لاطینی امریکہ میں بھوک دو دہائیوں کی سب سے بڑی سطح پر پہنچ چکی ہے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے مطابق لاطینی امریکہ اور کیریبین میں دسیوں ملین افراد بھوک اور قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ولایت پورٹل:روئٹرز خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ لاطینی امریکا اور کیریبین میں لاکھوں افراد بھوک سے مر رہے ہیں کیونکہ کورونا کی وبا جاری ہے، نیوٹریشن اینڈ فوڈ سکیورٹی  کے سلسلہ میں اقوام متحدہ کی علاقائی رپورٹ کے مطابق صرف ایک سال یعنی 2019 سے 2020 تک اس خطے میں بھوک سے مرنے والوں کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ یہ تعداد تقریباً 14 ملین افراد کے برابر ہے۔
 دریں اثنا، کورونا وبا کے بحران نے لوگوں کی صحت کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ خطے کی معیشت پر بھی بڑے منفی اثرات مرتب کیے ہیں، خاص طور پر چھوٹے کاروبار بند ہونے کی وجہ سے، اقوام متحدہ کے مطابق 2020 میں تقریباً 42 فیصد خواتین کو درمیانی سے لے کر شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑا جبکہ یہ اعداد و شمار مردوں کے لیے 32 فیصد بتائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اس وقت خطے میں تقریباً 60 ملین افراد بھوک کا شکار ہیں، جس کی 2000 کے بعد سے کوئی مثال نہیں ملتی، اس دوران وسطی امریکی ممالک جیسے گوئٹے مالا اور وینزویلا کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے
واضح رہے کہ  اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے اس سے قبل نومبر کے وسط میں خبردار کیا تھا کہ سال کے آغاز سے اب تک قحط کے خطرے سے دوچار دنیا کی آبادی تین ملین سے بڑھ کر 45 ملین ہو گئی ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین