میں نے سوچا ایرانیوں نے امریکی کانگریس پر حملہ کر دیاہے:امریکی سنیٹر

امریکی سینیٹ میں  صوبۂ مائن کی نمائندہ سین سوسن کولنز کا کہنا ہے  کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی کانگریس پر حملہ کیا تو انہوں نے ابتدا میں سوچا تھا کہ ایرانیوں نے امریکی کانگریس پر حملہ کیا ہے  لیکن بعد میں ایک پولیس افسر کی وضاحت کے بعد پتہ چلا کہ ٹرمپ کے حامیوں نے حملہ کیا ہے۔

ولایت پورٹل:امریکی  ریاست مائن کی نمائندہ سین سوسن کولنز نے ریاست کے ایک مقامی اخبار میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی کانگریس پر حملہ کیا  تو مجھے ایسا لگا کہ کہ ایرانیوں نے کانگریس پر حملہ کرنے کی اپنی دھمکی پر عمل کیا ہے جیسا کہ امریکی میڈیا نے دعوی کیا تھا لیکن ایک پولیس افسر مائک پر وضاحت کی کہ مظاہرین پرتشدد ہیں ،وہ کانگریس کے آس پاس کی تمام رکاوٹوں کو توڑ کر عمارت میں داخل ہوئے ہیں۔
یادرہے کہ گذشتہ بدھ کو ٹرمپ کے حامیوں کے امریکی کانگریس پر حملے کے دوران ایک پولیس افسر سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے، اس واقعے کے بعد  امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں متعدد ڈیموکریٹس نے نائب صدر مائیک پینس اور ان کی کابینہ کے ممبروں کے ذریعہ ٹرمپ کو امریکی آئین میں 25 ویں ترمیم کو عمل میں لاکرکے ہٹانے کا مطالبہ کیا  اور دھمکی دی کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو ٹرمپ کا مؤاخذہ کیا جائے گا،قابل ذکر ہے کہ  امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم کے ذریعے ٹرمپ کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے ڈیموکریٹس کے بار بار مطالبات کے باوجود  مائک پینس اور ٹرمپ انتظامیہ کے اراکین ابھی تک ایسا کرنے سے گریزاں ہیں۔
دوسری طرف ، کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ کو استعفی دینے پر مجبور کرنے کی کوششیں بھی تعطل کا شکار ہوچکی ہیں، جمعہ کے روز ، سی این این نیوز چینل نے وائٹ ہاؤس کے مشیروں کے حوالے سے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا استعفیٰ دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ اپنے حامیوں کی جانب سے کانگریس پر حملہ کرنےمیں خودکو قصوروار نہیں سمجھتے ہیں ۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین