حزب اللہ کے ساتھ جنگ ہوتی ہے تو اسرائیل پر روزانہ 2 ہزار راکٹ داغے جائیں گے؛صیہونی عہدہ دار کا اعتراف

اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خدشہ ظاہر کیا کہ حزب اللہ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی صورت میں لبنانی مزاحمتی تحریک کی جانب سے روزانہ 2 ہزار میزائل فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں داغے جائیں گے۔

ولایت پورٹل:اسرائیل کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے کسی بھی جنگ کی صورت میں مقبوضہ علاقوں پر حزب اللہ کے راکٹ داغے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، رپورٹ کے مطابق صیہونی جنرل ایوری گورڈن نے اے ایف پی کو بتایا کہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ کی صورت میں اسرائیل پر روزانہ 2 ہزار میزائل داغے جائیں گے۔
 انہوں نے کہا کہ تل ابیب اور اسدود جیسے شہر غزہ کی پٹی کے ساتھ حالیہ جنگ میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے سب سے زیادہ راکٹوں کا نشانہ بنے ہیں، انہوں نے مزید کہاکہ حزب اللہ کے ساتھ تنازعہ یا جنگ کی صورت میں ، ہم توقع کرتے ہیں کہ غزہ لڑائی کے مقابلہ میں لبنان سے اسرائیل پر روزانہ کم از کم پانچ گنا زیادہ میزائل داغے جائیں گے۔
 دوسری جانب ایک صہیونی سکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کے ساتھ ایک اور انٹرویو میں دعویٰ کیاکہ  اسرائیلی فوج لبنان کا استحکام چاہتی ہے جبکہ  حزب اللہ اس ملک میں عدم استحکام کا باعث ہے اور ملکی وسائل کو ایرانیوں کے مفادات میں استعمال کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار ایٹمی مواد تیار کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ قریب  ہوچکاہے ، تاہماسے بم بنانے کے لیے ابھی دو سال درکار ہیں۔
واضح رہے کہ  یہ دعوے اس وقت کیے جاتے ہیں جب مغربی ایشیائی خطے میں صہیونی حکومت کے پاس واحد ایٹمی ہتھیار ہے اوریہ عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شامل ہونے سے انکار کرتی ہے جبکہ ایران نے ہمیشہ جوہری توانائی کے پرامن استعمال پر اصرار کیا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین