میں نے ٹرمپ بے بہکاوے میں آکر کانگریس کی عمارت پر حملہ میں حصہ لیا؛سابق امریکی صدر کے ایک حامی کا اعتراف

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حامی کےوکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نےٹرمپ کے سازشی نظریہ کی وجہ سے امریکی کانگریس پر حملے میں حصہ لیا۔

ولایت پورٹل:امریکی کانگریس کے انفارمیشن بیس کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے مشہور حامیوں میں سے ایک کے وکیل جس نے کانگریس پر حالیہ حملے میں نمایاں کردار ادا کیا ، کا خیال ہے کہ ان کے مؤکل کو سابق امریکی صدر نے دھوکہ دیا تھا،ا نتھونی چانسلر کے وکیل ، جیک انجلی ، جنہیں کیو انن کا جادوگر بھی  کہا جاتا ہے ، نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی کانگریس پر حملے میں ملوث ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا،این بی سی میسوری کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ، انہوں نے کہا کہ انجلی کو بہت افسوس ہے ، کیونکہ نہ صرف انہیں صدر نے دھوکہ دیا تھا بلکہ وہ ایسی صورتحال میں تھے جہاں انہوں نے غلط فیصلے کیے تھے،ا مریکی کانگریس کا پر حملہ کرنے والا فرد جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مائیک پینس کے لیے دھمکی آمیز تحریر بھی اسی نے لکھی تھی،کہتے ہیں کہ ٹرمپ کے سازشی نظریوں کی کئی مہینوں سے تکرار کانگریس پر حملے اور میرے مؤکل کے اقدامات کی سب سے بڑی وجہ تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ  آئیےایک بار رونما ہونے والے واقعات پر ایک نظر ڈالتے ہیں ،امریکی صدر کی جانب سے مہینوں جھوٹ ، غلط بیانیوں اور فریب دہانیوں نے ان کے حامیوں کو مشتعل کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ صدر نے ان لوگوں کو کانگریس پر حملہ  میں شامل ہونے کی دعوت دی،ا نجلی ، جس کو امریکی کانگریس پر حملے کے دوران بہت توجہ حاصل کی تھی ، کو امریکی پولیس نے نو جنوری کو کانگریس پر حملہ میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
یادرہے کہ  کانگریس پر حملے میں حصہ لینے والے کچھ مظاہرین نے ٹرمپ کے دور اقتدار کے خاتمے سے قبل صدارتی معافی کی امید کی تھی ، لیکن کسی کو بھی معاف نہیں کیا گیا، امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے کانگریس پر حملے کے سلسلے میں 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین