مجھے ٹرمپ کا نام لینا بھی گورا نہیں:بائیڈن

امریکی صدر نے ایک جلسہ عام میں کہا کہ وہ سابق صدر کے بارے میں بات کرنے سے تنگ آچکے ہیں،انھیں ٹرمپ کا نام لینا بھی گوارا نہیں۔

ولایت پورٹل:ہل نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے آج ایک عوامی جلسے میں اس ملک کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے مواخذے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے بارے میں بات کرنے سے تھک چکے ہیں، بائیڈن نے  اجلاس کے دوران کہا کہ پچھلے چار سالوں تک  جو کچھ خبروں میں دیکھا گیا تھا وہ ٹرمپ ہی تھا اب میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ اگلے چار سالوں میں تمام خبریں امریکی عوام کے بارے میں ہوں ، میں ٹرمپ کے بارے میں بات کرتے تھک گیا ہوں۔
بائیڈن نے اپنے ملک کورونا کی حالت کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں پچھلی انتظامیہ کی طرف سے ورثے میں ملا ہے جس میں ویکسین پلانے کے لئے کافی افراد موجود نہیں ہیں اور امریکیوں کو قطرے پلانے کے لئے بہت کم وفاقی حل ہیں، نئےامریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ جب وہ دفتر میں داخل ہوئے تو ان کے پاس ویکسین نہیں تھی،قابل ذکر ہےبائیڈن نے 20 جنوری 2021 کو اپنے حلف برادری کے بعد ٹرمپ کا نام بھی نہیں لیا یہاں تک کہ انہوں نے ایک موقع پر ٹرمپ کو "سابق شخص" کہا۔
یادرہے کہ  ہفتے کے روز سینیٹ میں ٹرمپ کی دوسرے مواخذہ کی سماعت ہوئی جس میں پھر بری ہوگئے،واضح رہے کہ امریکی صدارتی انتخابات کے انتخابی ووٹوں کی تصدیق کے روز امریکی کانگریس پر حملے کے معاملے میں ٹرمپ کو مواخذہ کرنے کے لئے امریکی سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ میں  57 سینیٹرز نے ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ 43 سینیٹرز نے اس کی مخالفت کی تھی اور اس لئے 67 ووٹ کم ہونے کی وجہ سے یہ مؤاخذہ نہیں ہوسکا اور ٹرمپ کو بری کردیا گیا،تاہم ریپبلکن سینیٹرز کے ذریعہ ٹرمپ کو مواخذے کے الزامات سے بری کیے جانے کے باوجود  ڈیموکریٹس نے ابھی تک ان کے حامیوں کے ذریعہ کانگریس پر حملہ کا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین