داعش،آل سعود اور امریکہ کا مشترکہ محاذ

داعش دہشت گرد گروہ کے حالیہ بیان سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ یہ گروپ ، امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر ، یمنی عوام کے خلاف جارحیت میں ملوث ہے اور یہ محض دونوں ممالک کے لئے ایک آلہ کار ہے۔

ولایت پورٹل:دہشت گرد گروہ داعش کے حالیہ بیان سے یمن کے عوام کے خلاف سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ دہشت گرد گروہوں کے تعاون کا ایک اور انکشاف ہوا ہے، داعش نے حال ہی میں اعلان کیا ہےکہ وہ شہر مأرب میں یمنی فوج اور عوامی کمیٹیوں کے خلاف جنگ میں حصہ لے رہی ہے  اور اخوان المسلمین کی یمنی شاخ حزب اصلاح کے عناصر ، سعودی فوج اور امریکہ کے ساتھ مل کر یمنی عوامی قوتوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔
 یمنی سپریم پولیٹیکل کونسل کے مشیر محمد فتاح نے کہا ہے کہ یمنی عوام کے خلاف جارحیت کے آغاز سے ہی داعش موجود تھی اور وہ اب بھی تعز اور عدن کے صوبوں میں جرائم کا ارتکاب کررہی ہے ، 26 ستمبر نیوز ویب سائٹ نے فتاح حوالے سے بتایا کہ  داعش یمن کے خلاف سعودی امریکی اتحاد کے لہ کاروں کے ایک حصے کے طور پرسرگرم ہےاور یہ تنظیم یمنی عوام کے خلاف بدترین جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے،اس گروپ کے حالیہ بیان نے ان جرائم کی تصدیق کی ہے۔
 یمن کے فوجی ماہر ، ابراہیم الوجیہ نے بھی زور دے کر کہا کہ یمن پر امریکی اور سعودی حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی  داعش کے عناصر کی ایک بڑی تعداد کو شام سے یمن منتقل کیا گیا  تاکہ وہ دوسرے دہشت گرد گروہوں ، خاص طور پر جنوبی صوبوں میں ، میں شامل ہوسکیں۔ الوجیہ نے کہا کہ سعودی جارحیت پسند اتحاد عام طور پر آئی ایس آئی ایس کو اپنے آخری ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، کیونکہ اس اتحاد سے وابستہ کرائے کے فوجی مأرب میں ناکام ہو چکے ہیں  اور داعش کا حالیہ بیان ان عناصر کے حوصلے بلند کرنا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین