Code : 4374 4 Hit

ہم عراق سے جائیں گے تو داعش آجائے گی:بغداد میں امریکی سفیر

بغداد میں امریکی سفیر نے سعودی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ عراق میں مستقل موجودگی کا خواہاں نہیں ہے اور وہ اپنی افواج کو کم کررہا ہے۔

ولایت پورٹل:عراق میں امریکی سفیر میتھیو ٹولر نے آج سعودی چینل "العربیہ" کو انٹرویو دیتے ہوئے عراق میں امریکی موجودگی سمیت کچھ امور کی وضاحت کی، رپورٹ کے مطابق  امریکی سفیر نے بغداد میں حالیہ راکٹ حملوں کے سلسلے میں دعوی کیاکہ  راکٹ حملوں کا مقصد الکاظمی حکومت کو کمزور کرنا ہے۔
میتھیو ٹولر  نے کہا کہ عراق میں امریکی موجودگی کا مقصد عراقی حکومت کی حمایت کرنا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہم عراق میں مستقل موجودگی کے خواہاں نہیں ہیں ،ہم فورسز کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی سفیر نے مزید کہا ہم عراق میں اس ملک کی  حکومت درخواست پر داعش سے لڑنے کے لیے آئے تھے اورہم نہیں چاہتے کہ عراق سے ہماری واپسی داعش کے دوبارہ یہاں آنے کا باعث بنے۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال جنوری میں  سپاہ پاسداران کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل حاج قاسم سلیمانی اور عراقی الحشد الشعبی  کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کےامریکہ کے ہاتھوں  شہید کیے جانےکے بعد عراقی پارلیمنٹ نے امریکی فوجیوں سمیت غیر ملکی فوجیوں کو ملک بدر کرنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔
واضح رہے کہ ٹولر نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی دعووں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران عراق کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے،ہمیں یقین ہے کہ یہ  عراق کو کمزور کرنے کے غیر ملکی منصوبے ہیں۔
امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ عراقی دینی  مرجیعت کے حالیہ بیانات اور عراق میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کی حمایت کرتے ہیں۔
ٹولر نے کہا کہ کچھ سیاسی اور فرقہ وارانہ گروہ عراقی معیشت کو کمزور کررہے ہیں۔
 
 

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین