انسانی حقوق کی تنظیم کا بن سلمان سے دو شہزادوں کی رہائی کا مطالبہ

عرب دنیا کے لئے جمہوریت نامی انسانی حقوق کی تنظیم نے دو سعودی شہزادوں کی نظربندی کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے سعودی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی نظر بندی کی جگہ کا اعلان کریں۔

ولایت پورٹل:الخلیج الجدید نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق  عرب دنیا کے لئے جمہوریت نامی انسانی حقوق کی تنظیم نے سعودی عہدیداروں سے 38 سالہ پرنس سلمان آل سعود جنہیں غزالان کے نام سے جانا جاتا ہے  اور ان کے والد  شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن محمدکے نظربندی کی جگہ کا اعلان  اور انھیں  فورارہا کرنے کے لیے کہا ہے،جمعہ کے روز ایک بیان میں  اس گروپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سابق مشیر سعود القحطانی پر ان شہزادوں کی حراست میں شریک ہونے کا الزام عائد کیا،اس تنظیم کے مطابق  سعود القحطانی کی سربراہی میں ، محمد بن سلمان کی تشکیل کردہ "سیف الاجبرب" کے نام سے ایک سعودی خصوصی سکیورٹی فورس نے شہزادہ غزالان کو گرفتار کیا۔
واضح رہے کہ  شہزادے کی گرفتاری کے دو دن بعد محمد بن سلمان نے عبد العزیز ابن سلمان کی گرفتاری کا حکم دیا  اور انھیں بغیر کسی الزام کے گرفتار کرلیا گیا،قریبی ذرائع کے مطابق  سعود القحطانی کی سربراہی میں سیف الاجبر فورس کے ممبروں نے شہزادہ غزالان کو شاہی محل میں طلب کرنے کے بعد انھیں زدوکوب کیااس کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جس کے بعد کوئی نہیں جانتا کہ ان پر کیا گذری۔
یادرہے کہ شہزادہ سلمان جنوری 2018 کے وسط تک تقریبا دو ہفتے ہوٹل میں رہے جہاں سے آل سعود  کےسرکاری سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں الہائیر جیل منتقل کردیا۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین