شامی فوج پر داعش کا حملہ؛13اہلکار ہلاک اور زخمی

داعش کے ایک دہشت گرد گروہ نے دیر الزور تدمر روڈ پر شامی فوجی بس پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں تین شامی فوجی ہلاک اور دس دیگر زخمی ہوگئے۔

ولایت پورٹل:شام کی سرکاری نیوز ایجنسی سانا نے  شام کے ایک فوجی ذرائع کے حوالے خبر دی کہ شامی فوجیوں کو لے جانے والی ایک بس کو دیر الزور تدمر روڈ پر الشولا کے علاقے  میں 13:40 بجے التنف کے علاقے سے آنے والے ایک دہشت گرد گروہ نے گولیوں کا نشانہ بنایا، اس فوجی ذرائع کے مطابق حملے کے مرتکب افراد نامعلوم افراد ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ داعش سےوابستہ  ہیں۔
نیوز ذرائع کی رپورٹ کے مطابق  یہ حملہ ایسے  وقت  میں ہوا ہے جبکہ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز نے شام کے صحرائے عرب میں شامی فوج کے ممبروں اور عام شہریوں کے خلاف جارحانہ کاروائیاں شروع کرنے کے لئے داعش سے سیکڑوں دہشت گردوں کو شام کے علاقے التنف منتقل کیا ہے، مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ بس میں 25 کے قریب شامی فوجی سوار تھے،تاہم ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ داعش اس حملہ کی ذمہ دار ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اس ملک میں داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے آیا تھا جس کے لیے اس نے داعش مخالف نام نہاد اتحاد بھی تشکیل دیا ہے تاہم زمینی حقائق کچھ اور ہی کہتے ہیں کہ امریکہ یہاں نہ صرف یہ کہ داعش کا خاتمہ کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا ہے بلکہ اس کے سہولت کار کی حیثیت سے کردار ادا کر رہا ہے اور اپنے کیمپوں میں داعشی دہشتگردوں کو فوجی تربیت دے رہا ہے جس کے بارے میں متعد ثبوت موجود ہیں اور شامی حکومت بارہا اس کے بارے میں انتباہ دے چکی ہے۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین