عراق میں الحشد الشعبی کے ہاتھوں داعش کا مفتی ہلاک

شمالی بغداد کے علاقہ الطارمیه  میں عراقی فوج اور الحشد الشعبی کے مشترکہ آپریشن میں داعش کے مفتی سمیت پانچ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

ولایت پورٹل:عراق کی سرکاری نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق الحشد الشعبی نے آج (ہفتہ ، 20 فروری) اعلان  کیا ہے کہ شمالی عراق بغداد میں ایک کاروائی کے دوران داعشی دہشت گرد گروہ کےالطارمیہ علاقہ میں تعینات مفتی کو ہلاک کردیا گیا، واضح رہے کہ الحشد الشعبی کی فورسز سے وابستہ الطارمیہ رجمنٹ کا شمالی شہرالطارمیہ میں داعش کے متعدد دہشت گردوں کے ساتھ تصادم ہوا  جس میں تین دہشت گرد ہلاک ہوگئے  جبکہ الحشد الشعبی سے وابستہ رجمنٹ کے تین ارکان شہید اور دو دیگر زخمی ہوگئے۔
الاعلام الامنی میڈیا گروپ نے تصادم کی تفصیلات کے بارے میں بتایا ہے کہ الطارمیہ باغات میں ایک دہشت گرد گروہ کی موجودگی سے اس وقت مفصل معلومات حاصل کی گئیں جب عراقی فوج کی چھٹی ڈویژن اورالحشد الشعبی کی مشترکہ فورس نے اس علاقے پر حملہ کیا، رپورٹ کے مطابق  خبر کے شائع ہونے تک جھڑپیں جاری تھیں اور اب تک الحشد الشعبی فورس کے دو اہلکاوں کی شہادت اور ایک فوجی کے زخمی ہونےنیز پانچ دہشت گردوں کے ہلاک ہو نے کی خبر منظر عام پر آچکی ہے تایم علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
یادرہے کہ اگر عراقی حکومت اس ملک سے داعش کے خاتمہ کا اعلان کر چکی ہے تاہم اس تنظیم کے باقی ماندہ عناصر آئے دن  متعدد علاقوں میں کارائیاں کر تے رہتے ہیں جس کے لیے انھیں امریکہ سمیت عراق میں موجود تمام غیر ملکی طاقتوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے،ادھر عراقی عوامی تنظیم الحشد الشعبی نے بھی اپنے ملک سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کی ٹھان رکھی ہے اور وہ انھیں ہر مقام پر شکست کے دوچار کررہے ہیں اگرچہ خود بھی بہت قربانیان دینا پڑ رہی ہیں ،یہی وجہ ہے الحشد الشعبی امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اور وہ اس کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین