیامت کے دن سوال و جواب کے خاتمہ تک کیا کھائیں پئیں گے؟ حضرت نے فرمایا کہ لوگوں کا حشر ایک ایسی زمین پر ہوگا جس میں درخت اور نہریں سب کچھ ہوں گی اور حساب کے خاتمہ تک لوگ اسی میں سے کھاتے پیتے رہیں گے۔
ہشام نے یہ سنا تو خیال کیا کہ اب حضرت(ع) کی گرفت کا موقع مل گیا۔ اس نے فوراً کہلا بھیجاکہ حساب و کتاب کی مصیبت میں کھانے پینے کا ہوش کسے رہے گا؟
حضرت نے فرمایا کہ قرآن تو جہنم والوں کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ اہل جنت سے دانہ پانی کا سوال کریں گے تو اگر جہنم میں پہنچ کر یہ ہوش رہ سکتا ہے تو محشر میں کیوں نہیں رہ سکتا ہے؟
خوارج میں سے ایک شخص حضرت(ع)کے پاس آیا اور اس نے دریافت کیا کہ آپ کس کی عبادت کرتے ہیں؟ حضرت نے فرمایا: خدا کی۔ اس نے کہا کیا آپ نے خدا کو دیکھا ہے؟ فرمایا بیشک لیکن فرق یہ ہے کہ اسے آنکھیں نہیں دیکھتیں بلکہ دل میں ایمان کے حقائق دیکھتے ہیں، وہ نہ قیاس سے پہچانا جاتا ہے نہ حواس سے اور نہ لوگوں کی شباہت سے، اس کی آیتوں، صفات اور نشانیوں سے اس کی معرفت ہوتی ہے۔ وہ اپنے احکام میں ظلم نہیں کرتا ہے اور وہ وحدہ لاشریک ہے، یہ سننا تھا کہ وہ شخص کہتا ہوا چلا کہ خدا بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کو کہاں رکھے گا۔
بصرہ سے عثمان اعمیٰ حضرت(ع) کی خدمت میں آئے اور پوچھا کہ حسن بصری کا خیال ہے کہ جن لوگوں نے علم کو چھپایا ان کی بدبو سے اہل جہنم کو اذیت ہوگی تو کیا یہ صحیح ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ قاعدہ ہے تو مؤمن آل فرعون تو ہلاک ہی ہوجائے گا حالانکہ قرآن نے اس کے ایمان چھپانے پر اس کی مدح کی ہے۔
بہرحال حضرت(ع)کی شخصیت مرجع خلائق تھی۔ علماء اعلام عمرو بن عبید، طاؤس یمانی، حسن بصری، نافع غلام ابن عمر وغیرہ آپ سے استفادہ کرنے کی غرض سے برابر حاضری دیا کرتے تھے۔ دیگر فرقوں کے علماء و فضلاء مناظرہ کی غرض سے آیا کرتے تھے اور حضرت ان کو تشفی بخش جواب دے کر ان کے کفر و نفاق و شبہات کو رفع فرمایا کرتے تھے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम